ہم جنس پرست انڈین جوڑا: عدالتی فیصلے کے باوجود ہم جنس پرست انڈین جوڑا اب بھی اپنے خاندانوں سے خوف زدہ کیوں؟

Adhila Nassrin and Fathima Noora

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشنہم جنس برست جوڑے نے کہا ہے کہ وہ عدالت کے حکم کے بارے میں بہت 'پرجوش' ہیں۔
    • مصنف, میریل سیبیسٹیئن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دلی

انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ کی ایک عدالت کے فیصلے کی وجہ سے ایک نوجوان ہم جنس پرست جوڑے کے دوبارہ ملاپ ممکن تو ہوا ہے لیکن انھیں اب بھی اپنے خاندانوں کی طرف سے دھمکیوں کا خوف ہے۔

22 برس کی عدیلہ نسرین نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ ان کی ساتھی کو ان کے اہلِ خانہ نے اغوا کر لیا تھا۔ عدالت نے پیر کو فیصلہ سنایا کہ نسرین اور ان کی 23 برس کی ساتھی فاطمہ نورا ایک ساتھ رہنے کے لیے آزاد ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ عدالتی حکم پر بے انتہا ’پرجوش‘ ہیں لیکن وہ اب بھی اپنے آپ کو ’مکمل طور پر آزاد‘ نہیں سمجھتیں۔

ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی کے اراکین کو سنہ 2018 میں ہم جنس پرستی کو جرم قرار دینے کے خلاف آنے والے تاریخی عدالتی حکم کے باوجود انڈیا میں اب بھی بڑے پیمانے پر تعصب اور دشمنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اگرچہ ملک میں عمومی رجحان سے مختلف افراد کے کے حقوق کی حمایت اور حفاظت کے لیے ایک ولولہ انگیز اور متحرک تحریک موجود ہے لیکن اس کا اثر عمومی طور پر چند بڑے شہروں میں زیادہ نظر آتا ہے۔

عدیلہ نسرین اور فاطمہ نورا نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ سعودی عرب میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ان کی ملاقات ہوئی اور اُنھیں ایک دوسرے سے محبت ہو گئی تھی۔

جبکہ وہ کئی سالوں سے ایک ساتھ رہ رہی تھیں اور انھوں نے اپنے تعلقات کے بارے میں اپنے خاندانوں کو صرف پچھلے ماہ پہلی مرتبہ بتایا تھا۔

نورہ نے منگل کو ایک نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے ان تمام سالوں میں اپنے گھروں میں شدید گھٹن محسوس کی۔‘

The couple said they were happy with the support they had received from the media, the court, and several people.

،تصویر کا ذریعہVanaja Collective via Facebook

،تصویر کا کیپشنہم جنس پرست عورتوں کے جوڑے کا کہنا تھا کہ انہیں بہت سے لوگوں کی حمایت ملی ہے۔

تاہم جوڑے نے کہا کہ جب انھوں نے اپنے تعلقات کا انکشاف کیا تو انھیں اپنے اپنے خاندانوں کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے بعد انھوں نے شمالی کیرالہ کے ضلع کوزی کوڈ میں ایل جی بی ٹی کیو (LGBTQ) کمیونٹی اور دیگر پسماندہ کمیونٹیز کے لیے پناہ گاہ ’وناجا کلیکٹو‘ میں پناہ لی۔

جوڑے نے بتایا کہ وہ نسرین کے والدین کے ساتھ گھر واپس آنے پر رضامند ہو گئے اور وعدہ کیا کہ انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ تاہم انھوں نے دعویٰ کیا کہ کچھ روز بعد نورہ کے گھر والے انھیں زبردستی لے گئے۔

اس کے بعد نسرین نے پولیس کو شکایت درج کروائی اور عدالت سے رجوع کیا، اور اپنی درخواست میں دونوں خواتین کو ایک ساتھ رہنے کی اجازت مانگی۔

یہ بھی پڑھیے

منگل کو فاطمہ نورہ عدالت میں پیش ہوئیں اور کہا کہ وہ اپنے ساتھی کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے چند لمحوں میں ان کے مقدمے کا فیصلہ ان کے حق میں سنا دیا۔

سنہ 2018 میں کیرالہ ہائی کورٹ نے ایک اور ہم جنس پرست جوڑے کے مقدمے میں فیصلہ سنایا تھا کہ ہم جنس پرست جوڑا ایک ساتھ رہ سکتا ہے جب ان میں سے ایک نے الزام لگایا کہ اس کے ساتھی کو اس کے خاندان نے زبردستی اغوا کر کے اس سے جدا کر لیا تھا۔

اپنے حق میں سنائے گئے اس تازہ فیصلے کے بعد عدیلہ نسرین نے ایک ڈیجیٹل اخبار ’دی کوئنٹ‘ کو بتایا کہ یہ سارا عمل ان کے لیے بہت ’مشکل‘ تھا اور وہ جذباتی طور پر بری طرح مجروح تھیں۔

فاطمہ نورا نے ایک مقامی ٹی وی چینل کو بتایا کہ ’ہمیں معلوم تھا کہ ہمیں ایک ساتھ رہنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑے گی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’لیکن ہمیں جس قسم کی میڈیا، عدالت اور کئی دوسرے لوگوں سے حمایت ملی اس کی ہمیں توقع نہیں تھی۔‘