برطانیہ میں مر جانے والے ہم جنس پرستوں کے لیے معافی کا اعلان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی حکومت نے ان ہزاروں ہم جنس پرست مردوں کو جنھیں قانون تبدیل ہونے سے قبل جنسی جرائم میں مجرم قرار دیا گیا تھا کے لیے موت کے بعد معافی کا اعلان کیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ برطانیہ میں ہم جنس پرستی کے قانون میں تبدیلی سے قبل ہم جنس پرستی کے جرم میں مجرم قرار دیے جانے والے تمام افراد کو باقاعدہ معافی دی جائے گی۔
وزیر انصاف سیم گیامہ نے اس موقع پر کہا ہے کہ ’یہ اقدام انتہائی اہم تھا۔‘
اس کے تحت حکومت کی جانب سے 2013 میں دوسری جنگ عظیم کے دوران قانون توڑنے والے ایلن ٹرنگ کو معافی دی جانے کے عہد کا احترام کرنا ہے۔
اس اقدام کے تحت ’ٹرنگ لا‘ تمام مرے ہوئے افراد جو ہم جنس پرستی کے تحت مجرم قراد دیے گئے تھے کو معافی مل جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہPA
جو افراد زندہ ہیں اور اس جرم میں مجرم قرار دے گئے ہیں وہ بھی اپنے نام خارج کروانے کے لیے محکمہ داخلہ سے رجوع کر سکتے ہیں۔
جیسے ہی ان کے ناموں کو اس فہرست سے خارج کیا جائے گا ان کو بھی قانون کے تحت معافی دے دی جائے گی۔
وزیر انصاف سیم گیامہ کا کہنا تھا کہ ’یہ اقدام انتہائی اہم تھا کہ اہم ان افراد کو کو معافی دیں جو تاریخ میں جنسی جرائم کے تحت مجرم قرار دیے گئے تھے لیکن وہ آج کے دور میں بے گناہ ہوتے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنسی جرائم کے ایکٹ کے تحت 21 سال سے زائد عمر کے مردوں میں ہم جنس پرستی کو جرم قرار دینے کا قانون انگلینڈ اور ویلز میں 1967 میں ختم کر دیا گیا تھا۔
تاہم سکاٹ لینڈ میں اس قانون میں 1980 تک کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی جبکہ شمالی آئرلینڈ میں یہ قانون 1982 تک نافذ تھا۔
واضح رہے کے ایلن ٹرنگ کو 2013 میں قانونی طور پر معافی دی جانے کے بعد سے بڑے پیمانے پر ایسی معافی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔









