بھنور لال جین: انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش میں ’مسلمان ہونے کے شبہے میں‘ ذہنی طور پر بیمار شخص کی ہلاکت کا واقعہ

بھنور لال

،تصویر کا ذریعہKAMLESH SARADA

،تصویر کا کیپشنوائرل ویڈیو سے بھنور لال کی لی گئی تصویر

انڈیا کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع نیمچ میں ایک ذہنی طور پر بیمار معمر شخص کی پٹائی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ان کی لاش ملی ہے جس سے علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔

ویڈیو میں موجود تفصیلات اور ابتدائی تحقیقات کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس شخص کو مبینہ طور پر مسلمان ہونے کے شبہے میں ہلاک کیا گیا ہے۔

ویڈیو میں جس شخص کی پٹائی کی جا رہی ہے اس کی شناخت بھنور لال جین کے طور پر کی گئی ہے جو رتلام کے سرسی تھانہ کے تحت جاوڑا گاؤں کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔

ویڈیو میں معمر شخص کی پٹائی کرنے والے شخص کی شناخت منسا کے رہنے والے دنیش کے طور پر کی گئی ہے۔ نیمچ پولیس نے دنیش کے بارے میں کہا ہے کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سابق کونسلر کے شوہر ہیں۔

نیمچ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سورج کمار ورما نے بی بی سی کے نمائندے سلمان راوی کو بتایا کہ دنیش کشواہا نامی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر مسلم ہونے کے شک پر اس بہیمانہ مار پیٹ کی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

بھنور لال کی لاش

بھنور لال جین کی لاش 19 مئی کی شام نیمچ کے مانسا میں رام پورہ روڈ کے کنارے سے برآمد ہوئی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لاش کو نامعلوم شخص کے طور پر پہلے ہی پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا گیا۔ لیکن بعد میں وائرل ویڈیو دیکھنے کے بعد اس کے گھر والے نیمچ پہنچے اور میت کی شناخت کی۔

ان کے بھتیجے وکاس وہورا کا کہنا ہے کہ بھنور لال جین بچپن سے ہی ذہنی پریشانی کا شکار تھے۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ راجستھان کے چتور گڑھ کی سیر کرنے گئے تھے۔ وکاس کے مطابق بھنور لال چتور گڑھ میں ہی خاندان سے الگ ہو گئے۔

وہ کہتے ہیں: 'ہم نے انھیں بہت تلاش کیا۔ لیکن وہ نہیں مل سکے، اس لیے ہم نے وہاں ان ک گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔' ایس پی سورج کمار ورما کا کہنا ہے کہ گمشدگی کی رپورٹ 16 مئی کو درج کی گئی تھی جب کہ لاش 19 مئی کو برآمد ہوئی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کا کہنا ہے کہ 'ویڈیو کس وقت کی ہے اس کی تصدیق کی جا رہی ہے، یہ درست ہے کہ مقتول ذہنی طور پر ٹھیک نہیں تھے۔'

نیمچ کے ایس پی اور کلکٹر جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہKAMLESH SARADA

،تصویر کا کیپشننیمچ کے ایس پی اور کلکٹر جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے

تاہم مقامی صحافی کملیش سرڈا کے مطابق یہ ویڈیو بدھ کو پہلی بار سوشل میڈیا پر سامنے آئی جبکہ لاش جمعرات کو برآمد ہوئی۔

وائرل ہونے والی ویڈیو میں کیا دیکھا جا سکتا ہے؟

ویڈیو میں دیکھا جا رہا ہے کہ لال شرٹ پہنے ایک شخص بھنور لال کو تھپڑ مار رہا ہے اور ان کا نام پوچھ رہا ہے۔ تھپڑ مارنے والے شخص کو بار بار آدھار کارڈ مانگتے دیکھا اور سنا جاتا ہے۔

ویڈیو میں تھپڑ مارنے والا شخص پوچھ رہا ہے کہ 'کیا نام محمد ہے؟ صحیح نام بتاؤ، آدھار کارڈ نکال دو۔' اس کے بعد وہ ایک کے بعد ایک تھپڑ مارتا نظر آتا ہے اور کہتا ہے 'آدھار کارڈ بتا'۔

اس کی باتوں سے لگتا ہے کہ اسے شک تھا کہ جس شخص کو وہ مار رہا ہے وہ کسی اور مذہب کا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ معمر شخص ٹھیک سے بول نہیں پا رہا ہے۔ اسے یہ کہتے ہوئے سنا جاتا ہے کہ پیسے لے لو۔

مرنے والے کے لواحقین حیران ہیں کہ ایک طرف ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے تو دوسری طرف پولیس لاش کی تصویر کو لاوارث قرار دے کر جاری کر رہی ہے۔

مرنے والے کے بھتیجے اجیت چتتر کا کہنا ہے کہ ان کے گھر والوں کا خیال ہے کہ بھنور لال کی موت مار پیٹ کی وجہ سے ہوئی ہے۔ تاہم نیمچ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سورج ورما کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ نہیں آئی ہے، اس لیے یقین سے کہنا مشکل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'مرنے والے ذہنی طور پر معذور تھے، موسم بھی کافی گرم ہے، یہ بھی معلوم نہیں کہ انھوں نے کچھ کھایا تھا یا نہیں، پھر یہ وائرل ویڈیو۔ ابھی کسی نتیجے پر پہنچنا مشکل ہے۔'

مرنے والے کے خاندان کے ایک اور رکن وکاس کا کہنا ہے کہ انھیں نیمچ پولیس کی جانب سے جاری کی گئی لاش کی تصویر سے معلوم ہوا اور پورا خاندان ان کی لاش نیمچ سے رتلام لے آیا۔

مرنے والے کا بھانجا وکاس وہورا

،تصویر کا ذریعہKAMLESH SARADA

،تصویر کا کیپشنمرنے والے بھنور لال جین کا بھانجا وکاس وہورا

وہ کہتے ہیں کہ 'جب شمشان گھاٹ میں آخری رسومات چل رہی تھیں، اسی وقت مار پیٹ کا ویڈیو ہمارے سامنے آیا۔ ہم دوبارہ نیمچ گئے، ہم نے مقامی پولیس اسٹیشن کو ویڈیو دکھایا۔ لیکن وہ کچھ نہیں کر رہے تھے۔ پھر گاؤں سے مزید لوگ پہنچے اور پولیس پر دباؤ ڈالا، پھر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔'

بھنور لال کے رشتہ داروں کا مطالبہ ہے کہ ویڈیو میں جو شخص پیٹتا ہوا نظر آرہا ہے اسے فوری گرفتار کیا جائے اور قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پولیس کو یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کے علاوہ کیا انھیں مارنے میں اور بھی لوگ شامل تھے؟

’اس زہر، جان لیوا نفرت کی بھٹی کو بی جے پی نے جلایا ہے‘

صحافی اجیت انجم نے لکھا کہ 'تھپڑ کھاتے اس بزرگ کی بیچارگی اور انھیں لگاتار مارنے وال شخص کی درندگی بے چین کرنے والی ہے۔ مودی جی پیروں جیسی بڑی بڑی باتیں کر رہے ہیں اور ان کی پارٹی کے لوگ مسلمان ہونے کے شبے میں کسی کی جان تک لینے سے نہیں ہچکچا رہے ہیں۔'

صحافی ابھیشیک بخشی لکھتے ہیں کہ لوگ دہشت زدہ ہیں کہ ایک جین شخص کو مسلمان ہونے کے شک میں مار دیا گیا۔ سب نے مسلمانوں کی وقتا فوقتا لنچنگ کو اطمینان سے قبول کر لیا تھا۔ اب وہ اس سلسلے کے الٹ جانے سے پریشان ہیں۔'

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@baxiabhishek

تاہم فیکٹ نیوز چیک کرنے والی سائٹ آلٹ نیوز کے شریک بانی اور صحافی محمد زبیر نے لکھا: ’بیف کھانے کے شبے میں قتل کیا گیا۔ بیف لے جانے کے شبے میں قتل کیا گیا۔ بچے کو اغوا کرنے والے کے شک میں قتل کیا گيا۔

’لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے شبے میں مار ڈالا گيا۔ ریپ کرنے والے کے شبے میں انکاؤنٹر کر دیا گیا۔ مسلمان ہونے کے شبے میں پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گيا۔ بھیڑ کا انصاف معمول بن گیا ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

صحافی عارفہ خانم نے لکھا کہ 'اگر آپ کو مسلمان ہونے کے شبے میں مار ڈالا جائے تو پھر تصور کریں کہ آج انڈیا میں اصل مسلمان ہونا کیسا ہے۔ ہم لوگوں کے بارے میں ذرا سوچيں کہ ہم موجودہ دور حکومت میں کس طرح جی رہے ہیں۔'

خانم

،تصویر کا ذریعہTwitter/@khanumarfa

صحافی نوامی بارٹن نے لکھا کہ 'عجیب بات ہے کہ یہ اس لیے وائرل ہے کہ انھوں نے 'سوچا' کہ وہ مسلمان تھا۔ اگر وہ واقعی مسلمان ہوتا تو یہ چند گھنٹوں میں خبر کی دنیا سے باہر ہو جاتا کیونکہ ایسا اب معمول ہے۔'

صحافی فاطمہ خان این ڈی ٹی وی کی نیوز کلپنگ شیئر کرتے ہوئے لکھتی ہیں: 'شہ سرخی پڑھیں اور دوبارہ دھیان سے پڑھیں۔ مسلمان ہونے کے شبے میں پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا۔ اب کسی بیف، کسی لو جہاد وغیرہ کے بہانے کی ضرورت نہیں۔ کوئی دکھاوا نہیں، کوئی ملمع نہیں، 2022 کا انڈیا۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے لیڈر جیتو پٹواری نے بھی اس واقعہ کے بارے میں ٹویٹ کیا ہے۔

'منسا (نیمچ) قتل۔ بھنور لال جین بعد میں مردہ پائے گئے۔ قاتل دنیش ہے، جو بی جے پی کے سابق کونسلر کا شوہر ہے۔ نریندر مودی، شیوراج سنگھ چوہان۔۔۔ پہلے دلت، پھر مسلم-آدیواسی (قبائلی) اور اب جین! اس زہر، جان لیوا نفرت کی بھٹی کو بی جے پی نے جلایا ہے۔ وزیر داخلہ کچھ کہیں گے؟‘