انڈیا: ٹرین میں ایک اور مسلم خاندان پر حملہ

ٹرین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں ریل گاڑی کا سفر کبھی دوستی اور ہم آہنگی کا موجب ہوتا تھا لیکن اب ایسا نہیں رہا

انڈیا میں ہجوم کے ہاتھوں مسلمانوں کو ہراساں کیے جانے کے واقعات بدستور جاری ہیں۔

ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں فرخ آباد کے پاس ایک ٹرین میں مسلم خاندان کی مبینہ طور پر شدید پٹائی اور ان کے ساتھ لوٹ مار کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

اس سے قبل عید کے موقعے پر دہلی کے پاس ایک 16 سالہ لڑکے جنید کو ہجوم نے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا تھا اور اس کے بھائیوں کو شدید زخمی حالت میں چھوڑا تھا۔

فرخ آباد حملے سے متعلق ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ریلوے پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ واقعہ بدھ کے روز کا ہے۔

متاثرین کو فرخ آباد کے رام منوہر لوہیا ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

اس واقعے میں ریلوے پولیس نے جمعرات کو کچھ افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ بھی کی تھی۔

دہلی مظاہرہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندہلی کے قریب عید سے قبل ایک ٹرین میں مسلمانوں پر ہونے والے حملے کے خلاف بڑی تعداد میں لوگوں نے مظاہرہ کیا تھا

جھانسی ڈویژن کے پولس سپرنٹنڈنٹ (جی آر پی) اوم پرکاش سنگھ نے بی بی سی کو بتایا: ’پوچھ گچھ اور ویڈیوز کی بنیاد پر پانچ لوگوں کی شناخت کر لی گئی ہے اور جلد ہی انھیں گرفتار کر لیا جائے گا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی تین ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

متاثر شخص محمد شاکر کی اہلیہ نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کے دلنواز پاشا کو بتایا کہ وہ اپنے بیٹے اور شوہر (شاکر) کے ساتھ گڑگاؤں سے قائم گنج جا رہی تھیں۔ ان کے ساتھ ان کے چار رشتہ دار بھی تھے۔

انھوں نے بتایا کہ 'فرخ آباد سے پہلے کچھ لڑکوں نے ٹرین ركوا‏ئی اور ان کی بوگی میں چڑھ گئے۔ ان لوگوں نے بے وجہ میرے معذور بیٹے کو مارنا شروع کر دیا جس کی پہلے ہی ایک حادثے میں ایک ٹانگ اور ہاتھ بیکار ہو چکے ہیں۔ اس کے دماغ میں چوٹ لگی تھی اور اس کی نیوروسرجری بھی ہو چکی ہے۔‘

ٹرین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں روزانہ لاکھوں لوگ ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے سفر کرتے ہیں اور بدلے ہوئے سماجی ماحول میں ان کا تحفظ حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہے

انھوں نے مزید بتایا: 'جب ہم نے انھیں روکا تو وہ ہمیں مارنے پیٹنے لگے۔ اس کے بعد ساتھ کے مسافروں نے انھیں بوگی سے باہر نکالا اور ساری کھڑکیاں دروازے بند کر لیے۔ لیکن وہ لوگ ایمرجنسی کھڑکی سے پھر کوچ کے اندر گھس آئے۔

شاکر کی بیوی کا الزام ہے کہ 'حملہ آوروں نے ان کے موبائل اور زیورات چھین لیے۔ حملہ آوروں نے ان کے ساتھ بدتميزي کی اور مار ڈالنے کی دھمکی بھی دی۔

دہلی کے صحافی زین شمشی نے اپنے ایک فیس بک پوسٹ 'ٹرین کا سماج بھی ویسا نہیں رہا' میں اپنی حالیہ روداد بیان کی ہے کہ کس طرح انھوں نے اپنی اہلیہ اور بچیوں کے ساتھ خوف کے سائے میں بہار کے مونگیر سے دہلی تک کا سفر کیا۔