انڈیا کی ریاست آسام میں گائے چوری کے الزام میں دو مسلمان نوجوان ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈیا میں گائے کے تحفظ کے نام پر ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ واقعہ شمال مشرقی ریاست آسام کے نوگاؤں ضلع کا ہے جہاں گائے چوری کے الزام میں مقامی لوگوں نے دو نوجوانوں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔
نوگاؤں ضلعے کے کاساماری علاقے میں رونما ہونے والے اس سانحے کے شکار دو مسلمان نوجوان ہیں۔
صحافی دلیپ کمار شرما کے مطابق مرنے والے دونوں نوجوانوں کا تعلق مسلمان برادری سے ہے جس کی وجہ علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے۔
پولیس کے مطابق بھیڑ میں شامل لوگوں کا کہنا تھا کہ دونوں نوجوان كاساماری کے پاس ایک مخصوص چراگاہ سے گائے چوری کر کے لے جا رہے تھے۔
نوگاؤں کے پولس سپرنٹینڈنٹ دیب راج اپادھیائے نے بتایا کہ 'جب پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو وہاں ہجوم دونوں نوجوانوں کو لاٹھیوں سے پیٹ رہا تھا۔'
انھوں نے صحافی دلیپ کمار شرما کو بتایا: 'پولیس ان دونوں کو علاج کے لیے فوراً ہسپتال لے گئی لیکن شدید چوٹوں کی وجہ سے دونوں نے دم توڑ دیا۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس سپرنٹینڈنٹ نے بتایا کہ ہجوم نے انھیں ڈیڑھ کلومیٹر تک یعنی نوگاؤں تھانہ کے علاقہ كاساماری سے جاجوری پولیس تھانے دوڑایا اور ان کا پیچھا کیا۔
مرنے والے نوجوانوں کی شناخت ابو حنیفہ اور رياض الدين علی کے طور پر کی گئی ہے۔ دونوں کی عمریں 20 سے 22 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہDILIP KUMAR SHARMA
اسے آسام میں رونما ہونے والا اس طرح کا پہلا واقعہ بتایا جا رہا ہے۔ البتہ ملک کے دوسرے حصوں میں ایسے کئی واقعے سامنے آ چکے ہیں۔ حال ہی میں راجستھان سے گائے لانے والے ہریانہ کے ایک تاجر کو گئو رکشکوں نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا تھا۔
مرنے والے نوجوانوں کے اہل خانہ کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے تاہم ابھی تک اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی گرفتاری کی اطلاع نہیں ہے۔
پولیس سپرنٹینڈنٹ نے معاملے میں منصفانہ تحقیقات کا یقین دلایا ہے۔
پولیس کے مطابق اس واقعہ میں اب تک گئو ركشک تنظیموں سے منسلک کسی بھی شخص کا نام سامنے نہیں آیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں نوگاؤں تھانے میں گائے چوری کی کئی شکایات درج کی گئی ہیں۔
خیال رہے کہ آسام میں بی جے پی اقتدار میں ہے اور اس نے اس سے قبل کئی ریاستوں میں گائے کے متعلق قوانین میں سختی کی ہے۔








