راجستھان: ’پولیس نہ آتی تو وہ ہمیں جلا کر مارنے والے تھے‘

حملے میں زندہ بچنے والے
،تصویر کا کیپشنحملے محں زحمی ہونے والے ایک شخص کی موت ہو چکی ہے

راجستھان کے الور میں مبینہ گاؤ ركھشكوں یعنی گائے کی حفاظت کرنے والوں کے حملے میں زخمی ہوئے ایک شخص پہلو خاں کی موت ہو چکی ہے۔

الور کے بہروڑ تھانے میں جے پور سے گائیں خرید کر ہریانہ کے نونہہ علاقے میں لیے جانے والے ایک گروپ پر ہفتے کی شام کو مبینہ گاؤ ركھشكوں نے حملہ کیا تھا۔

حملے میں بال بال بچنے والے عظمت نے کہا کہ پولیس نہ آتی تو حملہ آور انہیں جلا کر مارنے والے تھے۔

علاج کے دوران زخمیوں میں سے ایک پہلو خان کی منگل کو موت ہو گئی۔ اس معاملے میں پولیس نے کیس درج کر لیا ہے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ ویڈیو میں مبینہ گاؤركھشک پیسے لیتے ہوئے اور گائیں لے جانے لوگوں کو بری طرح پیٹتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

بہروڑہ
،تصویر کا کیپشنپوءیس کے مطابق اس سلسلے میں تین لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے

متاثرین نے حملہ آوروں کو گائے خریدنے کی دستاویزات بھی دکھائی تھیں۔

ان کی گاڑیوں کو نیشنل ہائی وے آٹھ پر جگواس کے پاس روکا گیا تھا۔

یہ گائیں جے پور کے پاس میونسپل سرکاری میلے سے خریدی گئی تھیں۔

ہلاک شدگان پہلو خان کے بیٹے حسین خان کے مطابق، دو گائیوں کی قیمت 85 ہزار روپے تھی جبکہ دو دیگر گائیوں کی قیمت 45 ہزار روپے تھی۔

الور کے بہروڑ تھانے کے سب انسپکٹر وجے تیواری نے مقامی صحافی آبھا شرما کو بتایا کہ اس معاملے میں منگل کو ہی 11 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

بہروڑہ
،تصویر کا کیپشنابھی یہ واضح نہیں کہ کیا متاثرین کو بھی مشکوک سمجھا جائے گا

کیس درج کرنے کے بعد پولیس کیا کارروائی کر رہی ہے اور کیس آگے کیسے بڑھے گا ابھی یہ واضح نہیں۔ بہروڑ پولیس کے مطابق اس سلسلے میں تین لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر دوسرے حملہ آوروں کی شناخت کی جا رہی ہے۔

متاثرین کو کسی طرح کی امداد مہیا کرائی جائے گی یا پھر انہیں بھی مشکوک سمجھا جا رہا ہے۔

اور ابھی تک یہ نہیں پتہ چلا ہے کہ حملہ آور کسی گاؤ ركھشا تنظیم سے وابستہ ہیں یا نہیں۔