انڈیا میں برُا کھانا پکانے پر خواتین کے قتل کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ: ’اوہو، دال میں تو نمک ہی نہیں‘

ناپسندیدہ کھانے پر بیویوں کے قتل

،تصویر کا ذریعہTasveer Hasan

    • مصنف, گیتا پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دِلی

گزشتہ مہینے انڈین پولیس نے ایک 46 سال کے شخص کو گرفتار کیا تھا جس پر الزام ہے کہ اس نے مبینہ طور پر کھانے میں نمک زیادہ ہونے کی وجہ سے اپنی بیوی کو قتل کر دیا۔

نکیش گاہگ ممبئی کے ایک بینک میں بطور کلرک کام کرتے ہیں۔ ایک پولیس اہلکار میلند دیسائی نے بی بی سی کو بتایا کہ کھچڑی میں نمک زیادہ ہونے پر نکیش نے اپنی بیوی کو گلا گھونٹ کر مار ڈالا۔

اس جوڑے کے 12 سال کے بیٹے نے یہ قتل ہوتے دیکھا اور اسی نے پولیس کو بتایا کہ اس کے والد نے نمک زیادہ ہونے پر اس کی والدہ نرملا کا پیچھا کیا اور بیڈ روم میں جا کر انھیں پیٹنا شروع کر دیا۔

پولیس اہلکار میلند دیسائی کے مطابق ’بچہ روتے ہوئے اپنے والد کو روکتا رہا مگر ملزم نے بیوی کو پیٹنا روکا نہیں اور رسی سے اس کا گلا گھونٹ ڈالا۔‘

بچے نے نکیش کے گھر سے نکل جانے کے بعد اپنی نانی اور ماموں کو فون کیا۔

میلند دیسائی بتاتے ہیں کہ ان کے جائے وقوعہ پر پہنچنے سے قبل خاتون کے اہلِخانہ انھیں ہسپتال لے گئے تھے لیکن وہاں پہنچنے تک خاتون کی موت ہو چکی تھیں۔

بعد میں ملزم نے تھانے جا کر گرفتاری دے دی۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ وہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہیں اور ملزم کو جیل بھیج دیا گیا۔

نرملا کے گھر والوں نے پولیس کو بتایا کہ نکیش گھاگ گزشتہ 15 دن سے اپنی بیوی سے بات بات پر جھگڑ رہے تھے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں اس حوالے سے نرملا یا ان کے گھر والوں کی طرف سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

انڈیا میں برُا کھانا پکانے پر جھگڑوں اور شوہروں کے ہاتھوں اپنی بیویوں کے قتل کی خبریں معمول کی بات ہیں۔

ناپسندیدہ کھانے پر بیویوں کے قتل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

حالیہ عرصے میں بھی ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں:

  • جنوری میں دلی کے نواحی علاقے نوئیڈا میں ایک شوہر نے مبینہ طور پر اس وقت اپنی بیوی کو قتل کر دیا تھا جب اس نے کھانا دینے سے انکار کیا۔
  • جون سنہ 2021 میں اترپردیش میں ایک شخص کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس نے بیوی کو مبینہ طور پر کھانے کے ساتھ سلاد نہ دینے پر قتل کر دیا۔
  • اس واقعے کے چار ماہ بعد بنگلور میں ایک شوہر نے اس وقت مبینہ طور پر اپنی بیوی کو مار مار کے ہلاک کر دیا جب اس نے مرغی کا سالن ٹھیک طرح سے نہیں پکایا تھا۔
  • سنہ 2017 میں بی بی سی کی ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ ایک 60 سال کے شخص نے اپنی بیوی کو اس وقت گولی مار دی تھی جب اس نے کھانا پکانے میں دیر کر دی تھی۔

حقوقِ نسواں کی سرگرم کارکن مدھاوی کچریجا کہتی ہیں کہ اس قسم کی اموت کی خبروں تو آ جاتی ہیں لیکن اصل میں ایسے تمام واقعات ’خواتین پر تشدد‘ کو ظاہر کرتے ہیں جسے عام طور پر لوگوں کی نظروں سے اوجھل رکھا جاتا ہے۔

انڈیا میں شوہروں کے ہاتھوں بیویوں پر تشدد کے واقعات کی خبروں میں گزشتہ کئی برس سے مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ایسے واقعات کی شکایت ’شوہر یا اس کے رشتہ داروں کی طرف سے اذیت‘ کی قانونی اصلاح کے تحت درج کرائی جاتی ہیں۔ اس حوالے سے دستیاب سنہ 2020 کے اعداد وشمار کے مطابق اس برس کے دوران پولیس کے پاس بیویوں کو اذیت دینے کے ایک لاکھ 12 ہزار 292 واقعات کا اندراج ہوا یعنی تقریباً ہر پانچ منٹ میں ایک واقعہ۔

لیکن شادی شدہ خواتین پر تشدد کے واقعات محض انڈیا تک محدود نہیں ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق عالمی سطح پر ہر تین میں سے ایک خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اکثر واقعات میں خواتین کے شوہر یا بوائے فرینڈ ملوت ہوتے ہیں۔ انڈیا کے اعدادوشمار بھی اس سے ملتے جلتے ہیں۔

خواتین کے حقوق کے تحفظ اور صنفی امتیاز کے خلاف کام کرنے والے کارکنوں کی مشکل یہ ہے کہ انھیں خاموشی سے تشدد سہنے کی روایت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ خواتین کی ایک بڑی اکثریت گھریلو تشدد کو جائز سمجھتی ہے۔

خواتین، خودکشی، انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس حوالے سے حکومتی سطح پر کیے جانے والے ’فیملی ہیلتھ سروے ‘کے اعدادوشمار کو سب سے زیادہ مستند سمجھا جاتا ہے اور اس جائزے کے نتائج پریشان کن ہیں۔

جائزے کے مطابق تشدد پر خاموش رہنے کی روایت ملک کے طول و عرض میں پائی جاتی ہے۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ آندھرا پردیش اور تلنگانا کی ریاستوں میں 84 فیصد خواتین، تامل ناڈو میں 78 فیصد، کرناٹکا میں 77، منی پور میں 66، ناگالینڈ میں 24، پنجاب میں 23، اتراکھنڈ میں 22، ریاست دلی میں 18، اور ہماچل پردیش میں 15 فیصد خواتین مخصوص حالات میں خواتین پر تشدد کو جائز سمجھتی ہیں۔

بحیثیت مجموعی اس جائزے میں حصہ لینے والی 40 فیصد خواتین اور 38 فیصد مردوں نے سروے کرنے والے سرکاری اہلکاروں کو بتایا کہ اگر کوئی بیوی اپنے سسرال والوں کی بے عزتی کرتی ہے، گھر یا بچوں کو نظر انداز کرتی ہے، شوہر کو بتائے بغیر باہر نکل جاتی ہے، ہم بستری سے انکار کرتی ہے یا کھانا ٹھیک نہیں پکاتی اور اس کا شوہر اسے مارتا پیٹتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

سروے میں حصہ لینے والی خواتین میں سے 77 فیصد سے زیادہ نے بیویوں پر تشدد کو حق بجانب قرار دیا۔

جن ریاستوں میں یہ سروے کیا گیا، ان میں سے اکثر میں مردوں کی نسبت زیادہ خواتین نے بیویوں پر تشدد کو جائز قرار دیا اور ماسوائے ریاست کرناٹکا کے تمام ریاستوں میں مردوں کی نسبت زیادہ خواتین کا کہنا تھا کہ اگر بیوی اچھا کھانا نہیں پکاتی اور شوہر اسے مارتا پیٹتا ہے تو یہ کوئی بُری بات نہیں۔

انڈیا میں برطانوی غیر سرکاری تنظیم آکسفیم کی سربراہ امریتا پِتری کہتی ہیں کہ اگرچہ اس سروے میں گزشتہ برس کے مقابلے میں اعدادوشمار میں کمی آئی لیکن لوگوں کے رویے تبدیل نہیں ہوئے۔ اس سے پچھلے سال 52 فیصد خواتین اور 42 فیصد مردوں نے بیویوں پر تشدد کو جائز قرار دیا تھا۔

خواتین، خودکشی، انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عورتوں پر تشدد اور اس کی وجوہات کا تعلق پدرسری معاشرے کی روایات سے ہے۔ امریتا پِتری کا کہنا تھا کہ ’انڈیا میں صنفی بنیاد پر تشدد کو قبول عام حاصل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں عورتوں کو ایک کمتر مخلوق سمجھا جاتا ہے۔‘

’کسی عورت کا رویہ کیا ہونا چاہیے، اس حوالے سے معاشرتی نظریات اپنی جگہ پر قائم ہیں۔ مثلاً کئی دیگر چیزوں کے علاوہ عورت کو ہمیشہ مرد کے طابع رہنا چاہیے، فیصلہ سازی کا حق مرد کو دے دینا چاہیے، مرد کی خدمت کرنی چاہیے اور اسے ہمیشہ مرد سے کم پیسہ کمانے چاہیے۔‘

’ان روایات کے خلاف کام کرنے کے لیے قبولیت بہت کم ہے۔ چنانچہ اگر کوئی خاتون ان روایات کو چیلنج کرتی ہے اور شوہر اسے بتاتا ہے کہ ’عورت کی اصل جگہ کیا ہے‘ تو لوگ سمجھتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔‘

مردوں کے مقابلے میں زیادہ خواتین بیویوں پر تشدد کو جائز کیوں سمجھتی ہیں، امریتا کے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ ’صنفی رویوں کا تعین پدرسری روایات کرتی ہیں اور خواتین بھی ایسے ہی رویے اپنا لیتی پیں اور ان کے خیالات بھی معاشرے اور خاندان کے رنگ میں ڈھل جاتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

مِس کچریجا ’وننگانا‘ کے نام سے ایک خیراتی ادارہ بھی چلاتی ہیں جو گزشتہ 25 برس سے شمالی انڈیا میں ملک کے پسماندہ ترین علاقوں میں تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کی مدد کر رہا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اس علاقے میں نئی دلہنوں کو سب سے زیادہ دیا جانے والا مشورہ یہ ہے کہ ’تم اپنے نئے گھر میں ڈولی میں جا رہی ہو، اب وہاں سے تمہارا جنازہ ہی نکلنا چاہیے۔‘

یہی وجہ ہے کہ اکثر خواتین، جن پر تشدد معمول بن چکا ہوتا ہے، وہ بھی تشدد کو اپنی قسمت کا لکھا سمجھتی ہیں اور اس بارے میں کسی سے بات نہیں کرتیں۔

مِس کچریجا کے مطابق ’اگرچہ گزشتہ عشرے میں ایسے واقعات کی شکایات درج کرانے میں اضافہ ہوا ہے لیکن اب بھی انڈیا میں بیویوں پر تشدد کی خبریں بہت کم ہی منطر عام پر آتی ہیں۔‘

’ایسے واقعات کی شکایات اور ان کا اندراج ایک مشکل کام ہے۔ اکثر لوگ اب بھی یہی کہتے ہیں کہ ’گھر کی بات گھر میں رہنی چاہیے‘ چنانچہ خواتین کے پولیس کے پاس جانے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔‘

خواتین، خودکشی، انڈیا

،تصویر کا ذریعہTasveer Hasan

،تصویر کا کیپشنوننگانا کے زیر اہتمام انڈیا کے ایک پسماندہ علاقے میں ایسی عورتوں کو پناہ بھی دی جاتی ہے

اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اگر بیویاں اپنا سسرال چھوڑ دیتی ہیں تو ان کے پاس جانے کی کوئی اور جگہ نہیں ہوتی۔

’اکثر والدین نہیں چاہتے کہ ان کی بیٹی گھر واپس آ جائے کیونکہ انھیں بدنامی کا خوف ہوتا ہے۔ اکثر اوقات چونکہ ماں باپ خود غریب ہوتے ہیں، ان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ وہ بیٹی کو بھی کھلا سکیں۔ ایسی خواتین کی مدد کے لیے کوئی نظام نہیں، پناہ گاہیں بہت کم ہیں اور بے گھر ہو جانے والی عورتوں کو خیرات سے زیادہ پیسے نہیں ملتے۔ صرف 500 روپے سے 1500 روپے تک اور اتنے پیسوں میں بچوں کو تو چھوڑیں اکیلی عورت بھی گزارہ نہیں کر سکتی۔‘

وننگانا کی موجودہ سربراہ پُشپا شرما نے مجھے ان دو عورتوں کے بارے میں بتایا جنھیں ان کے شوہروں نے گزشتہ ماہ مار پیٹ کے بچوں سمیت گھر سے نکال دیا تھا۔

’ان دونوں واقعات میں شوہروں نے اپنی بیویوں کو پڑوسیوں کے سامنے مارا پیٹا اور بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے گھر سے باہر نکال دیا تھا۔ دونوں شوہروں کا الزام تھا کہ ان کی بیویاں کھانا ٹھیک نہیں پکاتیں لیکن یہ بہانہ شکایتوں کے انبار میں ہمیشہ شامل ہوتا ہے۔ اصل مسئلہ کچھ بھی ہو اور گھریلو تشدد کی وجہ کچھ بھی ہو، شکایات کی تان اکثر کھانے پر ہی ٹوٹتی ہے۔‘

پُشپا شرما نے مجھے بتایا کہ کسی بھی خاتون کو ’اس بات پر بھی تشد کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے کہ اس نے ’مرد وارث‘ کی بجائے ایک بیٹی کو جنم دیا۔ اس کے علاوہ اسے گہری رنگت یا خوبصورت نہ ہونے، زیادہ جہیز نہ لانے پر بھی مارا پیٹا جا سکتا ہے یا یہ کہ شوہر نشے میں تھا، جب شوہر گھر لوٹا تو بیوی نے فوراً کھانا یا پانی نہیں دیا، کھانے میں زیادہ نمک ڈال دیا یا نمک ڈالنا بھول گئی۔‘

وننگانا کے کارکنوں نے سنہ 1997 میں ’مجھے جواب دو‘ کے عنوان سے ایک ڈرامہ بھی بنایا تھا جس کا مقصد گھریلو تشدد کے حوالے سے لوگوں میں شعور بیدار کرنا تھا۔

مِس کچریجنا کو یاد ہے کہ اس ڈرامے کا آغاز اس فقرے سے ہوتا تھا ’اوہو، دال میں تو نمک ہی نہیں۔‘

’ہماری 25 برس کی مہم کے بعد بھی بہت کم تبدیلی آئی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم شادی کے بندھن میں بندھے رہنے پر بہت زور دیتے ہیں۔ ہماری تمام کوششیں یہی ہوتی ہیں کہ شادی نہ ٹوٹے۔ یہ ایک مقدس رشتہ ہے اور اسے ہمیشہ قائم رہنا چاہیے۔‘

’اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں خواتین کو مضبوط بنانا ہو گا۔ انھیں کوئی مجبوری نہیں ہونی چاہیے کہ وہ مار پیٹ برداشت کرتی رہیں۔‘