دانش آزاد انصاری: اترپردیش میں بی جے پی کے واحد مسلمان وزیر جو کسی ایوان کے رکن نہیں

،تصویر کا ذریعہANI
- مصنف, دلنواز پاشا
- عہدہ, نمائندہ بی بی سی، نئی دہلی
انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے دوسری بار وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا ہے۔
گذشتہ روز ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں منعقدہ حلف برداری کی تقریب میں ان کے ساتھ 52 وزرا نے حلف لیا، جن میں دو نائب وزیر اعلیٰ، 16 وزرائے کابینہ، 14 وزرائے مملکت (آزادانہ چارج) اور 20 وزرائے مملکت شامل ہیں۔
اتر پردیش کی کل آبادی کا تقریباً 20 فیصد مسلمان ہیں جبکہ حکومت میں صرف ایک مسلمان کو وزیر کا عہدہ سونپا گيا ہے اور اس واحد وزیر کا نام دانش آزاد انصاری ہے۔
دانش آزاد انصاری اتر پردیش کے بلیا ضلع کے رہنے والے ہیں اور بی جے پی کی سٹوڈنٹ ونگ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) سے وابستہ ہیں۔
اس سے قبل والی یوگی حکومت میں بھی صرف ایک مسلم وزیر تھے اور ان کا نام محسن رضا تھا۔ دانش آزاد انصاری کی عمر 32 سال ہے اور وہ اے بی وی پی کے رکن کے طور پر لکھنؤ یونیورسٹی میں طلبہ کی سیاست کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہDANISH AZAD
لکھنؤ یونیورسٹی سے تعلیم
دانش کے رشتہ دار پنٹو خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے دادا محمد طحہٰ انصاری سکھ پورہ گاؤں کے ایک جونیئر ہائی سکول میں استاد تھے اور آس پاس کے گاؤں میں ان کی بڑی شہرت تھی۔ دادا کا اثر دانش آزاد پر رہا ہے اور انھیں دادا کے نام سے ہی پہچان ملی۔‘
دانش کے والد کا نام سمیع اللہ انصاری ہے اور وہ بھی بلیا میں رہتے ہیں۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں اپایل کے پرائمری سکول سے حاصل کی۔
بلیا سے 12ویں کلاس مکمل کرنے کے بعد دانش انصاری نے سنہ 2006 میں لکھنؤ یونیورسٹی سے ہی کام کیا۔ یہاں سے انھوں نے ماسٹر آف کوالٹی مینجمنٹ اور ماسٹر ان پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دانش انصاری نے جنوری سنہ 2011 میں طلبہ تنظیم اے بی وی پی میں شمولیت اختیار کی۔ واضح رہے کہ دانش آزاد اسمبلی انتخابات میں امیدوار بھی نہیں تھے اور وہ کسی بھی ایوان کے رکن نہیں۔
اترپردیش میں بی جے پی نے کسی بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اے بی وی پی میں سرگرم ہونے کی وجہ سے انھیں یہ عہدہ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
دانش کو جاننے والوں کا کہنا ہے کہ یہیں سے وہ سیاست میں سرگرم ہوئے اور ان کے نام کے ساتھ ’آزاد‘ کا اضافہ کر دیا گیا کیونکہ وہ آزادی سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے۔
پنٹو خان کہتے ہیں کہ ’اے بی وی پی میں شامل ہونے کے بعد دانش نے اپنی پہچان بنانا شروع کی۔ وہ کھل کر بات کرتا تھا اور لوگوں کو متاثر کرتا تھا۔ یہیں سے آزاد بھی ان کے نام کے ساتھ جڑ گيا۔‘

،تصویر کا ذریعہDANISH AZAD
مسلم نوجوانوں میں آر ایس ایس کی تشہیر
دانش نے قوم پرست جماعت بی جے پی اور ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کے نظریات کو مسلم نوجوانوں میں پھیلانا شروع کیا۔
انھوں نے مسلم نوجوانوں میں سنگھ کے نظریہ کو پھیلانے کا کام کیا اور اسی سے ان کی نئی شناخت بنی۔ انھیں پارٹی کے اقلیتی شعبے کا ریاستی جنرل سیکرٹری بھی بنایا گیا۔
روایتی مسلمان گھرانے سے تعلق
دانش اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے ہیں اور شادی شدہ ہیں۔ ان کی ایک بہن بھی ہے اور وہ بھی شادی شدہ ہے۔ 32 سال کے دانش کی ابھی تک کوئی اولاد نہیں۔
دانش کا تعلق ایک روایتی مسلم خاندان سے ہے جو اپنے معاشرے میں اچھی شناخت رکھتا ہے۔ دانش کے والدین حج کر چکے ہیں اور صوم صلوٰۃ کے پابند بتائے جاتے ہیں۔











