اترپردیش کا الیکشن انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت کا امتحان کیوں؟

ریلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسات مرحلوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے اور ووٹوں کی گنتی 10 مارچ کو ہوگی

انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش میں رواں ہفتے کے آخر میں نئی حکومت کے انتخاب کے لیے سات مرحلوں میں الیکشن کا آغاز ہو رہا ہے، دہلی سے بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے بتاتی ہیں کہ ان انتخابات کی کیا اہمیت ہے۔

اترپردیش اہم کیوں ہے؟

اگلے ایک مہینے کے دوران انڈیا کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں لیکن سب کی نظریں اتر پردیش کے انتخابات پر لگی ہوئی ہیں۔

عام طور پر اترپردیش کو یو پی کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ انڈیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے، یعنی یہاں کی آبادی 24 کروڑ ہے۔

اور اگر یہ کوئی الگ ملک ہوتا تو یوپی آبادی کے لحاظ سے چین، انڈیا، امریکہ اور انڈونیشیا کے بعد دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہوتا۔ یہاں تک کہ یہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان، برازیل اور بنگلہ دیش سے بھی بڑا ہوتا۔

اس ریاست سے انڈیا کی پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ تعداد میں رکن پارلیمان جاتے ہیں۔ یہاں سے 80 رکن پارلیمان منتخب ہوتے ہیں، اور اسی لیے اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ جو پارٹی یہ ریاست جیتتی ہے وہی ملک پر حکومت کرتی ہے۔

انڈیا کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو سمیت کئی وزرائے اعظم یہاں سے آئے ہیں۔

اگرچہ موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کا تعلق مغربی ریاست گجرات سے ہے لیکن انھوں نے بھی سنہ 2014 کے عام انتخابات میں اپنے پارلیمانی کریئر کا آغاز اسی ریاست سے کیا اور وارانسی (بنارس) سے امیدوار ہوئے۔ سنہ 2019 میں وہ وہاں سے دوبارہ منتخب ہوئے۔

اور گذشتہ دو انتخابات میں رائے دہندگان نے ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو زبردست جیت سے ہمکنار کیا۔ سنہ 2014 میں، پارٹی نے یہاں 71 سیٹیں جیتی تھیں جبکہ سنہ 2019 میں اسے 62 سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔

یوگی اور مودی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوزیر اعلی یوگی کو نریندر مودی کی حمایت حاصل ہے

ریاست میں اہم کھلاڑی کون ہیں؟

سنہ 1990 کی دہائی کے آخر سے ریاستی سیاست پر علاقائی سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کا غلبہ رہا ہے۔ یہ دونوں پارٹیاں باری باری اقتدار میں آتی رہیں اور انھوں نے ملکی سطح کی پارٹی کانگریس اور بی جے پی کو حاشیے پر دھکیل دیا۔

لیکن سنہ 2017 میں بی جے پی نے پی ایم مودی کی مقبولیت اور کرشمے کر رتھ پر سوار ہو کر 403 ریاستی اسمبلی کی نشستوں میں سے 312 سیٹیں اور تقریباً 40 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے زبردست اکثریت حاصل کی۔

پارٹی نے ریاست کی قیادت کے لیے یوگی آدتیہ ناتھ کا انتخاب کیا۔ وہ انتہائی یکطرفہ اور متعصب خیالات کے حامل بتائے جاتے ہیں۔ وہ بھگوا (زعفرانی) پوشاک والے ہندو سادھو بن کر سیاست کے میدان میں آئے اور اپنے تفرقہ انگیز خیالات کے لیے مشہور ہیں۔ ریاست میں ہونے والے انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی 10 مارچ کو ہوگی اور انھیں امید ہے کہ وہ ایک بار پھر حکومت سازی کریں گے۔

ان کی مدد کرنے والے مسٹر مودی ہیں جنھوں نے حالیہ مہینوں میں ریاست کے تقریباً ایک درجن دورے کیے، اجتماعات سے خطاب کیے اور ووٹروں کو بی جے پی کو ایک اور موقع دینے کی تلقین کی۔

اگرچہ پچھلے سال پارٹی نے زراعت کے متعلق متنازع قوانین پر بہت کچھ کھویا ہے۔ حکومت کو اس قانون کو کسانوں کے ایک سال کے احتجاج کے بعد ختم کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت کی طرف سے گذشتہ سال کووڈ 19 کی عالمی وبا سے نمٹنے میں ناکامی بھی اس کی راہ میں حائل ہے۔

وبا کی دوسری لہر کے دوران سینکڑوں لاشیں دریائے گنگا میں تیرتی نظر آئیں۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ان لوگوں کی ہیں جنھوں نے کورونا وائرس سے اپنی جانیں گنوائیں۔

اور اگرچہ وبائی مرض کے دوران مفت راشن فراہم کرنے پر حکومت کو سراہا گیا ہے، لیکن نوجوانوں میں ملازمتوں کی کمی اور بے لگام مہنگائی کی وجہ سے ریاست میں عدم اطمینان پایا جاتا ہے۔

اکھلیش یادو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناکھلیش یادو ریاست کے سابق وزیر اعلی ہیں

بہرحال انتخابی جلسوں میں 49 سالہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کافی ملازمتیں پیدا کرنے، معیشت کو فروغ دینے اور ریاست میں امن و امان کو بہتر بنانے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ وہ ہندو ووٹ حاصل کرنے کے لیے مسلم مخالف بیان بازی بھی کرتے رہے ہیں۔

آدتیہ ناتھ کو زبردست مقابلہ دینے والی 48 سالہ اکھلیش یادو کی قیادت والی سماج وادی پارٹی ہے۔ وہ سنہ 2017 میں بی جے پی کے ذریعے بے دخل ہوئے سابق وزیر اعلیٰ ہیں۔

یادو بی جے پی سے اقتدار چھیننے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں، اور انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو تمام گھرانوں کو مفت بجلی، غریب خواتین کے لیے پینشن اور کسانوں کو بلاسود قرض دیا جائے گا۔ کئی چھوٹی علاقائی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنے کے بعد ان کی جیت کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

دلت (سابقہ اچھوت) برادری کی مسیحا کہلانے والی مایاوتی کی زیرقیادت بی ایس پی بھی واپسی کی خواہاں ہے لیکن بہت سے لوگ ان پر شرط لگانے کو تیار نہیں ہیں۔ سنہ 2012 میں اقتدار سے محروم ہونے والی چار بار ریاست کی وزیر اعلیٰ اپنی برادری میں مقبول ہیں، لیکن اپنے پہلے دور کے دوران انھیں اپنے اور دیگر دلتوں کی نمائندگی کرنے والے مجسمے بنانے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اب وہ ایک دہائی سے اقتدار سے باہر ہیں۔ جہاں انھیں ایک طرف دھکیل دیا گیا ہے وہیں انھوں نے اس انتخابی موسم میں اپنا ’لو پروفائل‘ برقرار رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بہت سی چھوٹی پارٹیاں بھی میدان میں ہیں اور اسی طرح انڈیا کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس بھی ہے۔ پرینکا گاندھی کی قیادت میں کانگریس نے اپنی پُرجوش مہم سے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔

انھوں نے ریپ اور پولیس کے مظالم کا شکار ہونے والوں کے اہل خانہ سے ملاقات کر کے خبریں بنائیں اور خواتین ووٹرز پر ان کی توجہ اخباروں کی سرخیاں بن رہی ہیں۔ اگرچہ ان کی اپنی کوشش زیادہ نظر آتی ہے لیکن زمین پر ان کی حمایت کم نظر آ رہی ہے۔

پرینکا گاندھی کا اپنا قد بڑا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپرینکا گاندھی کا اپنا قد بڑا ہے لیکن زمین پر ان کی پارٹی کو کم حمایت حاصل ہے

داؤ پر کیا لگا ہے؟

اپنے رقبے اور آبادی کی وجہ سے اتر پردیش ایک اہم انتخابی میدان جنگ ہے۔ اور میدان میں موجود پارٹیوں میں ان انتخابات کو ’کرو یا مرو‘ کی لڑائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سنہ 1989 کے بعد سے یہاں کسی بھی پارٹی نے مسلسل دوسری بار اقتدار حاصل نہیں کیا ہے۔ اس لیے بی جے پی اور مسٹر آدتیہ ناتھ اس سلسلے کو توڑنے کے خواہاں ہوں گے۔ انتخابی نتائج کو ان کی ہندو قوم پرستی کی سیاست پر ریفرنڈم کے طور پر بھی دیکھا جائے گا۔

مسٹر مودی کے لیے بھی یہ انتخابات اہم ہیں کیونکہ یوپی کو 2024 کے عام انتخابات سے پہلے ایک امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اگر بی جے پی یہاں ہار جاتی ہے تو اسے اس بات کی علامت کے طور پر دیکھا جائے گا کہ پارٹی اور وزیر اعظم کی مقبولیت ختم ہو رہی ہے۔

اکھلیش یادو کے لیے جیت بہت اہم ہے کیونکہ اقتدار سے باہر ایک اور میعاد ان کی پارٹی کے لیڈر کے طور پر ان کی پوزیشن کو کمزور کر سکتی ہے۔ نقصان سے ان کا وہ اتحاد بھی ختم ہو جائے گا جو انھوں نے چھوٹے علاقائی گروپوں کے ساتھ بنائے ہیں۔

مایاوتی کے لیے بھی جیت بالکل ضروری ہے۔ انھوں نے گذشتہ 10 سال سیاسی بیابان میں گزارے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر وہ اس بار بھی ہار جاتی ہیں تو شاید وہ کبھی واپس نہیں آسکیں گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کانگریس اس بار واقعی جیت کے لیے نہیں اتری ہے، لیکن امید کر رہی ہے کہ پرینکا گاندھی کی طرف سے لگائی گئی تمام محنت پارٹی کو بحال کرنے میں مدد کرے گی اور مستقبل میں اہم کردار ادا کرنے میں مدد ملے گی۔

مقابلہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images/BBC

انتخاب کے اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

403 نشستوں پر ہزاروں امیدوار میدان میں مد مقابل ہیں اور اپنے اپنے حصے کے لیے لڑ رہے ہیں۔

ایک ماہ پر محیط اور سات مراحل کے دوران ہونے والی ووٹنگ میں 15 کروڑ سے زیادہ ووٹرز 174,351 پولنگ مراکز پر اپنا ووٹ ڈالیں گے۔ انتخابات کے آزادانہ اور منصفانہ انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ہزاروں پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کیے جا رہے ہیں۔

لیکن اپنی سیاسی اہمیت کے باوجود یو پی انڈیا کی سب سے کم ترقی یافتہ ریاستوں میں سے ایک ہے اور ملک میں غریب لوگوں کی سب سے بڑی تعداد اسی ریاست میں آباد ہے۔

حال ہی میں جاری ہونے والے پہلے کثیر جہتی غربت انڈیکس کے مطابق، ریاست کی 37.79 فیصد آبادی غربت کی زندگی گزار رہی ہے، 44 فیصد سے زیادہ غذائیت کی کمی کا شکار ہے اور لاکھوں لوگوں کو اب بھی بیت الخلا تک رسائی نہیں ہے۔

ووٹرز کے پاس اپنے اظہار کا واحد طریقہ ان کا ووٹ ہے۔ اور انتخابات کے دوران وہ اسے استعمال کرنے کے لیے بڑی تعداد میں سامنے آتے ہیں، اکثر اقتدار میں رہنے والوں کے خلاف۔

انتخابات میں ووٹ ڈالے کی تاریخیں:

  • 10 فروری 58 سیٹوں کے لیے
  • 14 فروری 55 سیٹوں کے لیے
  • 20 فروری 59 سیٹوں کے لیے
  • 23 فروری 59 سیٹوں کے لیے
  • 27 فروری 61 سیٹوں کے لیے
  • 03 مارچ 57 سیٹوں کے لیے
  • 07 مارچ 54 سیٹوں کے لیے
  • ووٹوں کی گنتی 10 مارچ