انڈیا میں مسلمان: ٹوئٹر نے بی جے پی اکاؤنٹ سے پوسٹ کیا گیا متنازع کارٹون احتجاج کے بعد ہٹا دیا

@BJP4Gujarat

،تصویر کا ذریعہ@BJP4Gujarat

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹویٹر نے انڈیا میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے آفیشل اکاؤنٹس سے پوسٹ کیا گیا ایک متنازع کارٹون ’قوانین کی خلاف ورزی‘ کے بعد ہٹا دیا ہے۔

اس کارٹون کو بی جے پی گجرات کی جانب سے پوسٹ کرتے ہوئے 14 برس قبل (یعنی 2008) انڈین ریاست احمد آباد میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے 38 مسلمان مجرموں کو سزائے موت دینے پر عدلیہ کی تعریف کی گئی تھی۔

گجرات بی جے پی کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل @BJP4Gujarat سے پوسٹ کیے گئے اس متنازع کارٹون میں ٹوپیاں پہنے اور داڑھیوں والے افراد کو پھانسی چڑھتے دیکھایا گیا تھا اور ساتھ لکھا تھا ’ستیا میں وجیت‘ یعنی آخر میں سچ کی جیت ہوتی ہے اور ’دہشت گردی پھیلانے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔‘

یاد رہے کہ 18 فروری کو انڈین عدالت نے ریاست گجرات میں ہونے والے بم دھاکوں کے ملزمان کو سزائیں سنائی تھیں۔ اس کیس کے تمام 49 مجرم مسلمان ہیں، جن میں سے 38 کو موت اور 11 ملزمان کو عمرقید کی سزا سُنائی گئی ہے۔ سنہ 2008 میں ہونے والے ان دھماکوں میں 57 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

انڈیا اور پاکستان سمیت دنیا بھر سے اس پوسٹ پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور دنیا بھر سے لوگوں سے اسے ٹوئٹر پر رپورٹ کیا، جس کے بعد ٹویٹر کو یہ پوسٹ ہٹانا پڑی جبکہ گجرات بی جے پی کے انسٹاگرام اور فیس بک پر بھی یہ پوسٹ اب موجود نہیں ہے۔

ٹویٹر

،تصویر کا ذریعہTwitter

انڈین صحافی رانا ایوب نے امریکہ کے صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کی پارٹی بی جے پی کا ٹویٹر ہینڈل ہے۔ ’مودی اور اُن کی مسلم دشمنی کو بڑھاوا دینے کے ذمہ دار امریکہ اور دیگر ’جمہوری‘ ممالک ہیں۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’آپ کی خاموشی ہم سب کے ساتھ ناانصافی کا سبب بن رہی ہے۔‘

’انڈیا میں مسلمانوں سے نازی جرمنی کے یہودیوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے‘

کچھ افراد نے حالیہ دنوں میں انڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ حکومتی سلوک کو نازی جرمنی میں یہودیوں سے ہونے والے سلوک سے تشبیہ دی۔

@asadowaisi

،تصویر کا ذریعہ@asadowaisi

کیرالہ سے ایڈویڈ نامی صارف نے بی جی پی کی جانب سے پوسٹ کیے گئے کارٹون کا موازنہ سنہ 1935 میں جرمنی میں شائع ہونے والے ایک کارٹون سے کیا جس میں یہودی، کمیونسٹ اور نازیوں کے دوسرے دشمنوں کو پھانسی کے تختے پر لٹکا دیکھا جا سکتا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ دیکھیں دوسری جانب انڈیا کی حکمران جماعت کے ٹویٹر ہینڈل سے کی گئی پوسٹ ہے۔

انڈیا میں حیدرآباد سے رکن پارلیمان اور مسلمانوں کے رہنما اسدالدین اویسی نے بھی انھی دونوں کارٹونز کو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ’یہ کارٹون جرمنی میں یہودیوں کی نسل کشی کے لیے استعمال کیے گئے۔ ہم بی جے پی سے کسی بہتری کی توقع نہیں رکھتے، لیکن کیا ہم یہ مان لیں کہ یہ بی جے پی کے ووٹروں کو راغب کرتا ہے؟‘

ڈاکٹر سنگیتا مہا پترا نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ ٹویٹ دہشت گردوں کے بارے میں نہیں ہے۔ آپ نے صرف مسلمانوں کو دکھایا ہے۔ آپ نے مسلمانوں کو دہشت گرد دکھا کر بہت بُرا تاثر دیا ہے۔‘

سنگیتا نے مزید لکھا کہ بی جے پی کے سرکاری ہینڈل سے کی گئی یہ ٹویٹ انڈیا میں رہنے والے ان لوگوں کے لیے بہت حیران کُن اور انتہائی ناگوار ہے جو کسی قسم کی فرقہ وارانہ سوچ نہیں رکھتے۔

sangeetamptra

،تصویر کا ذریعہ@sangeetamptra

مصنف سلمان انیس نے گجرات پولیس نے پوچھا کہ کیا وہ مسلمانوں کو پھانسی کے قابل قرار دینے والی توہین آمیز پوسٹ کے لیے بی جی پی گجرات کے خلاف کوئی کارروائی کریں گے؟

انھوں نے پوچھا کہ ’کیا یہ اشتعال انگیزی نہیں؟ اگر ہندوؤں کو اس طرح دکھایا جائے تو کیا پولیس کارروائی نہیں کرے گی؟‘

ساتھ ہی انڈین پولیس سروس کو ٹیگ کرتے ہوئے انھوں نے پوچھا ’آپ آئین کے لیے کام کر رہے ہیں یا بی جے پی کے لیے؟‘

یہ بھی پڑھیے

آسٹریلیا سے آئن ولفورڈ نے بھی بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا آپ کو بہت اچھی طرح پتا ہے کہ آپ کیا پیغام دے رہے ہیں۔ گجرات میں بی جے پی پارٹی کے آفیشل اکاؤنٹ ہوتے ہوئے آپ اپنے 1.5 ملین فالورز کو نسل کشی کا پیغام دے رہے ہیں۔

انھوں نے اسے حیران کُن قرار دیا اور لکھا ’آپ نے ایک گھٹیا حرکت کی ہے اور دنیا بھر سے اس کی مذمت ہونی چاہیے۔‘

@SalmanSoz

،تصویر کا ذریعہ@SalmanSoz

پاکستان میں بھی اس ٹویٹ پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔

صحافی حامد میر نے ٹویٹ کیا کہ ’انتہا پسند حکمران جماعت سب مسلمانوں کو پھانسی پر لٹکانے کا عزم رکھتی ہے جبکہ پاکستان کے مسلمان ایک دوسرے کی جان کے درپے ہیں اور یہاں کے ارباب اختیار بھی اختلافی آوازوں کو قتل کرنے کے لیے نئے نئے حربے اختیار کر رہے ہیں۔‘

ثنا سعید نے لکھا ’ہجوم کے ہاتھوں مسلمانوں کو مارنے کی وکالت کرنے والی یہ تصویر گجرات بی جے پی نے اپنے پلیٹ فارمز پر شیئر کی ہے۔ بی جے پی انڈیا کی حکمران جماعت ہے، گجرات وہی ریاست ہے جہاں مودی کے دورِ حکومت میں 2002 میں مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا تھا۔ امریکہ کی ملی بھگت سے انڈیا میں نازی ازم پروان چڑھ رہا ہے۔‘

احمد آباد دھماکے

26 جولائی 2008 کو ایک ہی گھنٹے کے دوران احمد آباد کے مختلف علاقوں میں 20 بم دھماکے ہوئے تھے جن میں سے کچھ رہائشی علاقوں میں ہوئے جبکہ کچھ کا ہدف بازار اور ہسپتالوں کے قریبی علاقے بھی تھے۔

ان دھماکوں کے علاوہ پولیس کو بعد میں مزید کئی ایسے بم بھی ملے جو پھٹ نہیں سکے تھے۔ دھماکوں کی ذمہ داری ’انڈین مجاہدین‘ نامی تنظیم نے میڈیا کو بھیجی جانے والی ایک ای میل میں قبول کی تھی۔

ان دھماکوں کے سلسلے میں 78 افراد کے خلاف مقدمہ چلا تھا جن میں سے ایک ملزم ایاز سعید نے بعد میں تفتیشی اداروں کی مدد کی تھی۔

کیس سننے والے سپیشل جج اے آر پٹیل نے حکام کو یہ حکم بھی دیا کہ وہ متاثرین کے خاندانوں کو ایک ایک لاکھ روپے معاوضہ ادا کریں۔