حق کے لیے آواز اٹھانے کے بعد افغان خواتین لاپتہ: ’طالبان میرے گھر تک پہنچ گئے ہیں، میری مدد کریں‘

Tamana Zaryabi Paryani
    • مصنف, کوئنٹن سومروائل
    • عہدہ, بی بی سی نیوز کابل

طالبان سرگوشی میں بھی دھمکی دے سکتے ہیں۔ 20 سال کی پُرتشدد جدوجہد اور دسیوں ہزار شہریوں کی جانوں کے ضیاع کے بعد انھوں نے وحشیانہ طاقت کا استعمال کرتے ہوئے کابل کا اقتدار سنبھالا ہے۔ اس کے باوجود افغان خواتین طالبان کے کسی خوف میں نہیں آ رہی ہیں۔

تمنا زریابی پریانی ان خواتین میں سے ایک ہیں۔ مسلح افراد کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے بہت ہمت کی ضرورت ہوتی ہے جو آپ کی زندگی میں حاصل ہونے والی تمام کامیابیوں میں سے تقریباً ہر چیز کو چھین لینا چاہتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے کے آخر میں وہ ملک میں خواتین کے ملازمت اور تعلیم کے حق کا مطالبہ کرنے کے لیے درجنوں دیگر لوگوں کے ساتھ طالبان کے خلاف احتجاج کا حصہ بنیں۔ طالبان جنگجوؤں نے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے ان پر پیپر سپرے کیا اور متعدد افراد کو بجلی کے جھٹکے بھی دیے گئے تھے۔

اس مظاہرے میں شامل چند خواتین اپنے مطالبات کے لیے اپنی آواز بلند کر کے واپس گھروں میں آگئیں۔ ان میں سے چند کو یہ خدشہ تھا کہ طالبان ان کا تعاقب کر رہے تھے۔ بدھ کی رات آٹھ بجے، مسلح افراد کابل کے ’پروان 2‘ علاقے میں تمنا کے اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے۔ وہ اس وقت اپنی بہنوں کے ساتھ گھر میں تنہا تھیں۔

وہ مسلح افراد زور زور سے دروازہ پیٹ رہے تھے۔ اس دوران تمنا نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’براہ مہربانی مدد کریں، طالبان میرے گھر تک پہنچ گئے ہیں، میری بہنیں گھر پر ہیں۔‘

وہ ان افراد پر چیخ کر بولی ’ہم تمھیں اب یہاں نہیں چاہتے۔ پھر تمنا نے التجا کی کہ ’واپس جاؤ، ہم کل بات کر سکتے ہیں۔‘ اس ویڈیو کے آخر میں تمنا نے کہا کہ ’آپ رات کے اس وقت لڑکیوں سے نہیں مل سکتے۔ مدد کریں، طالبان میرے گھر آ گئے ہیں۔‘

گذشتہ برس 15 اگست کو طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ملک کی خواتین کو یہ شکایت ہے کہ وہ اب اپنے ہی گھروں میں قید ہیں۔ اور وہاں بھی وہ محفوظ نہیں ہیں۔

ایسے گھر میں جہاں صرف خواتین ہی ہوں داخل ہونا افغان ثقافت کی بھی خلاف ورزی ہے۔ لیکن اقتدار سنبھالنے کے بعد جب طالبان نے خواتین پولیس اہلکاروں کو برطرف کیا پھر ان کے خواتین سے پوچھ گچھ کے لیے خواتین اہلکار دستیاب نہیں ہیں۔

تمنا پریانی دو دن سے لاپتہ ہیں۔ میں ان کے اپارٹمنٹ میں گیا تاکہ ان کا کوئی پتا لگانے کی کوشش کروں۔ گھر کے اندر کوئی نہیں تھا۔ سامنے کے دروازے پر ایک بڑے بوٹ کا نشان اب بھی نظر آ رہا تھا۔

Women in Kabul, 27 December

،تصویر کا ذریعہEPA

پڑوسیوں نے بتایا کہ تمنا پریانی کو ان کی دو بہنوں کے ساتھ لے جایا گیا تھا، اور اس کے بعد سے کوئی بھی اپارٹمنٹ میں نہیں آیا ہے۔ وہ صرف اتنا کہیں گے کہ ’ایک مسلح گروہ‘ ان دو بہنوں کو لے گیا ہے۔

اس رات دیگر خواتین مظاہرین کو بھی ہدف بنایا گیا۔ ایک اور خاتون پروانہ ابراہیم خیل بھی تب سے لاپتہ ہیں۔ تاہم طالبان نے ان الزام کی تردید کی ہے کہ وہ انھیں اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

جمعرات کو بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں، سہیل شاہین، جو اقوام متحدہ میں طالبان کے سفیر بننے کی امید رکھتے ہیں، نے کہا: ’اگر [طالبان] نے انھیں حراست میں لیا ہوتا تو وہ کہتے کہ انھوں نے انھیں حراست میں لیا ہے، اور اگر یہ الزام ہے تو وہ عدالت جائیں گے اور وہ اپنا دفاع کریں گے۔۔۔ یہ قانونی چیز ہے، لیکن اگر انھیں حراست میں نہیں لیا گیا، اور وہ بیرون ملک سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے اس طرح کے جعلی سین بنا رہی ہیں اور فلموں کی شوٹنگ کر رہی ہیں۔‘

تمنا پریانی کی ایک سہیلی نے ایک الگ ہی کہانی سنائی۔

بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’میں نے ان سے کہا جتنا جلدی ممکن ہو سکتا ہے اپنا گھر چھوڑ دیں، اس بات کو زیادہ سنجیدگی سے لیں کہ آپ خطرے میں ہیں۔۔۔ جب میں گھر پہنچی تو ایک دوست، ایک احتجاج کرنے والی دوست۔۔۔ میں اس کا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ وہ رو رہی تھی کہ تمنا کو طالبان نے گرفتار کر لیا ہے اور اس نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی ہے۔‘

یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا حکام ان خواتین کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں یا نہیں۔

اقوام متحدہ کی تشویش

افغانستان میں اقوام متحدہ کے دفتر کا کہنا ہے کہ اسے دو افغان خواتین کی گمشدگی سے متعلق تشویش ہے، جو اپنے کام اور تعلیم جیسے حقوق کے لیے مظاہروں میں شریک ہوئیں۔ اقوام متحدہ نے طالبان رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ لاپتہ کی گئی خواتین سے متعلق معلومات دے۔

دنیا کے بیشتر ممالک طالبان کو افغانستان کا جائز حکمران تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ کابل پر مغربی ممالک کی طرف سے عائد پابندیوں کی وجہ سے ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی فاقہ کشی کا شکار ہو رہی ہے۔

طالبان کے دور حکومت میں افغانستان دنیا کا واحد ملک بن گیا ہے جو عوامی طور پر جنس کی بنیاد پر تعلیم کو محدود کرتا ہے، جو کہ طالبان کی قانونی حیثیت حاصل کرنے اور پابندیوں سے جان چھڑانے کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔ اس مسئلے کو اجاگر کرنے والی خواتین کی طرف سے باقاعدہ احتجاج طالبان کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔

اس سے قطع نظر کہ تمنا پریانی، ان کی بہنیں اور ان کے دوست کس کے پاس ہیں، طالبان افغان خواتین کو اجتماعی طور پر سزائیں دے رہے ہیں۔

گذشتہ 20 برسوں کے دوران یہاں کی خواتین نے زیادہ آزادانہ زندگی گزارنے کے لیے ثقافتی اور خاندانی تعصب کو ترک کر دیا ہے۔ کئی دہائیوں کی پیشرفت کو طالبان تباہ کرنے کے لیے پُرعزم دکھائی دیتے ہیں۔