افغانستان میں طالبان: خواتین کے اکیلے سفر کرنے اور گاڑیوں میں موسیقی چلانے پر پابندی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان میں طالبان حکام نے کہا ہے کہ ملک میں طویل سفر کرنے والی خواتین کو اب اکیلے سفر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی اور اس نوعیت کے سفر میں ان کے ساتھ کسی نہ کسی قریبی مرد رشتہ دار کا ہونا لازمی ہو گا۔
طالبان حکام نے کہا ہے کہ جو خواتین اکیلے طویل سفر کرنا چاہتی ہیں، انھیں سفر کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت نہیں ملے گی۔
یہ ہدایات طالبان کی وزارت برائے ’اخلاقیات اور برائی کی روک تھام‘ کی جانب سے جاری کی گئی ہیں۔
وزارت کے ترجمان صادق عاکف مہاجر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جن خواتین نے 72 کلومیٹر (یا 45 میل) سے زیادہ فاصلے کا سفر کرنا ہے انھیں اب اپنے کسی مرد رشتہ دار کے بغیر سفر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے علاوہ گاڑیوں کے مالکان سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی بغیر حجاب خاتون کو اپنی گاڑیوں میں بیٹھنے کی اجازت نہ دیں۔
تاہم انسانی حقوق کے کارکن افغان طالبان کے ان فیصلوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اُن کا موقف ہے کہ طالبان کی حجاب کی تشریح ابھی تک واضح نہیں ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ حجاب کی تشریح سر کے بالوں کو ڈھانپنے سے لے کر چہرے یا پورے جسم کو ڈھانپنے تک مختلف ہو سکتی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چونکہ زیادہ تر افغان خواتین پہلے ہی اپنے سروں پر سکارف لیتی ہیں اس لیے ان ہدایات کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
گاڑیوں میں موسیقی چلانے پر پابندی
خواتین کے اکیلے سفر کرنے پر پابندی کے علاوہ طالبان حکام نے ملک میں موسیقی اور ٹیلی ویژن سیریلز کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا ہے کہ ’آئندہ سے لوگ اپنی گاڑیوں میں موسیقی نہ چلائیں۔‘ اس سے قبل طالبان نے ٹی وی چینلز کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ اپنے چینلز پر ایسے سیریل اور ڈرامے دکھانا بند کر دیں جن میں خواتین اداکاری کرتی ہوں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے ساتھ ساتھ نیوز سے وابستہ خواتین ٹی وی صحافیوں کو بتایا گیا کہ وہ حجاب کے بغیر ٹی وی پر پروگرام پیش نہیں کر سکتیں۔
واضح رہے کہ رواں برس 15 اگست کو کابل پر قبضہ کے بعد طالبان نے یہ کہا تھا کہ وہ اپنے پہلے دور حکومت کی طرح اس مرتبہ خواتین کے حوالے سے سخت پالیسیاں نہیں اپنائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
’طالبان نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے‘
افغانستان پر طالبان کے دوبارہ قبضے کے بعد سے بی بی سی ورلڈ سروس کے ایڈیٹر برائے جنوبی ایشیائی امور ایتھیراجن امبراسن نے طالبان کی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھا ہے۔
وہ کہتے ہیں اگست کے وسط سے افغانستان میں برسر اقتدار آنے کے بعد سے طالبان حکام بتدریج خواتین پر پابندیاں بڑھا رہے ہیں۔
سابق افغان حکومت کے خاتمے کے بعد سے بیشتر صوبوں میں لڑکیوں کے سیکنڈری سکول اب بھی بند ہیں۔ طالبان کے ملک پر قبضے کے تقریباً ایک ماہ بعد لڑکیوں کو بہت سے شرائط کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی گئی۔ ان میں کلاس میں لڑکیوں اور لڑکوں کے الگ الگ بیٹھنے کا انتظام کرنے کی ہدایات دی گئیں تھیں۔

،تصویر کا ذریعہBEHESTA ARGHAND
اگرچہ مقامی طالبان حکام نے افغانستان کے کئی صوبوں میں لڑکیوں کے سکینڈری سکول دوبارہ کھولنے پر رضامندی ظاہر کی ہے لیکن وہاں اب بھی کئی لڑکیاں سکولوں سے باہر ہیں۔
طالبان کے افغانستان کے اقتدار پر دوبارہ قبضے کے بعد مغربی ممالک کی جانب سے مالی امداد کی بندش کے باعث اس وقت افغانستان کی مالی حالت بہت خراب ہو چکی ہے۔ کئی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان جلد ہی شدید قحط اور غربت کی لپیٹ میں آ سکتا ہے اور وہاں ایک انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔
قحط اور غربت سے بچنے کے لیے طالبان نے دنیا کے طاقتور ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ کم از کم اس کے منجمند بینک اکاؤنٹس پر سے پابندی اٹھا لیں۔ اس کے علاوہ کئی تنظیموں نے بھی دنیا سے افغانستان کی مدد کی اپیل کی ہے۔
ایتھیراجن کے مطابق عطیہ دینے والے ممالک نے طالبان سے کہا ہے کہ وہ صرف اسی صورت میں مالی مدد حاصل کر سکیں گے جب وہ خواتین کے حقوق کا احترام کریں گے۔
اس صورتحال کے پیش نظر دسمبر کے اوائل میں طالبان نے اپنے سپریم لیڈر کے نام سے ایک سرکاری فرمان جاری کیا تھا جس میں خواتین کے حقوق کو نافذ کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔ تاہم ان ہدایات میں کہیں بھی لڑکیوں کی تعلیم کا ذکر نہیں تھا۔
’امریکہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسری جانب طالبان حکومت کے نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور شیر محمد عباس ستانکزئی نے کہا ہے کہ امریکا کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ افغانستان اب ایک آزاد ملک ہے اور آزادانہ فیصلے کر رہا ہے۔
اتوار کو ایک اجلاس میں انھوں نے کہا کہ ’امریکی فوجی رات کے اندھیرے میں افغانستان سے چلے گئے تھے۔‘
ستانکزئی نے کہا کہ افغانستان اب آزاد ہے اور چار دہائیوں میں پہلی بار افغان باشندے گذشتہ چار ماہ سے آزادانہ طور پر اپنے فیصلے کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’دشمن یہ نہ سوچیں کہ افغانستان 40 سال کی جنگ سے کمزور ہو گیا ہے کیونکہ ہم ضرورت پڑنے پر مزید 40 سال تک لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
افغانستان کے نائب وزیر خارجہ نے بھی اعتراف کیا کہ روزانہ سینکڑوں افغان باشندے معاشی مسائل کی وجہ سے ملک چھوڑتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر سرحد پار کرنے میں ناکام رہتے ہیں یا راستے میں ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
انھوں نے پڑوسی ملک سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ممالک اپنی سرحدیں کھولیں اور افغان مہاجرین کے لیے ویزا قوانین میں نرمی کریں۔
خواتین کو دیے گئے حقوق کے بارے میں ستانکزئی کا کہنا تھا کہ افغان خواتین اور لڑکیوں کو نوکری اور تعلیم کا حق حاصل ہے لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ افغانستان کی ثقافت مغرب کی ثقافت سے مختلف ہے۔









