افغانستان میں طالبان: گذشتہ ایک دہائی کے دوران افغان خواتین کی زندگیاں کن نشیب و فراز سے گزریں؟

افغان لڑکیاں

،تصویر کا ذریعہLAURENCE BRUN /GAMMA-RAPHO VIA GETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنیہ تصویر کابل کی ہے جو سنہ 1972 میں لی گئی تھی
    • مصنف, سوشیلا سنگھ
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، نئی دہلی

جیسے ہی طالبان نے افغانستان کے شہر کابل پر قبضہ کیا تو وہاں پھیلنے والی افراتفری سے متعلق تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگیں۔

اس دوران کچھ ایسی پرانی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئیں جن میں چند افغان خواتین کو کابل کی سڑکوں پر منی سکرٹ پہنے خوشی خوشی دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ تصاویر سنہ 1970 کی دہائی کی ہیں۔ جن لوگوں نے ان تصاویر کو پوسٹ کیا وہ یہ بتانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اگرچہ اس ملک کے بیشتر لوگ مسلم روایات اور رسم و رواج کے پابند ہیں لیکن ماضی میں افغانستان کی خواتین کو اپنی پسند کی زندگی گزارنے کا پورا حق حاصل تھا۔

بہت سے لوگوں کو سنہ 1996 سے سنہ 2001 تک کا طالبان کا وہ دور بھی یاد ہے جب مردوں کے لیے داڑھی رکھنا اور خواتین کے لیے برقع پہننا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ طالبان نے ٹی وی، موسیقی اور سنیما پر بھی پابندی عائد کی تھی اور دس سال یا اس سے زیادہ عمر کی لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی تھی۔

طالبان کی حالیہ پیش قدمی کے بعد یہی خوف اور خدشات بیشتر لوگوں کے دل و دماغ پر چھائے ہوئے ہیں اور وہ سوچ رہے ہیں کہ آیا طالبان کے اس دور میں خواتین کی حالت ویسی ہی ہو جائے گی جیسا کہ پہلے دور میں تھی۔

طالبان کے دور میں خواتین پر سماجی، ذہنی اور جسمانی مظالم کی کہانیاں منظر عام پر آتی رہی ہیں، لیکن کیا وہاں خواتین کو وہ آزادیاں میسر تھیں جیسی کہ سوشل میڈیا پر پرانی تصاویر پوسٹ کر کے بیان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟

افغان لڑکیاں

،تصویر کا ذریعہV. SEYKOV/KEYSTONE/GETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنیہ تصویر سنہ 1978 کے افغانستان کی ہے

سنہ 1970 کی دہائی کی تصویر

کیلیفورنیا میں رہنے والی انڈین نژاد ڈاکٹر ہما احمد گھوش نے کچھ عرصہ قبل افغانستان میں خواتین پر ایک تحقیقی مقالہ لکھا تھا۔ وہ تحقیق کے سلسلے میں سنہ 2003 سے سنہ 2013 تک مسلسل افغانستان کا دورہ کرتی رہی ہیں۔

ہما احمد سان ڈیاگو سٹیٹ یونیورسٹی میں شعبہ خواتین کی پروفیسر ہیں۔ وہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں ’میرا پہلا غیر ملکی دورہ کابل کا تھا۔ جب میں دہلی کے جے این یو میں تعلیم حاصل کر رہی تھی تو میں پہلی بار سنہ 1978 اور 1979 میں کابل گئی تھی۔‘

فون پر گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ کابل ایک بہت ہی خوبصورت شہر تھا اور یہ شہر بہت حد تک مغربی (مغربی ممالک کی طرح) لگتا تھا۔

وہ کہتی ہیں ’یہ وہ وقت تھا جب کابل میں اپر کلاس سے تعلق رکھنے والے مرد اور عورتیں مغربی کپڑوں میں ملبوس نظر آتے تھے۔ یہ لوگ تعلیم یافتہ تھے۔ کابل کے کچھ حصوں میں مغربی طرز زندگی کی مکمل جھلک نظر آتی تھی۔ لیکن جب ہم کابل سے باہر بامیان، غزنی گئے تو وہاں ہم نے کوئی بنیاد پرستی تو نہیں دیکھی لیکن خواتین کو اپنے آپ کو مکمل طور پر ڈھانپے ہوئے دیکھا۔ ان کے سروں پر سکارف تھے۔ وہاں کا معاشرہ روایتی تھا اور وہاں غربت بھی دکھائی دے رہی تھی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ کابل میں پہلی بار انھوں نے انٹرنیشنل ریوالونگ ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے لزانیا (ایک قسم کا پاستا) کھایا۔ ان کے مطابق غیر ملکی برانڈز جو اس وقت انڈیا میں دستیاب نہیں تھے کابل میں دستیاب تھے۔ انھوں نے کابل سے اپنے لیے جینز اور اپنے دوستوں کے لیے غیر ملکی کاسمیٹکس بھی خریدی تھیں۔

ہما احمد گھوش

،تصویر کا ذریعہHUMA AHMED GOSH

،تصویر کا کیپشنہما احمد گھوش

منقسم معاشرہ

آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن سے وابستہ کبیر تنیجہ کا کہنا ہے کہ 1970 کی دہائی میں افغانستان میں کمیونسٹ حکومت تھی اور بہت زیادہ آزادی تھی۔ اس وقت کی کابل کی تصاویر تاثر دیتی ہیں کہ آپ لندن یا پیرس کی پرانی تصاویر دیکھ رہے ہیں۔

لیکن اگر آپ پورے افغانستان کا جائزہ لیں تو معاشرے کی ایسی تصویر ملک کے دوسرے علاقوں سے نہیں ملتی ہے۔

مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر کبیر تنیجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’افغانستان میں ایک طرح کی تقسیم نظر آتی تھی۔ ماضی میں جو کابل یا دوسرے بڑے شہروں میں تھے، وہ کماتے تھے، اور ان کے ہاں جدیدیت تھی۔ جو حقوق وہاں مردوں کو حاصل تھے وہی عورتوں کو بھی حاصل تھے، لیکن یہ باتیں امیر یا اشرافیہ کے محدود طبقے تک محدود تھیں۔

’جبکہ دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں نسلی اور قبائلی گروہ آباد تھے۔ طالبان جیسی قدامت پسند سوچ اس وقت بھی موجود تھی۔ فرق یہ تھا کہ یہ سوچ اس طرح سامنے نہیں آئی جس طرح نوے کی دہائی میں سامنے آئی۔‘

امان اللہ خان اور رانی ثریا

،تصویر کا ذریعہULLSTEIN BILD VIA GETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنامان اللہ خان اور رانی ثریا

تاریخ کے آئينے میں خواتین کے حقوق

افغانستان میں خواتین کی حالت کو سمجھنے کے لیے اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سنہ 1880 سے 1901 تک حکمران رہنے والے عبدالرحمن خان نے اپنے دور حکومت میں خواتین کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے بہت کام کیا۔

انھوں نے قدامت پسند قوانین میں تبدیلیاں کیں۔ جیسے اپنے شوہر کی موت کے بعد عورت کی اس کے بھائی سے شادی کی روایت کو ختم کرنا، شادی کی عمر بڑھانا اور خواتین کو مخصوص حالات میں طلاق کا حق دیا جانا وغیرہ۔

خواتین کو ان کے والد اور شوہر کی جائیداد میں بھی حق دیا گیا۔ عبدالرحمن کی وفات کے بعد ان کے بیٹے امیر حبیب اللہ خان نے تخت سنبھالا اور اپنے والد کے اٹھائے ہوئے ترقی پسند اقدامات کو آگے بڑھایا۔

ہما احمد نے اس کے بارے میں اپنے تحقیقی مقالے ’افغانستان میں خواتین کی تاریخ: مستقبل کے لیے سبق‘ اور ’یسٹرڈے اینڈ ٹومورو: افغان ویمن‘ میں تفصیل سے لکھا ہے۔

وہ اپنی تحقیق میں لکھتی ہیں کہ امیر حبیب اللہ نے شادیوں میں غیر ضروری اخراجات پر پابندی لگا دی اور ان کی اہلیہ کو پہلی بار بغیر نقاب کے مغربی لباس میں عوام میں دیکھا گیا۔

انھوں نے پہلے حبیبیہ کالج کی بنیاد رکھی جس میں ہندوستان، ترکی اور جرمنی کے اساتذہ کو مدعو کیا گیا۔ انھی کے دور میں پہلا ہسپتال بھی قائم کیا گیا۔

وہ اپنی تحقیق میں لکھتی ہیں کہ امیر حبیب اللہ نے افغان جلاوطنوں کی واپسی کا راستہ ہموار کیا۔ جن میں ترقی پسند مفکر محمود بیگ تارجی کا نام اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شام اور ترکی میں تعلیم حاصل کرنے والے تارجی اسلامی نظریہ کو جدیدیت سے جوڑنے کے خیال کے حامی تھے۔ اس سلسلے میں انھوں نے خواتین کے مساوی حقوق پر زور دیا، مکمل شہریت کی بات کی، تعلیم یافتہ خواتین کو مستقبل کا اثاثہ قرار دیا اور کہا کہ اسلام میں خواتین کے مساوی حقوق ہیں۔

حبیب اللہ کے قتل کے بعد ان کے بیٹے امان اللہ نے قبائلی ثقافت کے قوانین سے خواتین کی آزادی کی بات کی۔

امان اللہ نے عوامی طور پر پردہ اور مردوں کی زیادہ تعداد میں شادیاں کرنے کی مخالفت کی اور کابل اور اس کے گردونواح میں لڑکیوں کی تعلیم پر زور دیا۔

امان اللہ نے ایک عوامی تقریب میں کہا کہ اسلام میں خواتین کو اپنے جسموں کو ڈھانپنے اور کسی خاص قسم کے نقاب پہننے کی بات نہیں ہے۔

اپنی تحقیق میں ہما احمد بتاتی ہیں کہ ان خیالات اور اقدامات کی مخالفت بھی شروع ہو گئی تھی۔

عنایت اللہ

،تصویر کا ذریعہULLSTEIN BILD VIA GETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنامان اللہ کے بھائی عنایت اللہ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ

دیہی افغانستان میں قدامت پسندوں کو یقین ہونا شروع ہوا کہ یہ اصلاحات ان کے معاشرے کے لیے بہت ’مغربی‘ ہیں۔ سنہ 1928 میں قبائلی رہنماؤں نے کابل میں خواتین کو دی جانے والی آزادی کے حوالے سے دیہی علاقوں میں احتجاج شروع کیا۔

یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اس دور میں کابل سے باہر رہنے والی قبائلی اور دیہی خواتین کو جدید کاری کا کوئی فائدہ نہیں مل رہا تھا۔

لویا جرگہ یا قبائلی رہنماؤں کی جنرل کونسل نے لڑکیوں کی شادی کی عمر 18 سال اور مردوں کی 21 سال کرنے کی پالیسی کی مخالفت کی اور لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف آواز بلند کی۔ یہاں تک کہ امان اللہ کو اپنی پالیسیاں تبدیل کرنا پڑیں۔

کابل اور دیہی علاقوں میں سکول بند کر دیے گئے اور لڑکیوں کو حجاب پہننا پڑا۔ احتجاج اتنا بڑھ گیا کہ امان اللہ کو ملک چھوڑنا پڑا۔ دو دہائیوں میں افغانستان میں حکمران بدلے گئے لیکن خواتین کو آگے بڑھانے کا ایجنڈا نظر نہیں آيا۔

سنہ 1950 کی دہائی تک سوویت یونین کی غیر ملکی اور تکنیکی مدد سے افغانستان نے ایک بار پھر کروٹ بدلی۔ اور سنہ 1950 کے آس پاس خواتین کو مالی طور پر بااختیار بنانے کی ضرورت کو محسوس کیا گیا۔

خواتین کو مالی طور پر مضبوط بنانے پر زور

تحقیق میں لکھا گیا ہے کہ وزیراعظم محمد داؤد نے خواتین کی جانب سے پردہ اختیار کرنا یا نہ کرنا اُن کی مرضی پر چھوڑ دیا۔ سنہ 1940 سے 1950 کی دہائی تک خواتین نرسیں، ڈاکٹر اور اساتذہ بن رہی تھیں۔

سنہ 1964 میں آنے والے تیسرے آئین میں خواتین کو سیاست میں آنے کی اجازت دی گئی اور انھیں ووٹ دینے کا حق ملا۔

افغانستان میں محکمہ صحت میں پہلی خاتون وزیر بنیں اور ان کے ساتھ مزید دو خواتین پارلیمنٹ پہنچیں۔

اسی سال خواتین کا پہلا گروپ ’ڈیموکریٹک آرگنائزیشن آف افغان ویمن‘ بھی تشکیل دیا گیا۔ اس گروپ کا مقصد خواتین میں ناخواندگی کا خاتمہ، جبری شادیوں پر پابندی لگانا اور شادیوں میں لڑکیوں پر بولی لگانے کے رواج کو ختم کرنا تھا۔

سنہ 1970 کی دہائی کے اختتام تک خواتین کی زندگی بہتر ہونا شروع ہوئی۔ تعلیم کے میدان میں وہ یونیورسٹیوں میں کام کر رہی تھیں اور پارلیمنٹ میں نمائندگی بھی کر رہی تھیں۔

لیکن پھر 1970 کی دہائی کے آخر میں سوویت فوجیں افغانستان آئیں۔ ان کا مقصد اس وقت کی کمیونسٹ حکومت کی مدد کرنا تھی۔

افغان خواتین

،تصویر کا ذریعہROBERTO SCHMIDT/AFP VIA GETTY IMAGES

مجاہدین اور طالبان

سوویت فوج مجاہدین کے خلاف لڑ رہی تھی۔ مجاہدین گروپوں کو امریکہ، پاکستان، چین اور سعودی عرب سمیت کئی دوسرے ممالک کی حمایت حاصل تھی۔

سوویت روس کی فوجیں سنہ 1989 میں افغانستان سے نکل گئیں لیکن ملک میں خانہ جنگی جاری رہی۔ اس کی وجہ سے پھیلنے والے انتشار میں طالبان کو پنپنے کا موقع ملا۔

اپنی تحقیق میں ڈاکٹر ہما احمد لکھتی ہیں ’سنہ 1992 سے 1996 کے عرصے میں روزانہ پرتشدد واقعات جیسے قتل، عصمت دری، اعضا کاٹنا اور مجاہدین گروہوں کے دیگر پرتشدد واقعات کی کہانیاں سامنے آ رہی تھیں۔ لڑکیاں ریپ اور جبری شادیوں سے بچنے کے لیے خودکشی بھی کر رہی تھیں۔‘

طالبان کے بعد تبدیلیاں

ہما کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے سنہ 2003 میں طالبان کے جانے کے بعد افغانستان کا دورہ کیا تو پورا کابل بدل گیا تھا اور وہاں ایک پتھر کو بھی پہچاننا مشکل تھا۔ کابل میں بھی خواتین کو صرف برقعے میں دیکھا گیا۔ لیکن آہستہ آہستہ ہر سال وہاں بہت کم لیکن ترقی نظر آنے لگی۔ خواتین برقعے میں زیادہ دکھائی نہیں دیتیں، لیکن وہ ہمیشہ اپنے سر ڈھانپ کر رکھتی تھیں۔

وہ کہتی ہیں ’میں بھی تحقیق کے لیے سر ڈھانپ کر باہر جاتی تھی۔ وہاں خواتین کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں نظر آنے لگیں۔ سکول لڑکیوں کے لیے کھل رہے تھے۔ وہ نوکریاں کر رہی تھیں لیکن جلال آباد یا کابل سے دور پرانے حالات نظر آئے۔ خواتین کو برقعے میں دیکھا۔ اسلامائزیشن اور قبائلی سوچ کا امتزاج تھا۔ کابل میں تبدیلیاں نظر آرہی تھیں لیکن باہر جانے پر صورت حال وہی تھی۔‘

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2002 سے لاکھوں لڑکیاں ان علاقوں میں سکول کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں جو افغان حکومت کے کنٹرول میں تھے اور یہ سنہ 2001 کے بعد ایک بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔

راکیش سود سنہ 2006 سے 2008 تک افغانستان میں انڈیا کے سفیر رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کے جانے کے بعد ملک میں سماجی قدامت پسندی تھی لیکن ساتھ ہی ایک کھلے یا آزاد خیال معاشرے کی بنیاد بھی رکھی جا رہی تھی۔

بی بی سی کے ساتھ ایک گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ جب سنہ 2001 میں طالبان کی حکمرانی تھی تو وہاں پرائمری اور سیکنڈری سکول جانے والے تقریباً نو لاکھ بچے تھے اور سب کے سب لڑکے تھے۔

خواتین

،تصویر کا ذریعہBAY ISMOYO/AFP/GETTYIMAGES

راکیش سود کہتے ہیں ’سنہ 2004 میں افغانستان کا نیا آئین بنایا گیا جس میں عورتوں کے مساوی حقوق کا انتظام تھا۔ کئی علاقوں میں خواتین کو ریزرویشن دیا گیا۔ پارلیمنٹ میں 27 فیصد ریزرو سیٹیں خواتین کے لیے تھیں۔ خواتین، اقلیتوں اور پسماندہ افراد کو آگے بڑھانے کا شعور بھی واضح طور پر نظر آ رہا تھا۔‘

سود کا کہنا ہے کہ حال ہی میں افغانستان میں لڑکیاں فوج، فضائیہ، پولیس یا یہاں تک کہ جوڈیشری جیسے شعبے میں کام کرتی دیکھی گئیں۔ وہ پارلیمنٹ میں نظر آئيں۔

لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ تاجک لڑکیاں زیادہ ترقی پسند ہیں اور آپ کو ان علاقوں میں زیادہ لڑکیاں نکلتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

زیادہ تر تاجک افغانستان کے شمالی حصے میں رہتے ہیں اور وہ طویل عرصے سے طالبان کی مخالفت کر رہے ہیں۔ یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ تاجکوں نے ایران کے قریب ہونے اور اپنی ثقافت سے بھی فائدہ اٹھایا ہے۔ ملک کے تقریبا 20 بڑے شہروں میں سے تقریبا 14 تاجک اکثریتی علاقے ہیں جو ملک کے دیگر حصوں سے زیادہ آزاد خیال تصور کیے جاتے ہیں۔

راکیش سود کا یہ بھی کہنا ہے کہ بڑے شہروں میں خواتین کے حوالے سے جو ترقی دیکھنے میں آتی ہے وہ دیہی علاقوں میں نظر نہیں آتی۔

ڈاکٹر برکھا ورشا

،تصویر کا ذریعہDr. Barkha Varsha

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر برکھا ورشا

دیہی علاقے اب بھی پسماندہ ہیں

ڈاکٹر برکھا ورشا اس بات کو آگے لے جاتی ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کی تعلیم، سائنس اور ثقافتی تنظیم (یونیسکو) کی رُکن اور ’ابھیگیان فاؤنڈیشن‘ کی ڈائریکٹر بھی ہیں۔

وہ سنہ 2018 سے افغانستان میں لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم اور فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر برکھا ورشا نے افغانستان کے 16 صوبوں میں کام کیا ہے جن میں ہرات، مزار شریف، جلال آباد، قندھار، بلخ اور کابل جیسے بڑے شہر شامل ہیں۔

طالبان
لائن

ان کے مطابق ’بڑے شہروں میں لڑکیوں کے لیے یونیورسٹیاں ہیں، لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ لیکن دیہی علاقوں میں لڑکیاں صرف پانچویں یا زیادہ سے زیادہ چھٹی جماعت تک تعلیم حاصل کر سکتی ہیں۔ وہاں ابھی بھی نوجوان لڑکیوں کی شادی اپنی عمر سے دگنی اور تین گنا عمر کے مرد سے کر دی جاتی ہے۔ خواتین برقعے میں نظر آتی ہیں۔‘

’اگر یہ معلوم ہو کہ رحم مادر میں لڑکی ہے تو اس کی پیدائش سے پہلے ہی کسی لڑکے کے ساتھ شادی طے ہو جاتی ہے۔ اب بھی وہاں لڑکے کا باپ بیٹی کے والد کو پیسے دیتا ہے۔ اور مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ وہاں بیٹیاں بیچی جاتی ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ دیہات میں جا کر انھیں کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ طالبان کبھی وہاں سے گئے بھی تھے۔ ان کے مطابق صرف ان کا اثر و رسوخ کم ہوا اور وہ حکمرانی نہیں کر رہے تھے۔

وہ راکیش سود سے متفق نظر آتی ہیں کہ لڑکیاں ہر شعبے میں نظر آتی ہیں جس میں اب کارپوریٹ سیکٹر بھی شامل ہے لیکن ان کی تعداد کم ہے اور زیادہ تر لڑکیاں تعلیم اور طب کے پیشے میں نظر آتی ہیں۔

طالبان

،تصویر کا ذریعہWAKIL KOHSAR/AFP VIA GETTY IMAGES

اپنے تجربے کو بیان کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں ’میرے پاس ایک دن میری تنظیم کی گاڑی نہیں تھی اور مجھے ٹیکسی میں جانا پڑا۔ لوگوں نے مجھے برقعہ پہننے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ میں سر پر دوپٹہ لے کر باہر جاتی تھی۔‘

’اس دن میں نے وہ نیلے رنگ کا برقع صرف چند منٹ کے لیے پہنا تھا اور یہ احساس میرے لیے گھٹن کا باعث تھا، جیسے میں جیل میں ہوں اور افغانستان میں خواتین ساری زندگی اس میں رہتی ہیں۔ آپ ان کی حالت کو سمجھ سکتے ہیں؟‘

اگرچہ طالبان کہہ رہے ہیں کہ وہ شرعی نظام کے تحت خواتین کو حقوق دینے کے لیے پُرعزم ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال طالبان کے بارے میں یقین کرنا اور کچھ کہنا بہت مشکل ہے۔

ان کے مطابق ایران، ترکی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے بہت سے مسلم ممالک ہیں جہاں خواتین کو اسلام کی بنیاد پر حقوق دیے گئے ہیں، پھر وہ کون سی شریعت نافذ کریں گے؟