ملا عبد الغنی برادر، ہبت اللہ اخونزادہ: طالبان تنظیم کے اہم رہنما کون ہیں جو مستقبل میں قیادت سنبھال سکتے ہیں؟

طالبان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

افغانستان میں پرامن انتقالِ اقتدار کے لیے کوششیں جاری ہیں لیکن افغانستان کی سربراہی کے لیے کس طالبان لیڈر کا انتخاب کیا جاتا ہے اس بارے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

افغان طالبان نے جس برق رفتاری سے کابل پر قبضہ کیا، اس نے عالمی سطح پر مبصرین کو حیران کر دیا ہے۔ طالبان نے جو سفر قندھار سے لگ بھگ ایک ماہ پہلے شروع کیا تھا وہ کابل پر قبضے پر ختم ہوا۔

لیکن اب افغان طالبان کو اصل چیلنج کا سامنا ہے اور وہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد گورننس ہے۔ ایسے میں بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ کیا افغان طالبان کے پاس ایسی قیادت اور ٹیم موجود ہے جو نظامِ حکومت بہتر انداز میں چلا سکے۔

اس سوال کا جواب جاننے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ طالبان کے تنظیمی ڈھانچے میں ذمہ داران کون ہیں اور کن صلاحیتوں کے حامل ہیں۔

طالبان قیادت

طالبان کا تنظیمی ڈھانچہ کیا ہے؟

طالبان کے تنظیمی ڈھانچے میں اب بھی ایسے رہنما موجود ہیں جو ماضی میں افغانستان میں طالبان کی حکومت میں اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔

اس وقت طالبان کے اہم قائدین میں تنظیم کے امیر ملا ہبت اللہ اخونزادہ اور اُن کے تین نائبین ملا عبدالغنی برادر، ملا محمد یعقوب اور سراج الدین حقانی شامل ہیں۔

ملا ہبت اللہ اخونزادہ

اس وقت افغان طالبان یا امارت اسلامی افغانستان کے امیر یا سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخونزادہ ہیں۔

ملا اختر منصور کی سنہ 2016 میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد افغان طالبان کے امیر مقرر کیے جانے والے ملا ہبت اللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ طالبان تحریک کے قیام کے بہت بعد اس کا حصہ بنے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے افغان امور کے ماہر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی نے بتایا تھا کہ ملا ہبت اللہ افغان طالبان کی 1994 میں قندھار سے شروع ہونے والی تحریک کے 33 ارکان کی تنظیم کا حصہ نہیں تھے۔

انھوں نے بتایا تھا کہ ملا ہبت اللہ اصل میں ایک مذہبی رہنما ہیں جن کا جنگی تجربہ کم ہے لیکن اس وقت طالبان دھڑے بندیوں کا شکار ہیں جن کی وجہ سے ایک مذہبی رہنما کو سربراہ مقرر کیا گیا ہے تاکہ زیادہ لوگوں کو اعتراض نہ ہو۔

ہبت اللہ اخونزادہ

،تصویر کا ذریعہAFGHAN ISLAMIC PRESS

،تصویر کا کیپشنہبت اللہ اخونزادہ

ملا ہبت اللہ طالبان کی جنگی کارروائیوں کے حق میں فتوے جاری کرتے رہے ہیں۔ وہ سنہ 2001 سے قبل افغانستان میں قائم طالبان کی حکومت میں عدالتوں کے سربراہ بھی رہے ہیں۔

افغان امور کے ماہر صحافی طاہر خان نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ ملا ہبت اللہ قندھار میں ایک مدرسہ چلاتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے طالبان انھیں اپنا ’استاد‘ کہتے ہیں۔

ہبت اللہ کی عمر 45 سے 50 سال کے درمیان ہے اور وہ قندھار کے علاقے پنجوائی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق نور زئی قبیلے سے ہے۔

ہبت اللہ اخونزادہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے طالبان کی سمت و رفتار کو تبدیل کیا اور اس تنظیم کو اِس کی موجودہ حالت میں لانے میں ان کا بڑا کردار ہے۔

طالبان کے گڑھ قندھار سے تعلق رکھنے کی بنا پر انھیں طالبان پر گرفت مضبوط کرنے میں مدد ملی۔

سنہ 1980 کی دہائی میں انھوں نے سوویت یونین کے خلاف افغانستان کی جنگ میں کمانڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں تھیں لیکن وہ فوجی کمانڈر سے زیادہ مذہبی سکالر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔

وہ افغان طالبان کے سربراہ بننے سے پہلے ہی طالبان کے سرکردہ رہنماؤں میں سے ایک رہے ہیں اور مذہبی امور سے متعلق طالبان کی جانب سے وہی احکامات جاری کرتے رہے ہیں۔

انھوں نے قاتلوں اور ناجائز جنسی تعلقات رکھنے والوں کا سر قلم کرنے اور چوری کرنے والوں کے ہاتھ قلم کرنے کا حکم دیا تھا۔

ہبت اللہ طالبان کے سابق سربراہ اختر محمد منصور کے نائب بھی رہے۔ منصور مئی سنہ 2016 میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ منصور نے اپنی وصیت میں ہبت اللہ کو اپنا جانشین قرار دیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وصیت نامہ ان کی تقرری کو قانونی حیثیت دینے کے لیے تھا لیکن طالبان نے ان کے انتخاب کو متفقہ طور پر کیا جانے والا فیصلہ قرار دیا تھا۔

ملا عبد الغنی برادر

،تصویر کا ذریعہSefa Karacan/Anadolu Agency via Getty Images

،تصویر کا کیپشنملا عبد الغنی برادر

ملا عبدالغنی برادر

امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں طالبان کی جانب سے اگرچہ ایک مکمل ٹیم شامل تھی لیکن فروری 2020 کو قطر کے شہر دوحہ میں ہونے والے امن معاہدے پر دستخط ملا عبدالغنی برادر نے کیے تھے اور اس وقت وہ عالمی سطح پر نمایاں طور پر سامنے آئے تھے۔

ملا عبدالغنی برادر امارت اسلامی افغانستان کے نائب امیر ہیں اور ان کے پاس طالبان کے قطر میں قائم سیاسی دفتر کے انچارج کا عہدہ بھی ہے۔

ملا عبدالغنی برادر، ملا برادر کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ ملا برادر کا تعلق پوپلزئی قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔ یہ قبیلہ افغانستان میں انتہائی بااثر سمجھا جاتا ہے اور سابق افغان صدر حامد کرزئی کا تعلق بھی اسی قبیلے سے ہے۔ اس قبیلے کے افراد سرحد کے دونوں جانب یعنی پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور پشاور میں بھی آباد ہیں۔

ان کا تعلق بنیادی طور پر افغانستان کے جنوبی ضلع اورزگان سے بتایا جاتا ہے لیکن وہ کئی سال طالبان کے مرکز کے طور پر مشہور افغان صوبہ قندھار میں مقیم رہ چکے ہیں۔

ملا عبد الغنی برادر افغانستان میں طالبان کارروائیوں کی نگرانی کے علاوہ تنظیم کے رہنماؤں کی کونسل اور تنظیم کے مالی امور چلاتے تھے۔

افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے افغان طالبان کے سابق امیر ملا عمر اور ملا برادر ایک ہی مدرسے میں درس دیتے تھے اور سنہ 1994 میں قائم ہونے والی تنظیم طالبان کے بانی قائدین میں سے تھے۔

ملا برادر طالبان دور میں ہرات صوبے کے گورنر اور طالبان کی فوج کے سربراہ رہے ہیں۔

افغانستان پر کام کرنے والے اکثر صحافیوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ملا محمد عمر نے جب افغانستان میں طالبان تحریک کا آغاز کیا تو ملا برادر ان چند افراد میں شامل تھے جنھوں نے بندوق اٹھا کر طالبان سربراہ کا ہر لحاظ سے ساتھ دیا اور تحریک کی کامیابی تک وہ ان کے ساتھ ساتھ رہے۔

طالبان
لائن

تاہم جب طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو ان کے پاس کوئی خاص عہدہ نہیں تھا۔ بعد میں انھیں ہرات کا گورنر بنا دیا گیا۔

سنہ 2001 میں جب امریکہ کی قیادت میں افغانستان پر کیے جانے والے حملے میں طالبان کو اقتدار سے بیدخل کیا گیا تو وہ نیٹو افواج کے خلاف جنگ کے سربراہ بن گئے۔

بعد ازاں فروری سنہ 2010 میں انھیں پاکستان کے شہر کراچی سے امریکہ اور پاکستان کی مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا۔

اس وقت افغان حکومت سے امن مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے طالبان کی جانب سے جن قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جاتا تھا اس فہرست میں ملا عبدالغنی برادر کا نام سرفہرست ہوتا تھا۔

انھیں ستمبر 2013 میں پاکستانی حکومت نے رہا کر دیا تھا لیکن یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ پاکستان میں ہی رہے یا کہیں اور چلے گئے۔ ملا برادر طالبان رہنما ملا محمد عمر کے سب سے قابل اعتماد سپاہی اور نائب رہے۔

افغان انتظامیہ کے سینیئر عہدیداروں کو ہمیشہ ہی اس بات پر یقین تھا کہ برادر کے قد کا رہنما طالبان کو امن مذاکرات کے لیے آمادہ کر سکتا ہے۔

جب طالبان کو اقتدار سے ہٹایا گیا تو وہ طالبان کے نائب وزیر دفاع تھے۔

ان کی گرفتاری کے بعد ایک افغان اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’اُن (ملا برادر) کی اہلیہ ملا عمر کی بہن ہیں۔ وہ طالبان کے تمام پیسوں کا حساب کتاب رکھتے ہیں۔ وہ افغان فورسز کے خلاف انتہائی خوفناک حملوں کی قیادت کرتے رہے۔‘

دیگر طالبان رہنماؤں کی طرح ملا برادر پر بھی اقوام متحدہ نے پابندیاں عائد کی تھی۔ ان کے سفر کرنے اور ہتھیاروں کی خریداری پر پابندی تھی۔

سنہ 2010 میں گرفتاری سے پہلے انھوں نے چند عوامی بیانات دیے تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’ہمارا جہاد تب تک جاری رہے گا جب تک دشمن ہماری سرزمین سے ختم نہیں ہوتے۔‘

طالب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مولوی محمد یعقوب

افغانستان میں طالبان تحریک کے سابق امیر ملا محمد عمر کی وفات کے بعد ان کے بڑے بیٹے مولوی محمد یعقوب افغان طالبان کی امارت کے امیدوار بھی رہے ہیں۔ طالبان کے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران جو افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں کو روکنے کا حکم دینا پڑا تو اس وقت مولوی محمد یعقوب کو تحریک کے عسکری کمیشن کا سربراہ مقرر کر دیا گیا تھا۔

مولوی محمد یعقوب افغان طالبان کے نائب امیر بھی ہیں جبکہ انھیں اس سال مئی کے مہینے میں سکیورٹی چیف کا اضافی عہدہ بھی دیا گیا ہے۔ ان کی تعیناتی پہلے افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ نے کی تھی۔

طالبان ذرائع نے بتایا ہے کہ مولوی محمد یعقوب نے ابتدائی تعلیم پاکستان کے بڑے شہر کراچی کے مدرسے سے حاصل کی۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ مولوی محمد یعقوب بظاہر ایک سیاسی اور عسکری سوچ کی نوجوان شخصیت ہیں اور وہ اس عہدے پر عسکری ونگ اور سیاسی ونگ کے درمیان رابطے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

افغان امور کے ماہر سابق سفارت کار رستم شاہ مہند کا کہنا ہے کہ مولوی محمد یعقوب طالبان تحریک میں اہم شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور ان سے اکثر معاملات میں مشاورت کی جاتی ہے۔

طالبان کا عسکری ڈھانچہ

سینیئر صحافی طاہر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ مولوی یعقوب کا نام اس وجہ سے زیادہ معتبر ہے کیونکہ وہ ملا محمد عمر کے بیٹے ہیں اور اس وجہ سے طالبان کے اندر انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مولوی یعقوب عسکری ونگ میں بھی شامل رہے ہیں جب طالبان اور ملا عمر کے خاندان کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے تو اس وقت ملا عمر کے بھائی عبدالمنان اخوند اور مولوی یعقوب کو عہدے دیے گئے تھے۔

ملا عمر کے بھائی کو اس وقت جب تحریک کی امارت کے لیے کچھ نام سامنے آئے تھے اس پر تحفطات تھے۔ مولوی یعقوب کو کچھ صوبوں کے عسکری ونگ کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

سراج الدین حقانی

افغان طالبان کے تیسرے نائب امیر سراج الدین حقانی ہیں اور ان کا تعلق ان کے والد جلال الدین حقانی کے حقانی نیٹ ورک سے ہے۔

حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی کا تعلق افغانستان کے صوبہ پکتیکا سے ہے اور ان کی پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جائیدادیں ہیں۔

انھوں نے سنہ 1980 کی دہائی میں شمالی وزیرستان سے سابقہ سویت یونین کے افغانستان میں قبضے کے دوران منظم کارروائیاں کیں۔

سراج

،تصویر کا ذریعہFBI

ملا عبدالحکیم

طالبان قائدین میں ایک اور اہم نام عبدالحکیم ہے اور انھیں افغان طالبان کے امیر یا سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخونزادہ کے قریب ترین ساتھیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ستمبر 2020 میں طالبان نے عبدالحکیم کو دوحہ میں طالبان کی مذاکراتی ٹیم کا نیا سربراہ مقرر کیا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی عمر تقریباً 60 برس ہے اور وہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں ایک مدرسہ چلاتے رہے ہیں، جہاں سے وہ طالبان کی عدلیہ کی نگرانی بھی کرتے تھے۔

کئی سینئر طالبان رہنماؤں نے مبینہ طور پر کوئٹہ میں پناہ لی جہاں سے وہ اس گروپ کی قیادت کرتے رہے تاہم پاکستان نام نہاد ’کوئٹہ شوریٰ‘ کے وجود سے انکار کرتا ہے۔

عبدالحکیم طالبان کے مذہبی علما کی طاقتور کونسل کے سربراہ بھی ہیں۔

یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ افغانستان کی قیادت کون سنبھالے گا

افغان طالبان کے اہم رہنما اور سابق سفیر ملا عبدالسلام ضعیف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان میں سیاسی سطح پر جوڑ توڑ جاری ہے اور افغانستان سے ایک کمیشن نے آج (پیر) قطر پہنچنا تھا لیکن گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حالات اچانک کافی بدل گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ہوا تھا کہ یہ کمیشن صدر اشرف غنی کا استعفیٰ اور مکمل اختیار کے ساتھ پہنچے گا تاکہ انتقالِ اقتدار کا مرحلہ مکمل ہو سکے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ ہوا تھا کہ جب تک معاہدہ مکمل نہ ہو جائے افغان طالبان کابل میں داخل نہیں ہوں گے لیکن اچانک حالات نے نیا رُخ اختیار کیا جس کی وجہ سے طالبان کابل میں داخل ہونے پر مجبور ہوئے کیونکہ کابل میں امن قائم کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام نظر آ رہے تھے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کون سا طالبان لیڈر افغانستان میں قیادت سنبھالے گا۔ ’جب تک بات چیت جاری ہے اور پُرامن انتقال اقتدار کا مرحلہ مکمل نہیں ہو جاتا اس وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کون سربراہ مملکت ہو سکتا ہے۔‘