افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی کا نقشہ

افغانستان کا کنٹرول نقشہ
    • مصنف, ویژوئل جرنلزم ٹیم
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

افغانستان میں تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے طالبان جنگجوؤں نے گذشتہ دو ماہ میں جتنے علاقوں پر قبضہ کیا ہے اتنا وہ سنہ 2001 میں اقتدار سے علیحدہ کیے جانے کے بعد سے کبھی نہیں کر سکے تھے اور اب وہ ملک کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے انتہائی قریب ہیں۔

افغانستان سے نیٹو اور امریکی افواج کے انخلا کے آغاز کے بعد طالبان جنگجو زیادہ بےخوفی سے پیش قدمی کرتے نظر آئے اور 15 اگست کو وہ کابل پہنچنے میں کامیاب رہے۔

انھوں نے شہر میں بزورِ طاقت داخل نہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار کی منتقل کا عمل پرامن ہو گا۔ انھوں نے افغان عوام سے بھی کہا ہے کہ وہ ملک یا کابل چھوڑ کر نہ جائیں کیونکہ طالبان ’انتقام لینے کا ارادہ نہیں رکھتے۔‘

اس سے قبل طالبان نے دو دن کے اندر ملک کے دوسرے اور تیسرے بڑے شہر قندھار اور ہرات پر قبضہ کیا تھا اور سنیچر کو انھوں نے شمالی افغانستان میں حکومت کے زیرِ اثر آخری بڑے شہر مزارِ شریف اور اتوار کی صبح جلال آباد کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

جن اضلاع میں طالبان نے قبضہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے ضلعی انتظامی مراکز، پولیس کے ضلعی ہیڈ کوارٹر اور دیگر ضلعی اداروں کی عمارتوں سے سرکاری اہلکاروں اور سیکیورٹی فورسز کو بے دخل کر دیا ہے۔

اپنی اس پیش قدمی کے دوران جہاں کچھ شہروں میں طالبان کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا وہیں اکثر علاقوں میں وہ افغان فوج کی پسپائی کے بعد بغیر کسی لڑائی کے شہر پر قابض ہو گئے۔

طالبان کی پیش قدمی کی رفتار گذشتہ چند ہفتوں کے دوران اتنی تیز رہی کہ اس نے عسکری ماہرین اور تجزیہ کاروں کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کر دیا۔

افغانستان

افغانستان سے باہر تعینات امریکی فوج نے اس پیش قدمی کو روکنے کے لیے طالبان کی پوزیشنز پر گذشتہ ہفتے بمباری بھی کی لیکن وہ انھیں روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ طالبان ملک کی تمام اہم سرحدی راستوں کا کنٹرول سنبھال چکے ہیں اور ملک سے باہر جانے کا واحد راستہ کابل کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہی بچا ہے۔

طالبان نے پاکستان سے متصل سرحدی راستوں سمیت دیگر سرحدی چوکیوں پر کسٹم ڈیوٹیاں بھی وصول کرنا شروع کر دی ہیں تاہم اس مد میں ان کی آمدن کا صحیح تخمینہ لگانا ممکن نہیں اور لڑائی کی وجہ سے تجارت کا حجم بھی کم ہو گیا ہے لیکن اندازے ہیں کہ یہ رقم لاکھوں ڈالر میں ہو سکتی ہے۔

افغانستان

ملک میں جاری خانہ جنگی سے بچنے کے لیے بہت سے علاقوں سے لوگ نقل مکانی کر گئے ہیں اور اس سال کے آغاز سے تین لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کے مطابق بدخشاں، قندوز، بلخ، بغلان اور تخار کے وسیع علاقوں پر طالبان کے قبضے کی وجہ سے اندرون ملک مہاجرین کی ایک نئی لہر آ گئی ہے۔

کچھ لوگ عارضی طور پر اپنے گھروں کو چھوڑ کر قریبی دیہات یا اضلاع میں چلے گئے تھے لیکن بعد میں واپس آ گئے لیکن بہت سے لوگ کافی دنوں سے بے گھر ہیں۔ فرانسیسی خبررساں ادارے نے خبر دی ہے کہ طالبان کے حملوں سے بچنے کے لیے بہت سے سرکاری فوجی اور پناہ گزین سرحد پار کر کے تاجکستان چلے گئے تھے۔