یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں ہوگا
افغانستان سے بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔ تازہ ترین معلومات اور خبروں کے لیے ہمارے تازہ لائیو پیج پر آئیں۔
افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے اپنی پہلی نیوز کانفرنس میں حکومت بنانے، خواتین کے معاشرے میں کردار، میڈیا کی آزادی سمیت متعدد موضوعات پر بیانات دیے ہیں۔ جبکہ سابق امریکی نائب صدر نے بائیڈن انتظامیہ پر 'طالبان سے معاہدہ' توڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تنقید کی ہے۔
افغانستان سے بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔ تازہ ترین معلومات اور خبروں کے لیے ہمارے تازہ لائیو پیج پر آئیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق امریکی نائب صدر مائیک پینس بھی امریکہ کے افغانستان کے انخلا پر تنقید کرنے والوں میں شامل ہو گئے ہیں۔
امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل میں لکھے گئے اپنے ایک مضمون انھوں نے بائیڈن انتظامیہ پر سخت تنقید کی ہے۔
اپنے مضمون میں انھوں نے افغانستان سے انخلا کو ایران یرغمالیوں کے بحران کے بعد سے اب ملک کی خارجہ پالیسی کے لیے توہین آمیز قرار دیا۔ سابق امریکی نائب صدر مائک پینس نے دعویٰ کیا صدر بائیڈن نے اس معاہدے کو توڑ دیا ہے جو پہلی انتظامیہ نے طالبان کے ساتھ کیا تھا۔
مائک پینس کا کہنا تھا کہ معاہدہ کے مطابق جب تک کہ طالبان امریکی افواج پر حملے بند نہ کرتے، دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں دینے پر انکار نہ کرتے اور افغان رہنماؤں سے نئی حکومت بنانے پر مذاکرات کے لیے آمادہ نہ ہوتے تب تک امریکی افواج نے بتدریج افغانستان سے نکلنے تھا۔
مائیک پینس نے دعویٰ کیا کہ بائیڈن نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہ امریکی افواج ابھی چند مزید ماہ افغانستان میں رہیں گی سابقہ انتظانیہ کے معاہدے کو توڑا جس نے طالبان کو مزید جارحیت اور حملوں پر اکسایا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سابق افغان رکن پارلیمان الئے ارشاد نے صدر اشرف غنی کو پڑوسی ملک تاجکستان چلے جانے پر خُود اعتمادی سے عاری‘ قرار دیا ہے۔
الئے ارشاد نے الزام عائد کیا کہ اشرف غنی اتوار کو ہیلی کاپٹر میں صدارتی محل سے ساتھیوں کو یہ بتا کر روانہ ہوئے کہ ان کی افغانستان کی وزارت دفاع میں میٹنگ ہے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ ملک چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔
الئے ارشاد نے طالبان کے قبضے کے تناظر میں بی بی سی سے بات کی ہے۔
’میں بہت ناراض ہوں میرے پاس اس کی وضاحت کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔‘
الئے ارشاد نے مزید کہا کہ ’انھوں نے اپنا ملک پیچھے چھوڑ دیا اور اپنے لوگوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ میں نہیں جانتی کہ میں نے اس شخص پر کیوں اعتماد کیا اور ووٹ دیا۔‘
صدر اشرف غنی کے ایک حلیف نے پیر کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ افغان رہنماؤں نے اشرف غنی سے کہا تھا کہ وہ خونریزی سے بچنے کے لیے چلے جائیں اور سابق رہنما ایک دن گھر واپس آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
جب الئے ارشاد سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’میری خواہش ہے کہ وہ واپس آئیں۔ کاش میں ان کی آنکھوں میں دیکھ کر انھیں بتاؤں کہ میں ایک عورت تھی اور میں یہیں ٹھہری رہی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر وہ خونریزی سے بچنا چاہتے تھے تو وہ چھ ماہ پہلے (جا) سکتے تھے۔‘
کینیڈا کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ کینیڈا کا افغانستان میں طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کا ’کوئی منصوبہ نہیں ہے۔‘
جسٹن ٹروڈو نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’انھوں (طالبان) نے طاقت کے ذریعے ایک منتخب جمہوری حکومت پر قبضہ کیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ یہ گروپ کینیڈا کے قانون کے تحت ایک ’تسلیم شدہ دہشتگرد تنظیم‘ ہے۔
جسٹن ٹروڈو نے یہ بھی کہا کہ کینیڈا نے طالبان کو اس وقت بھی تسلیم نہیں کیا تھا جب وہ 20 سال قبل افغانستان پر قابض تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
گذشتہ روز اپنے پہلے فوجی طیارے میں کابل سے صرف سات افراد کو نکالنے کے بعد اب جرمنی کا کہنا ہے کہ آج اس کی ایک پرواز میں 125 افراد کابل سے روانہ ہوئے ہیں۔
ان 125 افراد میں جرمنی سمیت دیگر ممالک کے افراد بھی شامل ہیں۔
جرمنی کے وزیر داخلہ نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’ان افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔‘
دوسری جانب جرمنی کی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ انھیں امید ہے جرمنی کی کابل ایئرپورٹ تک رسائی کئی دن تک جاری رہے گی تاکہ انخلا کا کام مکمل ہو سکے۔
انھوں نے کہا کہ اس کا مقصد افغانستان سے لوگوں کو پڑوسی ملک ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو محفوظ مقام تک پہنچانا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی محکمہ دفاع کی ایک نیوز کانفرنس میں ترجمان جان کربی نے صحافیوں کو بتایا کہ طالبان نے کابل سے امریکی انخلا کی کوششوں میں مداخلت نہیں کی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اتوار کو دوحہ میں طالبان رہنماؤں اور امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ کے درمیان ملاقات کے بعد ’معاندانہ انداز میں بات چیت نہیں ہوئی’۔
میرین میجر جنرل ولیم ٹیلر نے بریفنگ میں کہا کہ حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آپریشن بحال کر دیا گیا ہے۔
جنرل ٹیلر نے مزید کہا کہ ’اب جبکہ ایئر فیلڈ کھلی ہے ہمارا ہدف اسے کھلا رکھنا ہے۔‘
پچھلے 72 گھنٹوں میں مزید 2500 امریکی فوجی کابل منتقل کیے گئے ہیں اور دن کے اختتام تک 3500 تک تعینات ہوں گے۔
افغانستان کے معزول نائب صدر امر اللہ صالح نے اتوار کو سابق رہنما اشرف غنی کی جلاوطنی کے بعد ملک کے نئے نگراں صدر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
اُنھوں نے ٹویٹ کی کہ وہ ملک میں موجود ہیں اور وہ ’تمام رہنماؤں سے ان کی حمایت اور اتفاق رائے کے لیے اپیل کر رہے ہیں۔‘
اس پہلے ایک ٹویٹ میں اُنھوں نے کہا تھا کہ وہ ’جذبے سے محروم نہیں ہیں‘ اور انھوں نے افغان شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ طالبان کے خلاف ’مزاحمت میں شامل ہوں۔‘
افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر امر اللہ صالح نے اتوار کے روز اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ کسی بھی صورت میں طالبان کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے اپنی پہلی نیوز کانفرنس میں کئی موضوعات پر بیانات دیے ہیں۔ اس پریس کانفرنس کے اہم نکات:
کابل میں طالبان کی نیوز کانفرنس اب ختم ہو چکی ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران ملک کے مستقبل میں خواتین کے کردار سے متعلق سوالات کو طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد گول مول کرتے رہے۔
انھوں نے خواتین سے متعلق بار بار کہا کہ وہ ’ہمارے اسلامی قوانین کے فریم ورک کے اندر’ کام کرنے کی حقدار ہوں گی۔ تاہم ایسا عملی طور پر کیسے ہوگا انھوں نے اس کی وضاحت نہیں کی۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
برسلز میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینس سٹولٹن برگ نے بات کر تے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو کے اتحادی افغانستان سے انخلا کے لیے اضافی طیارے بھیجیں گے اور طالبان سے مطالبہ کیا کہ اگر لوگ جانا چاہیں تو انھیں جانے کی اجازت دیں۔
اُنھوں نے کہا کہ نیٹو افواج کا ’کبھی بھی ہمیشہ کے لیے افغانستان میں رہنے کا ارادہ نہیں تھا‘ البتہ جس رفتار سے طالبان نے کنٹرول حاصل کیا ہے اس نے اُنھیں حیران کر دیا ہے۔
سیکریٹری جنرل سٹولٹن برگ نے اسے ’افغان سیاسی قیادت کی ناکامی‘ قرار دیا لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ نیٹو کو بھی اس سے سبق سیکھنا ہوگا۔
اُنھوں نے مزید کہا کہ یہ مشن کامیاب تھا اور کہا کہ دو دہائیاں ہوچکی ہیں کہ ایک اتحادی ملک ایک ایسے دہشت گرد حملے کی زد میں آیا جس کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی۔
اُنھوں نے کہا کہ ’جو لوگ اب اقتدار میں ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بین الاقوامی دہشت گرد اپنے قدم جمانے میں کامیاب نہ ہوں’۔ دنیا دیکھ رہی ہے اور اسے مستحکم اور پرامن افغانستان کی حمایت جاری رکھنی چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’ملک بھر میں مکمل سیکیورٹی ہے۔ کوئی کسی کو اغوا نہیں کرے گا۔ ہم ہر دن کے ساتھ سیکیورٹی بڑھا رہے ہیں۔‘
’ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بھی ملک چھوڑے۔ عام معافی دے دی گئی ہے۔ کسی سے دشمنی مزید نہیں پالی جائے گی۔‘
القاعدہ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور کسی غیر ملکی جنگجو کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت بنائی جا رہی ہے اور اگلے چند دن میں ہر چیز کا اعلان کر دیا جائے گا۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ سنہ 2001 میں ہم نے منشیات کی پیداوار بند کر دی تھی۔ بعد میں حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیدار تک اس میں ملوث ہو گئے مگر اب سے کوئی منشیات کی سمگلنگ نہیں ہوگی۔ ’افغانستان منشیات سے پاک ملک بنے گا۔‘
اُنھوں نے کہا کہ کابل میں جگہ جگہ منشیات کے عادی نوجوانوں کو دیکھ کر دکھ ہوا۔ بین الاقوامی برادری اس کام میں ہماری مدد کرے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ طالبان میں 20 سال پہلے کے مقابلے میں بہت تبدیلی آئی ہے۔
اُنھوں نے غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ کام کرنے والے مترجمین اور ٹھیکیداروں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر کہا کہ ’کسی سے انتقام نہیں لیا جائے گا۔‘
’وہ نوجوان جو یہاں بڑے ہوئے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ وہ چھوڑ کر جائیں۔ نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں۔‘
’کوئی بھی اُن کے دروازے کھٹکھٹا کر یہ نہیں پوچھے گا کہ وہ کس کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔‘ وہ محفوظ رہیں گے۔ کسی سے تفتیش نہیں کی جائے گی نہ پیچھا کیا جائے گا۔‘