افغانستان میں مجسموں کی گردنیں کاٹنے کی ویڈیو وائرل

پتلے

،تصویر کا ذریعہSocial media

،تصویر کا کیپشنطالبان کا کہنا ہے کہ مجسمے اسلام میں نہی ہونے چاہئیں

افغانستان میں انسانی بحران شدید ہوتا جا رہا ہے۔ملک کی ایک بڑی آبادی کے لیے خوراک اور اہم ادویات کی قلت ہے۔ اسی دوران افغانستان کے ایک صوبے میں مجسموں کے سر قلم کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

یہ معاملہ صوبہ ہیرات کا ہے۔ جن مجسموں یا پتلوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ان کا استعمال دکانوں اور مالز میں خواتین کے لباس کی نمائش کے لیے کیا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں جس میں دکاندار پتلوں کی گردنیں کاٹ کر الگ کر رہے ہیں۔

اس سے قبل یہ خبریں آئی تھیں کہ طالبان نے ہرات میں خواتین کے کپڑے بیچنے والے دکانداروں سے کہا تھا کہ وہ نمائش کے لیے لگائے گئے پتلوں کی گردنیں الگ کریں کچھ دکانداروں نے مجسموں کے سروں کو کالے کپڑے سے ڈھانپ رکھا تھا۔

حال ہی میں طالبان انتظامیہ نے کپڑوں کی نمائش کے لیے استعمال ہونے والے پتلوں کو 'غیر قانونی'، 'بت پرستی' اور 'غیر اسلامی' قرار دیا تھا۔

فیصلے پر سوال

اس واقعے سے متعلق ویڈیو کابل میں مقیم سماجی کارکن حمیرا قادری اور بی بی سی فارسی کے صحافی ضیا شہریار نے شیئر کی تھی جس کے بعد یہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔

طالبان انتظامیہ کے اس حکم کے حوالے سے سوشل میڈیا پر لوگ سوالات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اسلامی ممالک میں پتلوں کو کپڑے کی نمائش کے طور پر رکھا جاتا ہے اور وہاں کے لوگوں کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی کیونکہ کوئی دکان پر عبادت کے لیے نہیں جاتا۔

افغانستان کے نیوز نیٹ ورک تولو نیوز نے حال ہی میں اطلاع دی ہے کہ طالبان نے ہرات کے شاپنگ مالز میں 'پتلوں کے سر ہٹانے'کا حکم دیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہرات کے شعبہ نقائص اور فضائل کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یہ وہ مجسمے ہیں جن کا ذکر کتابوں میں موجود ہے اور اسلام میں انھیں نہیں ہونا چاہیے۔ ان کی پوجا کی جاتی تھی۔ دکانداروں کو وارننگ دی گئی ہے کہ اگر انھوں نے حکم کی خلاف ورزی کی تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

پتلے

،تصویر کا ذریعہSocial media

،تصویر کا کیپشنطالبان کا کہنا ہے کہ مجسمے اسلام میں نہی ہونے چاہئیں

اس حکم کے بعد کچھ دکانداروں اور مال مالکان نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔

اس ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ صارفین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ طالبان کی ترجیح افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنا اور معیشت کی بحالی ہونی چاہیے۔

طالبان کے نئے احکامات

اس سے قبل کابل سے ایسی ویڈیوز منظر عام پر آئی تھیں جن میں طالبان خواتین پر نئی پابندیاں جاری کر رہے ہیں، موسیقی سننے اور داڑھی منڈوانے پر پابندی لگا رہے ہیں۔

پچھلے ہفتے طالبان کی ایک وزارت نے چھ نئی ہدایات جاری کیں جن میں ٹیکسی ڈرائیوروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ طویل فاصلے تک سفر کرنے کے لیے خواتین کو خاندان کے ایک مرد کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے طالبان کے حالیہ رہنما خطوط پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے نئے قوانین خواتین کو جیل میں ڈالنے کے مترادف ہیں۔

سوشل میڈیا پر لوگوں کا کہنا ہے کہ طالبان انتظامیہ 90 کی دہائی کے ان احکامات پر عمل درآمد کر رہی ہے جو آج کے حالات سے مطابقت نہیں رکھتے۔

خواتین کے حقوق کی ایک کارکن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خاندان میں ان کا کوئی مرد رشتہ دار نہیں ہے کیونکہ ان کے والد کا انتقال ہو چکا ہے اور طالبان کے فیصلے سے ان کی زندگی مشکل ہو سکتی ہے

ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں خواتین کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنے سے گریز کریں۔

ساتھ ہی طالبان نے کہا ہے کہ 'شرعی قانون' کا نفاذ انکا وہ اصول ہے، جسے وہ کسی کے دباؤ میں افغان معاشرے میں نافذ کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔

طالبان نے کہا ہے کہ ان کے نئے احکامات صرف مشاورتی ہیں اور لازمی نہیں ہیں اور اس کے خلاف 'جھوٹا پروپیگنڈا' پھیلایا جا رہا ہے۔