طالبان کی کابینہ میں خواتین کی عدم شمولیت پر تشویش: ’مبارک ہو، طالبان کی حکومت میں صرف مرد ملا اور طالب شامل ہیں‘

افغانستان، خواتین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ثنا آصف
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

افغانستان کے دارالحکومت کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد کچھ حلقوں سے ایسی آوازیں سنائی دیں کہ ’طالبان بدل گئے ہیں اور کچھ لوگوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ’موجودہ طالبان ماضی کے طالبان سے قدرے مختلف ہوں گے۔‘

15 اگست کو کابل پر طالبان کے قبضے کے فوری بعد ہی ایسی تصاویر بھی سامنے آئیں جن میں طالبان شہر کے مختلف حصوں سے خواتین کی تصاویر کو ہٹاتے نظر آئے لیکن اس کے باوجود کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ شاید طالبان اب خواتین کے حقوق کی نہ صرف پاسداری کریں گے بلکہ اپنی نئی حکومت میں انھیں اہم عہدوں پر بھی تعینات کریں گے۔

منگل کے روز طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جب کابل میں پریس کانفرنس کے دوران طالبان حکومت کی عبوری کابینہ کا اعلان کیا تو اس میں کہیں بھی خواتین کا نام و نشان موجود نہیں تھا اور نہ صرف یہ بلکہ طالبان کی کابینہ میں خواتین کے امور کی وزارت کا سرے سے نام و نشان ہی نہیں۔

اس پریس کانفرنس کے بعد جب بی بی سی کے نامہ نگار سکندر کرمانی نے طالبان عہدیدار احمد اللہ واثق سے پوچھا کہ ان کی کابینہ میں ’ایک بھی خاتون کا شامل نہ ہونا کیا پیغام دیتا ہے‘ تو انھوں نے کہا ’کابینہ سے متعلق اعلانات ابھی ختم نہیں ہوئے۔‘

طالبان کے آنے کے بعد چند حلقوں میں ان کے ماضی سے مختلف ہونے کے بارے میں جو بحث جاری تھی، گذشتہ روز سے اب وہ تھم سی گئی ہے اور افغانستان اور پاکستان سمیت دنیا بھر سے لوگ اور خاص طور پر خواتین اب سوشل میڈیا پر طالبان کی کابینہ میں خواتین کی عدم شمولیت پر سوال اور افغانستان میں خواتین کے حقوق سے متعلق مختلف خدشات کا ذکر رہے ہیں۔

پاکستانی صحافی غریدہ فاروقی نے اس بارے میں لکھا: ’افغان طالبان کی نئی حکومت میں خواتین اور اقلیتوں کی نمائندگی نہ ہونا ’بدلے ہوئے طالبان‘ کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔‘

لمز یونیورسٹی کی معلمہ اور سماجی کارکن ندا کرمانی نے لکھا: ’طالبان کی نئی حکومت میں 95 فیصد پشتون ہیں، سب مرد ہیں اور ان میں کئی اقوام متحدہ کی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل ہیں۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwiteer/@GFarooqi

ندا کرمانی نے مزید لکھا: ’انھوں نے ایک صنف کو دوسرے سے الگ رکھنے کے لیے سخت قوانین نافذ کیے، مظاہرین سے مار پیٹ کی اور صحافیوں کو گرفتار کیا۔ ان لوگوں کو قتل کیا جنھوں نے ان کی مخالفت کی اور ان میں ایک خاتون پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جنھیں ان کے خاندان کے سامنے مارا گیا۔ تو وہ کیسے سب کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔‘

حقوق نسواں کے لیے کام کرم کرنے والی افغان سماجی کارکن سمیرا حامدی نے ٹوئٹر پر لکھا: ’امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ کو مبارک ہو۔

’طالبان کی نئی حکومت میں صرف مرد، ملا اور طالب شامل ہیں۔ وہ (طالبان) جو کہتے ہیں انھوں نے ثابت کر دیا‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@HuriaSamira

افغانستان میں خواتین کے امور کی وزارت کی سابق وزیر حبیبہ سرابی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہمارے لیے یہ غیر متوقع نہیں تھا۔ یہ حیران کن نہیں کیونکہ یہی طالبان کی ذہنیت ہے۔ جس وقت ہم ان سے مذاکرات کر رہے تھے تو انھوں نے ایسا ظاہر کیا جیسے ان کی سوچ کچھ اور ہے۔

’وہ خواتین کے حقوق پر یقین نہیں رکھتے، وہ انسانی حقوق پر یقین نہیں رکھتے اور اسی لیے انھوں نے خواتین یا اقلیتوں کو شامل نہیں کیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’طالبان کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ملک صرف ملا یا شیخ سے نہیں چل سکتا کیونکہ ملکوں کو ماہرین اور پیشہ ورانہ افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

ایک اور افغان سماجی کارکن حسینہ صفی نے لکھا: ’خواتین کی نمائندگی نہ ہونا افسوسناک ہے۔ وزرا کی نئی کابینہ میں خواتین کی وزارت نہیں۔ خواتین کی نمائندگی مؤثر حکومت کا ایک جزو ہوتا ہے۔‘

صحافی ملالی بشیر نے لکھا: ’یہ حیرت کی بات نہیں لیکن قابل توجہ ہے کہ طالبان نے خواتین کے امور کی وزارت کو ختم کر دیا اور اس کی جگہ وزارتِ امر بالمعروف والنهی عن المنكر کو اپنی کابینہ میں شامل کیا۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@MalaliBashir

لیکن صرف خواتین ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے مردوں کی ایک بڑی تعداد بھی طالبان کی کابینہ سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کر رہی ہے۔

امریکی کالم نگار ٹاڈ سٹارنز نے لکھا: ’طالبان نے 33 کابینہ ارکان پر مشتمل اپنی نئی حکومت کا اعلان کیا ہے، جن میں کوئی بھی خاتون یا ایل جی بی ٹی کمیونٹی کا کوئی رکن شامل نہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@MasoodaWaezi

سماجی کارکن سلیم جاوید نے طالبان کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ سے لے کر ان کے ہر جنگجو کی سوچ ایک جیسی ہے اور یہ ایک دن میں تبدیل نہیں ہو سکتی۔‘

ڈاکٹر نیلوفر نے طالبان کے وزیر تعلیم کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’طالبان کے وزیر تعلیم کے مطابق پی ایچ ڈی اور ماسٹرز کی ڈگری کی کوئی اہمیت نہیں۔ پاگل پن۔‘

واضح رہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت ملک کے دیگر حصوں میں بھی گذشتہ چند روز سے افغان خواتین اپنے حقوق کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔

گذشتہ روز کابل کی سڑکوں پر افغان خواتین اور نوجوانوں نے اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کے لیے احتجاج کیا تھا۔

اس کے علاوہ دو روز قبل صوبہ بلخ کے دارالحکومت مزار شریف میں خواتین کے ایک گروپ نے اپنے حقوق اور آزادی کا مطالبہ کرنے کے لیے ریلی نکالی تھی۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@toddstarnes

مظاہرین نے بلخ کی صوبائی انتظامیہ کی عمارت کے سامنے مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ طالبان اپنی حکومت میں افغان خواتین کے حقوق کا تحفظ کریں۔

ریلی کے شرکا میں سے ایک نے بی بی سی فارسی کو بتایا تھا کہ اگرچہ مارچ پرامن تھا، طالبان کے ارکان نے انھیں اور صحافیوں کو مارنے کی دھمکیاں دیں۔

ان احتجاجی مظاہروں میں شریک افغان خواتین اس وقت دنیا بھر میں عزم و ہمت کی علامت بن چکی ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ ان کے حوصلے کو داد دیتے ہوئے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Malala

نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے ان احتجاجی خواتین کی حمایت میں ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: ’ہم اپنی حفاظت، تعلیم اور کام کے حق کے لیے گلیوں میں مارچ کرتی خواتین کے ساتھ متحد ہیں۔‘

ایرانی صحافی مسیح علی نژاد نے لکھا: ’احتجاج کرتی خواتین طالبان کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن رہی ہیں۔ افغان خواتین اپنی لڑائی چھوڑنے کا کوئی ارداہ نہیں رکھتیں۔

انھوں نے سوالیہ انداز میں مزید لکھا: ’کیا دنیا ان کی آواز سنے گی‘

صارف مسعودہ ویزی نے لکھا: ’یاد رکھیں، آپ ہمیں روک نہیں سکتے، جب تک ہم زندہ ہیں ہم آپ کو اپنی جدوجہد کے 20 برس ضائع کرنے نہیں دیں گے۔‘

افغانستان ہیومن رائٹس کمیشن کی چیئرپرسن شہرزاد اکبر نے طالبان کی حکومت میں خواتین سے متعلق قواعد کے بارے میں لکھا: ’اطلاعات ہیں کہ صرف صحت، تعلیم اور امدادی تنظیموں میں کام کرنے والی خواتین کام پر جا سکتی ہیں۔

’انھیں لباس سے متعلق سخت ضابطہ اخلاق کی پیروی کرنا ہو گی اور گھر کے کسی مرد کا ان کے ساتھ ہونا لازمی ہے۔ دوسرے شعبوں میں خواتین کو گھر رہنے پر مجبور کیا گیا ہے اور ان کا مستقبل واضح نہیں۔‘