انڈیا کے بڑے تعلیمی اداروں کے طلبا میں خودکشی کے بڑھتے رجحان کی وجوہات کیا ہیں؟

،تصویر کا ذریعہAni
- مصنف, پرتھوی راج
- عہدہ, نمائندہ بی بی سی
انڈیا کی مرکزی حکومت نے لوک سبھا (ایوان زیریں) کو آگاہ کیا ہے کہ سنہ 2014 سے سنہ 2021 کے درمیان ملک کے معروف اور بڑے تعلیمی اداروں میں 122 طلبا نے خودکشیاں کی ہیں۔
حکومت کی جانب سے یہ اعدادوشمار فراہم کیے جانے کے بعد یہ سوال زیر گردش ہے کہ کیا ملک کے بہترین تعلیمی اداروں میں پسماندہ طبقات اور اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے طلبا کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک نے ان طلبا کو خودکشی جیسا انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور کیا؟
گذشتہ دنوں رکن پارلیمان اے کے پی چنراج کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے لوک سبھا کو بتایا کہ خودکشی کرنے والے طلبا میں سے 24 بچے ایس سی (درج فہرست ذات)، 41 دیگر پسماندہ طبقات، تین درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور تین اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھتے تھے۔
مرکزی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس، سینٹرل یونیورسٹیز اور دیگر تعلیمی اداروں میں خودکشی کے 122 واقعات رپورٹ ہوئے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ان سات برسوں میں خودکشی کرنے والے تمام طلبہ میں سے 58 فیصد کا تعلق ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور اقلیتی برادریوں سے تھا۔ خودکشی کرنے والے طلبہ میں بڑی تعداد مرکزی یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے بچوں کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAni
دھرمیندر پردھان کا بیان
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، خودکشی کرنے والے طلبا میں سے 34 کا تعلق آئی آئی ٹی سے اور پانچ بچوں کا تعلق آئی آئی ایم سے تھا، جبکہ نو کا تعلق انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس، بنگلور اور آئی آئی ایس ای آر سے تھا اور چار بچے آئی آئی آئی ٹی میں زیر تعلیم تھے۔
ان سات سالوں میں ملک کی مختلف مرکزی یونیورسٹیوں میں 37 بچوں نے خودکشی کی، جب کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے مختلف کیمپسز میں خودکشی کے باعث 30 طلبا نے اپنی جان لی۔
دھرمیندر پردھان نے لوک سبھا کو بتایا: 'حکومت اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے طلبا کے خلاف امتیازی سلوک اور ہراساں کرنے کے معاملات کو روکنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ طلبا کے مفادات کے تحفظ کے لیے یو جی سی (طلبہ کی شکایات کا ازالہ) رولز-2019 نافذ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وزارت نے اور بھی بہت سے اقدامات کیے ہیں۔ بچوں پر پڑھائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے طلبا کو علاقائی زبان میں فنی تعلیم کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مرکزی وزیر نے پارلیمنٹ کو یہ بھی بتایا کہ حکومت نے طلبا کی ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہROHIT VEMULA / FACEBOOK
حکومتی کوششیں
دھرمیندر پردھان نے کہا: ’حکومت ہند نے منودرپن (ذہنی کیفیت کا آئینہ) نامی ایک پراجیکٹ لانچ جاری کیا ہے۔ اس کے تحت طلبا، اساتذہ اور خاندان کے افراد کو کورونا کی وبا کے بعد نفسیاتی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ اداروں میں خوشی اور صحت مند طرز زندگی پر ورکشاپس اور سیمینارز منعقد کیے جا رہے ہیں۔ یوگا پر باقاعدگی سے سیشنز منعقد کیے جا رہے ہیں، کھیل، ثقافتی تقاریب اور دیگر سرگرمیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔‘
دھرمیندر پردھان نے کہا کہ اس کے علاوہ طلبا، ہاسٹل وارڈن اور اُن کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کو ڈپریشن کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے تاکہ ضرورت مند طلبا کو بروقت امداد فراہم کی جا سکے۔
انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس
دوسری جانب بنگلور میں واقع انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس کے ہاسٹل کے کمروں سے چھت کے پنکھے ہٹائے جا رہے ہیں۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟
روان سال مارچ کے بعد انسٹیٹیوٹ میں خودکشی کرنے والے چار طلبہ میں سے تین نے اپنے ہاسٹل کے کمرے کے پنکھے سے لٹک کر خود کو ہلاک کر لیا تھا۔ نیوز ویب سائٹ ’دی پرنٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ ادارہ چھت کے پنکھے کو تبدیل کرنے اور دیواروں پر وال پنکھے یا ٹیبل فین لگانے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔
’دی پرنٹ‘ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس کے حکام نے ای میل پر بھیجے گئے اپنے جواب میں بتایا کہ وہ ماہرین صحت کی سفارش کے بعد چھت کے پنکھے ہٹا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انسٹیٹیوٹ کے کونسلر بھی طلبا سے ان کی خیریت کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNAVEEN KUMAR K / BBC
تاہم دانشوروں اور سینیئر طلبہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے طلبہ کی خودکشی کے واقعات ختم ہونے والے نہیں ہیں۔
حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے سابق ریسرچ سکالر اور دراوڑ بہوجن ویدیکا کے بانی صدر ڈاکٹر جلوکارا سرینواس کہتے ہیں کہ ’حکومت کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار صرف ان طلبا کے ہیں جنھوں نے کیمپس کے اندر خودکشی کی ہے۔ گھر میں یا کیمپس کے باہر کہیں اور خودکشی کرنے والے طلبا ان اعداد و شمار میں شامل نہیں ہیں۔‘
اعلیٰ ذاتوں کا کنٹرول
ڈاکٹر جلوکارا سرینواس کہتے ہیں کہ ’طالب علموں کی خودکشی نظام کے ذریعے کیے جانے والے قتل ہیں۔ آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم اور مرکزی یونیورسٹیاں جیسے اعلیٰ تعلیمی ادارے مرکزی حکومت کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ اس لیے مرکزی حکومت کو ان اداروں میں خودکشی کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔‘
’سنٹرل یونیورسٹیز، آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم جیسے اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ ان پر اعلیٰ ذاتوں کا کنٹرول ہے۔ حالیہ اعداد و شمار سے یہ واضح ہے کہ ان اداروں کے کیمپس میں مرنے والے بچوں میں سے زیادہ تر ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور دیگر اقلیتی طلبا تھے۔‘
یہ بھی پڑھیے
ڈاکٹر جلوکارا سرینواس نے الزام لگایا ہے کہ ’کیمپس کے باہر او بی سی طلبا کی بڑی تعداد ہے لیکن وہ پھر بھی کیمپس میں اکیلے رہ جاتے ہیں۔ اونچی ذات کے لوگ شیڈول ذات اور اقلیتی برادریوں کے طلبا کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان طلبا کو ذہنی اذیت سے گزرنا پڑتا ہے اور وہ خودکشی کر لیتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAni
ان کا ماننا ہے کہ کیمپس میں لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان صنفی عدم مساوات کم ہوئی ہے، لیکن ذات پات کے امتیاز کے معاملات میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔ چھوٹی ذاتوں اور اقلیتی طلبہ کے حوالے سے حساس رویہ رکھنے جیسی سوچ سمجھ کا بھی فقدان ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کچھ کیمپسز میں شکایات کے ازالے کے سیل بنائے گئے ہیں، کونسلرز رکھے گئے ہیں، لیکن بہت سے کیمپس میں ایسا ہونا باقی ہے۔ اور جہاں وہ سہولیات موجود ہیں وہاں بھی ان کی طرف سے کوئی ٹھوس مدد نہیں ملتی ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’جب روہت ویمولا نے سنہ 2016 میں حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں خودکشی کی، تو سول سوسائٹی کا ماننا تھا کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ نظام کی طرف سے کیا گیا قتل ہے۔‘
’طلبہ کی خودکشی کی تین بڑی وجوہات کیا ہیں‘
حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی کے طالب علم اور امبیڈکر سٹوڈنٹس یونین کے رہنما مُنّا کہتے ہیں: ’ضروری نہیں کہ مرکزی یونیورسٹیوں میں طلبہ کی خودکشی کے تمام واقعات کے پیچھے امتیازی سلوک ہی ہو، لیکن زیادہ تر معاملات میں یہی وجہ رہی ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ تین باتون سے ایک طالب علم کو لگتا ہے کہ اس کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے اور وہ اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAni
مُنّا بتاتے ہیں: ’پہلی وجہ دیہی پس منظر ہے۔ دیہی پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبا سخت محنت کے بعد داخلہ حاصل کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ جب وہ کیمپس میں داخلہ لیتے ہیں، تو انھیں بنیادی تربیت کے بغیر کورس کے بنیادی نصاب سے نمٹنا پڑتا ہے۔ یہ ان پر اثر انداز ہوتا ہے۔ انگریزی کا علم بھی ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔‘
مُنّا مزید کہتے ہیں ’دوسری وجہ یہ ہے کہ اساتذہ انھیں نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے ساتھ ذات، مذہب اور رنگ کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ یہ امتیاز طلبا کو دیے گئے نمبروں میں نظر آتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
’تیسری وجہ یہ ہے کہ انھیں گائیڈ الاٹ نہیں کیا جاتا۔ اگر کوئی گائیڈ مل بھی جائے تو وہ اپنا کام ٹھیک طریقے سے نہیں کرتے۔ انھیں یہ کہہ کر طنز اور مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ جانور چرانے والے آج کلاس روم میں بیٹھے ہیں۔ تم لوگوں کو تعلیم کی کیا ضرورت ہے۔‘
ان تین وجوہات سے کچھ طلبا محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے اور وہ خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں۔ یہ حالات انھیں خودکشی کے فیصلے کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAni
سینتھل کمار اور روہت ویمولا کا معاملہ
سینتھل کمار کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے منّا کہتے ہیں: ’سینتھل کمار سنہ 2008 میں پی ایچ ڈی کا طالب علم تھا، اس نے انھی حالات میں خودکشی کی تھی۔ وہ ریاست تمل ناڈو سے تھے اور ایک شیڈولڈ قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ جب وہ اپنی فیلوشپ لینے گئے تو اسے کہا گیا کہ تم سور (خنزیر) چرانے والے ہو، تمہیں تعلیم کی کیا ضرورت ہے۔ اس بات نے اسے پریشان کر دیا۔ سکالرشپ کی رقم نہ ملنے کی وجہ سے وہ قرض کی دلدل میں پھنس گیا۔ اس کے گھر والوں کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ اس کی مدد کر سکتے۔ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا اور اس نے خودکشی کر لی۔‘
اسی طرح روہت ویمولا کو بھی سماجی اور سیاسی امتیاز کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے انھوں نے سنہ 2016 میں خودکشی کر لی تھی۔
منّا بتاتے ہیں: ’روہت سیاسی طور پر کیمپس میں امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ انھیں کیمپس سے معطل کر دیا گیا اور انھوں نے تین مہینے تک اس کے خلاف جدوجہد کی۔ جب انھیں لگا کہ وہ اس ناانصافی کا مقابلہ نہیں کر پائيں گے تو انھوں نے خودکشی کر لی۔‘

،تصویر کا ذریعہAni
'سکالرشپ اور فیلو شپ وقت پر نہیں ملتے'
امبیڈکر سٹوڈنٹس یونین کے رہنما مُنّا کا کہنا ہے کہ سکالرشپ کے معاملے پر اعلیٰ اداروں میں پسماندہ معاشرے کے خلاف امتیازی سلوک واضح طور پر نظر آتا ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ ہم درج فہرست ذات/ قبائل کے طالب علموں کو مفت تعلیم دیتے ہیں، آپ جا کر اپنی پڑھائی کریں، دوسری طرف بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ ان طالب علموں کو ریزرویشن ملتا ہے، انھیں سب کچھ مفت میں دستیاب ہیں۔ اور چونکہ انھیں سب کچھ مفت مل رہا ہے، اس لیے وہ کیمپس میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے نہیں آتے بلکہ صرف کھانے کے لیے آتے ہیں۔
'لیکن در حقیقت ایسا ہوتا ہے کہ حکومت کے بھروسے پر یہ طلبا گاؤں سے شہر تک انسٹیٹیوٹ کے کیمپس میں آتے ہیں، لیکن حکومت انھیں کبھی بھی سکالرشپ کی رقم وقت پر فراہم نہیں کرتی۔ اس تاخیر کی وجہ سے طلبا وقت پر اپنی فیس ادا نہیں کر پاتے ہیں۔ اگر وہ فیس ادا نہیں کرتے ہیں تو انھیں نوٹس دیا جاتا ہے کہ آپ نے فیس ادا نہیں کی ہے اس لیے آپ کو امتحان میں شامل نہیں دیا جائے گا اور آپ کا داخلہ منسوخ کر دیا جائے گا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ طلبہ کا بھروسہ ٹوٹ جاتا ہے اور وہ ذہنی دباؤ میں چلے جاتے ہیں۔‘
ڈاکٹر جلوکارا سرینواس کا کہنا ہے کہ مرکزی اداروں میں بیک لاگ پوسٹیں خالی پڑی ہیں۔ اگر حکومت انھیں پُر کر دے تو ان اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو زیادہ سہارا ملے گا۔











