انڈیا: کرناٹک میں نقل سے روکنے کے لیے کالج طلبہ کو گتے کے ڈبے پہنا دیے گئے

،تصویر کا ذریعہANI
انڈیا میں ایک کالج کی انتظامیہ کو اس وقت معافی مانگنی پڑ گئی جب سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں اس کالج کے طلبہ کمرہ امتحان میں گتے کے ڈبے اپنے سروں پر پہنے بیٹھے دکھائی دیے۔
یہ تصاویر انڈین ریاست کرناٹک کے بھگت پری یونیورسٹی کالج کی ہیں جو وہاں ہوئے کیمسٹری کے پرچے کے دوران بنائی گئیں۔
تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طلبہ گتے کے سامنے سے کھلے ہوئے ڈبے سروں پر پہنے بیٹھے ہیں تاکہ وہ دوسروں کا کام نقل نہ کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیے
کالج کے ایک جونیئر انتظامی افسر نے اس واقعے پر ضلعی حکام سے معافی مانگی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایم بی ستیش نے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے نقل سے روکنے کا یہ انوکھا منصوبہ آزمانے پر شرمندگی کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سکول انتظامیہ نے اس منصوبے کو ’تجرباتی طور‘ پر اس وقت نافذ کیا جب انھیں اس کے بارے میں ایک دوسرے سکول سے پتا چلا۔

،تصویر کا ذریعہANI
انھوں نے کہا کہ یہ سب طلبہ کی رضامندی سے کیا گیا اور یہاں تک کہ تمام طلبہ اپنے اپنے گتے کے ڈبے اپنے گھر سے ساتھ لائے تھے۔
ان کے مطابق ’طلبہ پر کسی طرح کا دباؤ نہیں تھا۔ آپ تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں کہ چند طلبہ نے ڈبے نہیں پہنے ہوئے۔ کچھ طلبہ نے ڈبے پہننے کے 15 منٹ بعد انھیں اتار دیا تھا، جبکہ کچھ نے 20 منٹ بعد۔ باقی طلبہ کو ہم نے ایک گھنٹے بعد ڈبے سر سے اتارنے کا کہہ دیا تھا۔‘
اطلاعات ہیں کہ اس واقعے کی شکایات ملتے ہی محکمہ تعلیم کے مقامی حکام فوراً سکول پہنچے۔
مقامی پری یونیورسٹی تعلیمی بورڈ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایس سی پیرزادے نے اس عمل کو ’غیر انسانی‘ قرار دیا ہے۔
انھوں نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ ’جب مجھے اس کی اطلاع ملی تو میں فی الفور کالج گیا اور انتظامیہ کو اسے روکنے کی ہدایت کی۔ میں نے کالج انتظامیہ کو نوٹس بھی جاری کیا ہے جبکہ ان کے خلاف تادیبی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔‘
سکول کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ طرزِ عمل ختم کر دیا ہے اور متعلقہ تعلیمی بورڈ کے حکم پر عمل درآمد کیا جائے گا۔











