انڈیا کے ایک گاؤں میں بندروں پر کتوں کے پلوں کو ’اغوا‘ کر کے ہلاک کرنے کا الزام، آخر یہ ماجرا کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہNITIN SULTAN
- مصنف, نِتن سلطان
- عہدہ, بی بی سی مراٹھی، لاول
انڈیا کی ریاست مہاراشٹر کا ایک گاؤں گذشتہ ایک ہفتے سے دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور اس کی وجہ یہاں بندروں اور کتوں کے درمیان جھگڑے کی خبریں ہیں۔
اس خبر کے حوالے سے میڈیا اداروں میں کئی طرح کے دعوے کیے گئے۔ میڈیا میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ بندروں نے کتوں کے 200 پِلوں کو مار دیا ہے۔ تاہم، جب بی بی سی مراٹھی کے نامہ نگار نے اس گاؤں میں جا کر ان دعوؤں کی سچائی جاننے کی کوشش کی تو ایک اور تصویر سامنے آئی۔
یہ گاؤں لاول مراٹھواڑہ کی تحصیل ماجلگاؤں سے صرف پانچ سے سات کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ 1980 میں گاؤں کے قریب سے بہنے والی ندی پر ڈیم بنانے کی کوشش کی وجہ سے پورا گاؤں زیر آب آ گیا تھا۔ بعد میں اس گاؤں کو دوبارہ آباد کیا گیا جسے لاول نمبر 1 گاؤں کہا جاتا ہے۔
اس گاؤں کی آبادی پانچ ہزار سے زیادہ ہے اور گاؤں کا رقبہ بھی بڑا ہے۔ گاؤں میں ایک سکول، بینک اور دیگر بنیادی سہولیات موجود ہیں۔ ماجلگاؤں ڈیم کے پانی کی وجہ سے زراعت کے لیے وافر پانی موجود ہے اور گنے کی کاشت بھی پھل پھول رہی ہے۔
ہم بندروں اور کتوں کی لڑائی کی خبروں سے متعلق جاننے کے لیے لاول گاؤں پہنچے۔ روزمرہ کی طرح گاؤں کی ایک بڑی آبادی اپنے کاروبار میں مصروف تھی۔ گاؤں میں داخل ہونے کے بعد ہم کچھ ہی فاصلے پر لاول گرام پنچایت کے دفتر پہنچے اور اس جھگڑے کی حقیقت جاننے کی کوشش کی۔
اس وقت دفتر میں گرام پنچایت کے ارکان اور دیگر ملازمین موجود تھے۔ اس کے علاوہ عام لوگ بھی تھے جو اپنے اپنے کام کے سلسلے میں وہاں آتے ہیں۔ ہم ان لوگوں سے جاننا چاہتے تھے کہ یہ سارا معاملہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہNITIN SULTAN
بندر آیا اور...
حالانکہ یہ خبر گذشتہ ہفتے ہی ملک اور دنیا کے میڈیا میں سرخیوں میں آئی تھی لیکن لاول گاؤں کے لوگوں کے مطابق یہ معاملہ ستمبر کے مہینے میں شروع ہوا جب دو بندر لاول گاؤں میں آئے۔
گاؤں کی پنچایت سمیتی کے رکن رویندر شندے نے کہا، ’گاؤں میں بندر زیادہ نہیں ہیں، کبھی کبھی وہ آتے تھے لیکن زیادہ پریشان نہیں کرتے تھے۔ لیکن اس بار بندروں کے آنے کے بعد گاؤں میں عجیب و غریب واقعات دیکھنے کو ملے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’یہ بندر کتے کے پِلوں کو اٹھا کر درختوں یا اونچے گھروں تک لے جاتے تھے۔ پہلے تو گاؤں والوں کو زیادہ سمجھ نہیں آئی لیکن پھر دیکھا کہ بندر آہستہ آہستہ کتے لے کر بھاگ رہے ہیں۔‘
کتے کے بعض پِلے جنہیں بندر درختوں یا اونچے مکانوں پر لے گئے تھے وہ اونچائی سے گرنے کی وجہ سے مر گئے۔ یہاں سے یہ افواہ پھیلنے لگی کہ بندر ان کتوں کو مار رہے ہیں۔
اس کے بعد بہت سی افواہیں پھیلنے لگیں جیسے بندر کسی کا پیچھا کرے یا بندر کسی کے سامنے سے گزر جائے تو وہ شخص اچانک گر کر زخمی ہو گیا۔
ایسا ہی ایک واقعہ سیتارام نائبل کے ساتھ پیش آیا۔ وہ کتے کے پِلوں کو اپنے گھر کی چھت سے اتارنے کے لیے اوپر چڑھے تھے کہ اچانک وہاں بندر آ گئے تو وہ خوف کے مارے نیچے کود کر زخمی ہو گئے۔
اس حادثے میں نائبل کے دونوں پاؤں کی ایڑیاں ٹوٹ گئیں اور دونوں پاؤں میں راڈز ڈالنا پڑے۔ انھوں نے بتایا کہ علاج پر تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ تین ماہ کے بعد بھی وہ آہستہ آہستہ تھوڑی دیر کے لیے چلنے کے قابل ہوئے۔
کئی بار لوگوں نے یہ بھی سنا کہ بندروں نے بچوں کا پیچھا کیا۔ اس کے بعد لوگوں نے اپنے گھروں کو اندر سے بند رکھنا شروع کر دیا اور معاملہ گرام پنچایت تک بھی پہنچا۔
یہ بھی پڑھیے
ابتدا میں محکمہ جنگلات نے نظر انداز کیا
گاؤں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس لیے گرام پنچایت نے محکمہ جنگلات میں شکایت درج کر کے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔
ولیج ڈیویلپمنٹ آفیسر نانا صاحب شیلکے نے کہا کہ ’میں نے اس سلسلے میں محکمہ جنگلات کو 13 ستمبر کو خط لکھا تھا لیکن ہمیں کوئی جواب نہیں ملا۔‘
اس کے بعد دوبارہ خط و کتابت ہوئی تو اس کا بھی خیال نہیں رکھا گیا۔ گاؤں میں تنازعات کو حل کرنے والی کمیٹی کے چیئرمین رادھا کشن سوناونے نے کہا، ’محکمہ جنگلات نے ایک یا دو بار ٹیمیں بھیجیں، لیکن جب گاؤں والوں نے یہ مسئلہ مسلسل اٹھایا، تو وہ صرف معائنہ کر کے چلے گئے۔‘
گاؤں والوں نے بتایا کہ آخر کار انھوں نے میڈیا کا سہارا لیا اور میڈیا میں تشہیر اور بحث کے بعد فوری کارروائی کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہNITIN SULTAN
کتے کی مدد سے بندر پکڑا گیا
میڈیا میں کافی بحث کے بعد بالآخر فارسٹ ڈپارٹمنٹ نے بندروں کو پکڑنے کے لیے ناگپور میں اپنی ٹیم سے رابطہ کیا اور انہیں بلایا گیا۔
اس کے بعد 19 دسمبر کو ناگپور کی ٹیم نے جال بچھا کر بندروں کو پکڑا۔ بندروں کو جال تک لانے کے لیے ایک کتے کو پنجرے میں رکھا گیا۔
وڈوانی کے فارسٹ افسر ڈی ایس مورے نے بی بی سی مراٹھی کو بتایا ’ان بندروں کو پکڑنے کے بعد، انہیں ان کے قدرتی مسکن یعنی جنگل میں چھوڑ دیا گیا تھا۔‘
’کتے کے پِلوں کی بار بار موت‘
میڈیا میں آنے والی خبروں کی وجہ سے سب کی توجہ اس معاملے کی طرف آئی لیکن کتے کے پِلوں کی بڑھتی ہوئی اموات کی وجہ سے اس دوران مختلف باتیں پھیل گئیں۔
ابتدائی طور پر کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ تعداد 10 سے 15 بتائی گئی تھی اور چند دنوں میں اس میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔ کچھ میڈیا اداروں نے تو یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ بندروں نے 250 کتے مارے ہیں۔
تاہم لاول گاؤں کے لوگوں نے مختلف دعوے کیے ہیں۔ کچھ نے 50 سے 60 کتوں کے مرنے کی بات کی، ایسے لوگ بھی ملے جن کے مطابق 100 سے زیادہ کتے مر چکے ہوں گے، جب کہ کچھ نے کہا کہ 200 کتے مر چکے ہوں گے۔
تاہم بات چیت کے دوران گاؤں کے کچھ لوگوں نے کہا کہ اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور حقیقت میں 50 سے کم کتے مرے ہوں گے۔ گاؤں والوں کو ملنے والی سرکاری تعداد صرف 50 اور 60 کے درمیان ہے۔
دوسری جانب فاریسٹ آفیسر ڈی ایس موڑ نے ان تمام اعداد و شمار کو غلط قرار دیا ہے۔ انھوں نے بی بی سی مراٹھی کو بتایا ’ہو سکتا ہے تین سے چار کتے مرے ہوں۔‘
افواہیں پھیلانے کی وجہ؟
جیسے جیسے مردہ کتوں کی تعداد بڑھتی گئی گاؤں میں افواہیں بھی بڑھ گئیں۔ اس میں کئی طرح کی افواہیں شامل تھیں۔ یہ سارا معاملہ کیسے شروع ہوا اس کے بارے میں بھی بہت سی افواہیں ہیں۔
ایسی ہی ایک افواہ کے مطابق پہلے کتوں نے ایک نوزائیدہ بندر کو مار ڈالا تھا، اس کے بعد بندروں نے کتوں کو مارنا شروع کر دیا اور اس کے لیے انھوں نے کتوں کو اوپر سے نیچے پھینکنا شروع کر دیا۔
گاؤں کے پنچایت ممبر رویندر شندے نے کہا ’گاؤں کے کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ ایک بندر ایک نوزائیدہ بندر کی موت کی وجہ سے پاگل ہو گیا ہے اور وہ کتے کو اپنا بچہ سمجھ کر بھاگ رہا ہے۔‘
لکشمن بھگت نے کہا ’بچے سکول جانے سے ڈرتے تھے۔ گھر کے مرد کھیتوں میں نہیں جاتے تھے اور عورتیں کام کے لیے گھروں سے نہیں نکلتی تھیں۔‘
لکشمن بھگت کے گھر کی چھت پر بندر کئی دنوں تک ٹھہرے رہے۔ اور ان کے مطابق اس دوران وہ آٹھ دس کتے کے بچوں کو چھت پر لے آئے تھے۔
لکشمن بھگت نے بتایا کہ ’رات کو بندروں کے ساتھ کتے کے پِلوں کا شور ہوتا تھا، گھر کے چھوٹے بچے ڈر جاتے تھے، لیکن ہم سمجھتے تھے کہ کتے بھوک کی وجہ سے رو رہے ہیں، اگلے دن سے ہم نے دودھ اور روٹی چھت پر کتے کے پِلے کے پاس رکھ دی۔‘
ان سے کچھ کتوں کی جان بچ گئی اور آج وہ بھگت کے گھر کے سامنے نظر آ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNITIN SULTAN
بندروں نے ایسا کیوں کیا؟
فاریسٹ آفیسر ڈی ایس مورے کا موقف اس معاملے میں ذرا مختلف ہے۔ ان کے مطابق اس کا منطقی جواب یہ ہے کہ ’کتے کے بالوں میں چھوٹی جوئیں ہوتی ہیں اور بندر انہیں کھاتے ہیں اور وہ کتے کے پِلوں کو صرف یہ کھانے کے لیے اٹھاتے ہیں۔‘
ڈی ایس مورے کا کہنا تھا ’بڑے کتے آسانی سے بندروں کی گرفت میں نہیں آسکتے ہیں۔ کتے کے پِلے آسانی سے پکڑے جاتے ہیں اور خود کو بچا بھی نہیں سکتے۔ جوئیں، پسو کھانے کے بعد بندر کتے کے پِلوں کو درختوں یا گھروں کی چھتوں پر چھوڑ دیتے ہیں، جہاں دو تین دن تک خوراک یا پانی کی کمی سے کتے مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ کتے کے پِلے اتنی اونچائی سے نیچے نہیں آسکتے اور یہی وجہ ہے کہ کچھ کتے نیچے اترنے کی کوشش میں مر گئے ہوں گے۔‘
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
اورنگ آباد کے سدھارتھ ادیان کے چڑیا گھر میں طرح طرح کے جانور ہیں۔ ڈاکٹر بی ایس نائکواڈے نے طویل عرصے تک یہاں کام کیا ہے۔ ہم نے ان سے بندروں کے رویے کے بارے میں بھی جاننے کی کوشش کی۔
نائکواڈے نے کہا ’یہ سچ ہے کہ بندر غصے میں بدلہ لینے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ تاہم لاول گاؤں کے بارے میں جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ مبالغہ آرائی ہے۔‘
جس میں لائف کیئر اینیمل ایسوسی ایشن کے صدر دھنراج شندے ایک مختلف پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بقول اُن کے ’بندر بہت شوقین جانور ہے۔ شاید اس نے تجسس کی وجہ سے ایسا کیا ہو۔‘
فاریسٹ آفیسر ڈی ایس مورے نے کہا ’بندروں نے گاؤں میں کسی پر حملہ نہیں کیا۔ لوگوں کی گھبراہٹ کی وجہ سے کچھ حادثات بھی ہوئے لیکن بندر نے کبھی حملہ نہیں کیا‘
وہ مزید کہتے ہیں ’اگر بندروں کے درمیان لڑائی ہوتی ہے تو لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور بندروں پر حملہ کر دیتے ہیں۔ تو بندر اپنے دفاع میں کچھ تو کریں گے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ لوگ بندروں کے حملوں پر دوبارہ بات کریں گے لیکن ایسی افواہیں مستقبل میں مزید مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔
بندروں کے پکڑے جانے اور انہیں جنگل میں چھوڑے جانے کے بعد لاول گاؤں میں تین ماہ سے جاری ڈرامائی صورتحال بالآخر ختم ہوگئی ہے۔ اب گاؤں میں کتے بہت نظر آتے ہیں، کتے کے بچے بھی کچھ جگہوں پر موجود ہیں۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس گاؤں میں کتوں کے مارے جانے کی افواہیں شاید اتنی جلدی ختم نہ ہو سکیں کیوں کہ گاؤں میں اب بھی اس کا ہر وقت ذکر ہوتا رہتا ہے۔










