کسانوں کا احتجاج: اترپردیش میں پرتشدد واقعات میں آٹھ افراد کی ہلاکت، حکومت کا معاوضے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا اعلان

انڈیا
،تصویر کا کیپشنانڈین حکومت نے ہلاک ہونے والے کسانوں کے لیے 45، 45 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے

انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اُتر پردیش کے شہر لکھیم پور ضلع ہیڈ کوارٹر سے تقریباً 75 کلومیٹر دور تیکونیا گاؤں میں تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں اب تک چار کسانوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تیکونیا گاؤں نیپال کی سرحد پر واقع ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں انڈیا کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دو کارکن بھی شامل ہیں۔ اتوار کی شام سے شروع ہونے والے ہنگاموں میں اب تک لگ بھگ ایک درجن افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

کسانوں کے احتجاج اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر اُترپردیش کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے سرکردہ رہنما مظاہرین سے اظہار یکجہتی کے لیے لکھیم پور پہنچنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جبکہ ریاست میں حکمراں جماعت بی جے پی سیاسی رہنماؤں کو متاثرہ گاؤں سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

اُترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے رہنما نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے جبکہ کانگریس رہنما پرینکا گاندھی کو لکھیم پور کے راستے میں روک دیا گیا ہے اور انڈین سوشل میڈیا پر ان کے ساتھ پولیس کی مبینہ دست درازی کی رپورٹس گردش کر رہی ہے۔

حکومت نے ہلاک ہونے والے کسانوں کے اہلخانہ کے لیے 45، 45 لاکھ جبکہ زخمی ہونے والوں کے لیے 10، 10 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔

پُرتشدد واقعات کا آغاز کیسے ہوا؟

انڈیا

،تصویر کا ذریعہANI

اتوار کے روز اتر پردیش کے نائب وزیراعلیٰ کیشو پرساد موریہ لکھیم پور کھیری میں کچھ سرکاری منصوبوں کا افتتاح کرنے والے تھے، جس کے بعد انھیں وزیر مملکت برائے داخلہ اجے کمار مشرا کے آبائی گاؤں میں ایک پروگرام میں شرکت کرنا تھی۔

اس موقع پر کسان اس مقام پر جمع ہونا شروع ہو گئے جہاں یہ تقریب منعقد ہونا تھی۔ کسان رہنماؤں کے مطابق وہ مودی حکومت کی زراعت کے حوالے سے پالیسیوں پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتے تھے۔

کیشو پرساد موریہ اس پروگرام میں شرکت کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے آنے والے تھے، لیکن بعدازاں ان کے پروٹوکول میں تبدیلی کی گئی اور وہ بذریعہ سڑک لکھیم پور پہنچے۔

متحدہ کسان مورچہ نے نائب وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کے خلاف احتجاج اور اُن کے قافلے کے گھیراؤ کی کال دی تھی جس میں لکھیم پور اور اترپردیش کے ترائی والے علاقے کے دیگر اضلاع کے کسانوں کو بلایا گیا تھا۔

اتوار کو تقریباً ڈیڑھ بجے کیشو پرساد موریہ اور اجے مشرا لکھیم پور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر سے سنگ بنیاد کا پروگرام مکمل کرنے کے بعد نیپال کی سرحد پر ٹینی کے بنویر پور گاؤں کے لیے روانہ ہوئے جو کہ تیکونیا سے صرف چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

مقامی کسانوں کو زیادہ غصہ وزیر اجے مشرا کے حالیہ بیانات پر تھا۔

کسان انڈیا

،تصویر کا ذریعہParshant/ BBC

کچھ دن پہلے اجے مشرا سمپورن نگر، لکھیم پور میں کسانوں کی کانفرنس میں سٹیج سے کسانوں کو دھمکیاں دیتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔ انھوں نے کالے جھنڈے دکھانے والے کسانوں کو خبردار کیا تھا کہ ’میں صرف وزیر یا رکن اسمبلی نہیں ہوں۔ جو لوگ مجھے ایم پی اور ایم ایل اے بنانے سے پہلے میرے بارے میں جانتے ہیں، وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ میں کسی بھی چیلنج سے بھاگنے والا نہیں۔‘

’اور جس دن میں نے اس چیلنج کو قبول کر کے کام شروع کیا اس دن پالیا ہی نہیں بلکہ لکھیم پور تک چھوڑنا پڑ جائے گا، یہ یاد رکھنا۔‘

اس طرح کے تلخ بیانات کے بعد کسانوں میں کافی غصہ تھا اور انھوں نے 29 ستمبر کو لکھیم پور کے کھیرٹیا گاؤں میں ایک تقریب میں اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ پرامن طریقے سے اپنے احتجاج کرتے رہیں گے۔

اتوار کی صبح سے ہی سیکڑوں کسان تیکونیا کے مہاراجہ اگرسین انٹر کالج پہنچنے لگے اور سرکاری حکام کی آمد کے لیے بنائے گئے عارضی ہیلی پیڈ کو گھیر لیا۔ وہ ’بھارت ماتا کی جئے‘ کے نعرے بلند کرتے رہے اور کالے جھنڈوں سے احتجاجی مظاہرہ شروع کر دیا۔

بعد میں جب یہ خبر پھیلی کہ وزیر سڑک کے ذریعے گاؤں پہنچ رہے ہیں تو کسان تیکونیا سے بنویر پور تک سڑک پر راستہ روک کر بیٹھ گئے۔

تقریبا ڈیڑھ سے ڈھائی بجے کے درمیان تین گاڑیوں کا ایک چھوٹا قافلہ تیکونیا پہنچا۔ اجے مشرا اور ان کے بیٹے آشیش مشرا کے مطابق یہ قافلہ نائب وزیر اعلیٰ کے بڑے قافلے کو بنویر پور گاؤں تک لانے کے لیے قریبی ریلوے پھاٹک کے لیے روانہ ہوا تھا۔ اور پھر یہ تینوں گاڑیاں تیکونیا پہنچ گئیں جہاں کسان نائب وزیر اعلیٰ کے سرکاری قافلے کا انتظار کر رہے تھے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہSKM

دوسری طرف متحدہ کسان مورچہ کے رہنماؤں نے الزام لگایا کہ گاڑیوں نے کسانوں کو ہجوم کو تیزی سے روندنا شروع کر دیا جس میں چار کسان کچل کر مر گئے اور تقریبا ایک درجن افراد زخمی ہوئے۔

تمام وائرل ویڈیوز میں ایک یا دو کسانوں کی لاشیں سڑک کے کنارے دکھائی دے رہی ہیں۔ کسان رہنماؤں کا الزام ہے کہ وزیر کے بیٹے آشیش مشرا بھی اس وقت کار میں موجود تھے اور انھوں نے ایک کسان کو گولی بھی ماری۔

یہ بھی پڑھیے

احتجاج میں شامل یونائیٹڈ فرنٹ کے ایک رکن اور حادثے کے عینی شاہد پنڈر سنگھ سدھو نے کہا: ’سارا ماحول ٹھیک تھا۔ تقریبا دو ڈھائی بجے اجے مشرا کا بیٹا کچھ غنڈوں کے ساتھ آیا اور جو کسان اپنے جھنڈوں کے ساتھ وہاں گھوم رہے تھے ان پر گاڑی چڑھا دی۔ ان کے بیٹے نے گولی بھی چلائی۔‘

کسانوں کا ردعمل اور بات چیت کا آغاز

مقامی کسان رہنما کا کہنا ہے کہ ’یہ بہت افسوسناک واقعہ تھا۔ ہمارے چار کسان بھائی شہید ہو چکے ہیں۔ جن کسانوں نے ووٹ دیا ہے، ان کے احتجاجی مظاہرے پر گاڑی چڑھا دینا اور ان کے جسموں کو روندنا کہاں کی ثقافت ہے، یہ طاقت کا نشہ ہے۔ وزیر اجے مشرا کے چیلنج کا جواب دینے کے لیے لوگ ہر گھر سے باہر آئیں گے۔‘

لیکن وائرل ویڈیوز میں کسانوں کا پُرتشدد ردعمل بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں کسانوں کا ایک مشتعل ہجوم ایک جیپ پر لاٹھیاں برسا رہا ہے اور گاڑی سے باہر گرے ہوئے دو افراد کو بھی لاٹھیوں کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے بعد کسان رہنماؤں اور انتظامیہ کے درمیان بات چیت کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کا مقصد تشدد کو روکنا اور کسانوں کو پُرامن کرنا ہے۔

لکھیم پور

،تصویر کا ذریعہAnant Jhanane/BBC

کسانوں نے چار بڑے مطالبات انتظامیہ کے سامنے رکھے ہیں۔

ان مطالبات میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کی برطرفی، اُن کے بیٹے کی گرفتاری، ہلاک ہونے والے کسانوں کے اہلخانہ کو ایک، ایک کروڑ روپے معاوضے کی ادائیگی اور انھیں سرکاری ملازمتیں دینا شامل ہیں۔

وزیر اور ان کے بیٹے اپنا دفاع کس طرح کر رہے ہیں؟

وزیر کے بیٹے آشیش مشرا اپنے دفاع میں کہتے ہیں کہ ’ہمارے اپنے ہی کارکن مارے گئے ہیں اور آپ کہہ رہے ہیں کہ ہماری گاڑی نے کسانوں کو روند ڈالا؟ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ ایسا کوئی واقعہ ہو گا۔ ہمار خيال تھا کہ کالے جھنڈے دکھائے جائیں گے۔ لیکن وہاں کسی کے مارے جانے کا کوئی گمان بھی نہیں تھا۔‘

اس واقعے پر اپنی وضاحت پیس کرتے ہوئے مرکزی وزیر اجے مشرا نے کہا کہ ’میں نے کسانوں کے خلاف کچھ نہیں کہا، صرف ان لوگوں کے خلاف بات کی جو ہورڈنگز پھاڑنے اور تشدد کی بات کر رہے تھے۔ کچھ لوگ جو اس ملک میں بدامنی پیدا کرنا چاہتے ہیں، اسے کسانوں سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

’احتجاج کرنے والے لوگوں کو باہر سے لایا گیا اور بلایا گیا۔ یہ ہمارے کارکنوں پر حملہ ہے، ان پر حملہ کیا گیا، ان پر تشدد کیا گیا، انھیں قتل کیا گیا۔ کئی لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں، کئی گاڑیاں بھی جلی ہیں۔ میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروا کر کارروائی کراؤں گا۔‘

حزب مخالف کا ردعمل

راہل پرینکا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یو پی کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو، جو لکھیم پور کھیری میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے خلاف لکھنؤ میں اپنے گھر کے باہر دھرنے پر بیٹھے تھے، کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔

ان اطلاعات کے بعد کہ کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی کو سیتا پور کے مقام پر حراست میں لیا گیا ہے، راہل گاندھی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’کیا حکومت پرینکا کی ہمت سے خوفزدہ ہے؟‘

انھوں نے ٹویٹ کیا ’پرینکا، میں جانتا ہوں کہ آپ پیچھے نہیں ہٹیں گی- وہ آپ کی ہمت سے ڈر گئے ہیں۔ ہم انصاف کی اس عدم تشدد والی لڑائی میں ملک کے کسان کو جیت دلا کر رہیں گے۔‘

اترپردیش میں ایک اہم جماعت بی ایس پی کے رہنما کے ساتھ دہلی ریاست میں برسراقتدار پارٹی عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں کو بھی لکھیم پور کے راستے میں روک لیا گیا ہے۔