انڈیا کی کسان تحریک سے متعلق 3 اہم سوال: احتجاج کرنے والے کسان آخر چاہتے کیا ہیں؟

کسان تحریک

،تصویر کا ذریعہHindustan Times

    • مصنف, نتن شریواستو
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار

ایک طویل عرصے کے بعد شمالی انڈیا کے کسانوں نے دارالحکومت دلی کو اپنی مخالفت کا گڑھ بنایا ہے۔ دلی میں اس وقت جس طرح کا احتجاج ہو رہا ہے اس طرح کا احتجاج 32 سال قبل دیکھا گیا تھا۔

مغربی اتر پردیش کے کسان رہنما مہندر سنگھ ٹکائٹ لاکھوں کسانوں کے ساتھ دلی کے بوٹ کلب پہنچے اور دھرنا دے دیا۔ مطالبہ تھا کہ گنے کے فصل کی قیمتیں بڑھائی جائیں اور بجلی پانی کے بلوں میں رعایت دی جائے اور ان کا مطالبہ پورا بھی ہوا۔

موجودہ تحریک دو ہفتوں سے جاری ہے اور دلی کر سرحد پر ڈیرا ڈالے لاکھوں کسان مطالبہ کررہے ہیں کہ چند ماہ قبل نافذ ہونے والے زرعی قانون کو واپس لیا جائے۔

دوسری طرف حکومت ان سے بات کرنے پر راضی تو ہے لیکن ان نئے قوانین کو واپس لینے یا انھیں مکمل طور پر خارج کرنے سے انکار کرتی ہے۔ اس مسلئے سے متعلق تین اہم سوال ہیں جن کے جواب شاید آپ بھی جاننا چاہتے ہوں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا کسانوں نےنئے زرعی قانون کا مطالبہ کیا ہے؟

انڈیا میں کسانوں کی تحریک کی تاریخ پرانی ہے اور گذشتہ سو برسوں میں پنجاب، ہریانہ، بنگال، جنوبی اور مغربی انڈیا میں بہت سارے مظاہرے ہوئے ہیں۔

اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے کیونکہ کسانوں کا خیال ہے کہ وہ جو چاہتے تھے وہ نئے قانون میں نہیں ہے۔

کسان

،تصویر کا ذریعہEPA

مرکزی حکومت یہ کہتی رہی ہے کہ حقیقت میں نیا قانون صرف کسانوں کے مفاد کی بات کرتا ہے کیونکہ اب کسان اپنی فصلیں نجی کمپنیوں کو بیچ پائیں گے اور زیادہ رقم کمائیں گے۔ لیکن کسان تنظیموں نے اس پیشکش کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا ہے کہ انھوں نے تو یہ کبھی طلب ہی نہیں کیا تھا۔

ممبئی کے ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے زرعی معاشیات کے ماہر پروفیسر آر رام کمار کے مطابق ’کسانوں کا مطالبہ رہا ہے کہ انھیں مزید منڈیاں چاہیے لیکن ان نئے قوانین کے بعد تو یہ ختم ہی ہو سکتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ بھی مطالبہ ہے کہ خریداری مراکز زیادہ فصلوں کے لیے اور زیادہ ریاستوں میں کھولے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ کسانوں کو فائدہ ہو۔ لیکن حکومت نے زیادہ تر پنجاب، ہریانہ اور مغربی اتر پردیش جیسی ریاستوں میں خریداری کے مراکز کھولے ہیں۔ اس کی وجہ سے وہاں خریداری زیادہ اور دوسری ریاستوں میں کم ہوتی ہے۔ یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ متعدد جگہوں پر کانٹریکٹ فارمنگ ہو رہی ہے لیکن اس کا کوئی ضابطہ نہیں بنا ہے، جس کے لیے قانون لایا جائے۔‘

چونکہ تاریخی طور پر انڈیا ایک زرعی معیشت رہا ہے ظاہر ہے کہ اس میں تبدیلیاں بھی آئی ہیں۔

لیکن زیادہ تر تبدیلیاں سست رفتار رہی ہیں جس میں کسانوں کے مفادات رکھنے کے دعوؤں پر بھی سیاست کی گئی ہے۔ پارلیمنٹ میں اس نئے قانون پر ہاتھا پائی ہوئی ہے اور حزب اختلاف نے حکومت پر کسانوں کی رائے نہ لینے کا الزام لگایا ہے۔

سنٹر فار پالیسی ریسرچ کی فیلو اور اشوکا یونیورسٹی میں معلمہ میکھلا کرشنا مورتی کا کہنا ہے کہ اس تحریک کے بعد سب کی نگاہیں حکومت پر ہی رہیں گی۔

انھوں نے بتایا ’یہ نیا قانون کہتا ہے کہ ہم تجارت آزاد کریں گے، آپ کو مارکیٹ میں لائسنس نہیں چاہیے ہو گا، آپ کہیں بھی تجارت کرسکتے ہیں۔ انڈیا میں 22 ریاستیں ایسی ہیں جہاں یہ پہلے سے ہی ایسا قانون نافذ ہے کہ آپ منڈی کے باہر لائسنس لے کر خریداری سکتے ہیں۔ کسان کو یہ شبہ ہے کہ منڈی کو توڑا جا رہا ہے اور دوسری طرف جہاں منڈی نہیں آئی وہاں کسان یہ سوچ رہا ہے کہ منڈی کب آئے گی۔‘

کسان کیا چاہتے ہیں اور انھیں نئے زرعی قانون میں کیا ملا ہے؟

آئیے ان تین نئے قوانین پر ایک نظر ڈالیں جو تنازعے کا سبب بنے ہیں۔

دی فارمرز پروڈیوس ٹریڈ اینڈ کامرس (پروموشن اینڈ فیلیسیٹیشن) 2020 کے قانون کے مطابق کسان اے پی ایم سی یعنی ایگری کلچر پروڈیوس مارکیٹ کمیٹی کے ذریعہ مطلع شدہ منڈیوں کے باہر اپنی پیداوار دوسری ریاستوں کو ٹیکس ادا کیے بغیر فروخت کرسکتے ہیں۔

دوسرا قانون ہے فارمرز اگریمنٹ آن پرائز انشورنس اینڈ فارم سروس ایکٹ 2020 (ایمپاورمنٹ اینڈ پروڈکشن)۔ اس کے مطابق کسان کانٹرکٹ فارمنگ یعنی معاہدہ کاشتکاری کر سکتے ہیں اور براہ راست اس کی مارکیٹنگ بھی کر سکتے ہیں۔

کسان

،تصویر کا ذریعہEPA

تیسرا قانون ہے اسسینشیل کموڈیٹیز (امینڈمنٹ) ایکٹ 2020۔ اس میں پیداوار، ذخیرہ کرنا، اناج، دال، کھانے کے تیل اور پیاز کا غیر معمولی حالات میں فروخت کے علاوہ کنٹرول سے باہرکر دیا گیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ نئے قانون کی مدد سے کسانوں کو مزید آپشن ملیں گے اور ان کو قیمت بھی اچھی ملے گی۔ اس کے علاوہ زرعی منڈیوں، پروسیسنگ اور بنیادی ڈھانچے میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ کسانوں کو لگتا ہے کہ نئے قانون سے ان کا موجودہ تحفظ بھی ختم ہوجائے گا۔

انڈین حکومت میں کسانوں کے قومی کمیشن کے سابق ممبر وائی ایس نندا کا خیال ہے کہ زراعت کے میدان میں ’تجربات زیادہ ہوئے ہیں اور اصل کام کم۔‘

انھوں نے کہا کہ ’80 اور 90 کی دہائی میں ترقی اچھی رہی۔ چھٹے پانچ سالہ منصوبے میں زرعی نمو 5.7 فیصد اور جی ڈی پی کی نمو 5.3 فیصد تھی۔ یہ دوبارا کبھی نہیں ہوا اور 90 کی دہائی کے بعد نمو کم ہوئی ہے۔ دیہی انفراسٹرکچر میں کم سرمایہ لگایا گیا ہے جس کی وجہ سے زراعت کی نمو میں کمی آئی ہے۔‘

یعنی یہ کہا جاسکتا ہے کہ ’گرین ریولیوشن‘ یعنی سبز انقلاب کا آغاز 1960 کی دہائی میں ہوا اور اس کا فائدہ اگلی دو دہائیوں تک ہوا تو زرعی شعبے کی رفتار 90 کی دہائی میں کم ہوئی۔‘

1px transparent line

شاید یہی وجہ ہے کہ سبز انقلاب کے بانی پروفیسر سوامیاتھن کی سربراہی میں ایک کمیٹی نے سال 2006 میں کچھ اہم تجاویز پیش کی تھیں۔

  • کاشتکاروں کو فصل کی پیداوار کی قیمت لاگت سے 50 فیصد زیادہ ملے۔
  • کاشتکاروں کو کم قیمت پر اچھے بیج فراہم کیے جائیں۔
  • دیہاتوں میں ویلج نالج سنٹر یعنی علمی چوپال بنائے جائیں۔
  • خواتین کسانوں کو کسان کریڈٹ کارڈ ملے۔
  • قدرتی آفت کی صورت میں کسانوں کو مدد ملے۔
  • زائد اور غیر استعمال شدہ زمین کو کسانوں میں تقسیم کیا جائے۔
  • غیر زرعی مقاصد کے لیے کارپوریٹس کو زرعی اراضی اور جنگلات کی زمین نہیں دی جائے۔
  • پورے ملک میں ہر فصل کے لیے بیمہ کی سہولت فراہم کی جائے۔
  • زراعت کے قرضوں کے انتظامات ہر غریب اور نادار افراد تک پہنچے۔
  • حکومت کی مدد سے کسانوں کو دیے گئے قرض کی سود کی شرح کو 4 فیصد تک کم کیا جائے۔
1px transparent line

کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام میں ان میں سے بہت سے سفارشات پر ابھی تک عمل نہیں ہوا اور انھیں زیادہ منڈیاں اور کانٹرکٹ فارمنگ میں زیادہ حفاظتی والے قوانین چاہیے۔

جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ خراب مارکیٹنگ کی وجہ سے کسانوں کو اچھی قیمتیں نہیں مل رہی ہیں لہذا نجی کمپنیوں اور سٹوریج گوداموں کو لانے سے ویلیو چین میں کاشتکاروں کے قد میں اضافہ ہو گا۔

میکھلا کرشنومورتی کا کہنا ہے کہ ’جب سے یہ کسان قانون لائے گئے، پہلے آرڈیننس کے طور پر اور اب یہ ایکٹ بنائے گئے ہیں، چھ ماہ سے ہم یہ سنتے آرہے ہیں کہ انڈیا کے کسان اب آزاد ہو گئے ہیں، اب وہ مارکیٹ میں، منڈی میں آزاد ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’جب میں 12 سال پہلے مدھیہ پردیش کی منڈیوں میں تحقیق کر رہی تھی تب بھی میں بازار جاتا تھا اور کسان وضاحت کرتے تھے کہ پوری معیشت میں کسان ایسے پروڈیوسر ہیں جو اپنی قیمتیں طے نہیں کرتے ہیں بلکہ دوسروں کی طے کی ہوئی قیمتیں قبول کرتے ہیں۔`

دریں اثنا کم از کم شمالی انڈیا کے کسان حکومتی منڈیوں اور درمیانیوں کے تسلسل کے حق میں ہیں، نیا قانون اس نظام کے آگے بات کر رہا ہے۔

آگے کا راستہ کیا ہوسکتا ہے؟

انڈیا کے زرعی شعبے میں بڑھتے چیلنج طلب سے زیادہ پیداوار کی ہے۔ کاشتکاروں کو اپنی پیداوار کے لئے نئی منڈیوں کی ضرورت ہے۔

किसानों का विरोध प्रदर्शन

،تصویر کا ذریعہHindustan Times

نئے قانون میں منڈیوں کے اثر و رسوخ کو کم کرنے سے شاید حکومت کا یہی ارادہ ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اس عمل میں ایک چیز کی کمی رہی ہے۔

پروفیسر آر رام کمار کا کہنا ہے کہ ’اگر کسانوں کی تنظیم اور حکومت کے مابین اچھی بات چیت ہو رہی ہے تو پھر ایک دوسرے کے مسائل اور ایک دوسرے کے رویے کو سمجھنے کا امکان ہے۔‘

ان کے بقول ’حکومت کو سمجھنا ہو گا کہ اس کی پالیسیوں کی وجہ سے زرعی بحران بڑھتا جارہا ہے۔ حکومت کی جو سبسڈی پالیسی ہے، جو کھاد کی پالیسی ہے، ان ساری پالیسیوں کی وجہ سے کسان کی کاشتکاری کی لاگت بڑے پیمانے پر بڑھ رہی ہے اور جس پر حکومت کی نظر نہیں جا رہی ہے۔‘

کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ نئے قوانین کے بعد ان کی پیداوار کی کم قیمت ملے گی جس سے ان کی لاگت بھی نہیں نکلے گی۔

ان کو شک ہے کہ مینیمم سپورٹ پرائس یعنی حکومت کی طرف سے ضمانت دی گئی ایم ایس پی بھی ختم ہوجائے گی۔

لیکن حکومت کا دعویٰ ہے کہ نئے قانون کسانوں کو مزید اختیارات فراہم کریں گے اور کاشتکاری میں نجی سرمایہ بھی بڑھے گا۔

ممتاز ماہر معاشیات گورچرن داس نے اعتراف کیا کہ ’اب جھگڑا تھوڑا پیچیدہ ہو گیا ہے۔‘

ان کے بقول اس کا سب سے بدترین حل قانون واپس لینا ہوگا۔ ’پھر تو مطلب جو تیس سال کا کام ہوا ہے وہ ختم ہوجائے گا۔ دوسرا کہ انھیں یہ کہنا پڑے گا کہ ایم ایس پی چلے گا، سسٹم چلے گا اور مستقبل میں حکومت کو یہ وضاحت کرنی ہوگی کہ یہ نظام بہت ہی غیر مؤثر ہے۔ ان کو کچھ نہ کچھ دینا پڑے گا۔‘

اس کسان تحریک کی کچھ چیزیں خصوصی ہیں۔ ابتدائی جھڑپوں کے بعد مظاہروں کا متشدد ہونے کا خدشہ تھا جو کہ نہیں ہوا۔

دوسری بات کہ فریقین نے اس معاملے پر مل کر بات کرنے کی کوششیں جاری رکھی ہیں۔ کون اپنے مطالبات پر مزید قائم رہے گا یہ بھی جلد ہی پتہ چل جائے گا۔