انڈیا میں کسانوں کا احتجاج: انٹرنیٹ پر مظاہروں کے بارے میں گمراہ کن مواد کی بھرمار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شروتی مینون
- عہدہ, بی بی سی ریئلٹی چیک
شمالی انڈیا میں کسانوں کا دارالحکومت نئی دہلی کے نزدیک زراعت کے شعبے میں نئی اصلاحات اور قوانین کے خلاف احتجاج جاری ہے جس کے بارے میں ان کا مؤقف ہے کہ اس سے ان کے روزگار کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
لیکن ان مظاہروں کے ساتھ ساتھ اس احتجاج کے بارے میں انٹرنیٹ پر فیک نیوز اور گمراہ کن خبروں کی بھرمار ہو گئی ہے اور ہر کوئی، چاہے وہ کسانوں کے حمایتی ہوں یا ان کے مخالفین، سب ہی اس فیک مواد کو انٹرنیٹ پر شیئر کر رہے ہیں۔
بی بی سی نے اس حوالے سے چند غلط بیانی پر مشتمل دعوؤں کا جائزہ لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
کملا ہیرس نے کسی کی حمایت نہیں کی!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ کی نو منتخب نائب صدر کملا ہیرس سے منسوب ایک جعلی پیغام فیس بک پر شیئر کیا جا رہا ہے جس میں وہ مبینہ طور پر احتجاج کرنے والے کسانوں کی حمایت کرتی نظر آ رہی ہیں۔

اس پیغام میں ایک ٹویٹ کا عکس ہے اور اس میں درج پیغام میں لکھا ہے ’ہمیں انڈین حکومت کے رویے پر سخت حیرانی ہے کہ وہ کس طرح مظاہرہ کرنے والے کسانوں پر جبر کر رہی ہے جو کہ صرف اس قانون کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں جو ان کے روزگار کے لیے خطرہ ہے۔‘
’واٹر کینن اور آنسو گیس کے بجائے انڈین حکومت کو چاہیے کہ وہ کسانوں سے مذاکرات کرے۔‘
فیس بک نے اس پیغام پر تنبیہ چسپاں کر دی ہے اور کہا کہ یہ غلط بیانی پر مشتمل پیغام ہے۔
کملا ہیرس نے ان مظاہروں کے بارے میں اپنے ذاتی یا سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کبھی کوئی پیغام جاری ہی نہیں کیا ہے۔
بی بی سی کے رابطہ کرنے پر ان کی میڈیا ٹیم نے مختصر جواب میں کہا: ’یہ جعلی ہے۔‘
دوسری جانب کینیڈا کے رکن پارلیمان جیک ہیرس، جن کا کملا ہیرس سے کوئی تعلق نہیں ہے، نے ضرور ٹویٹ کی ہے اور یہ پیغام بالکل وہی ہے جو کملا ہیرس کی جعلی ٹویٹ میں لکھا ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER
کینیڈا کے ہی وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے البتہ عوامی طور پر ان مظاہروں کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ کینیڈا میں انڈین سکھ افراد کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہیں۔
لیکن ان کے بیانات پر انڈیا کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے جس میں کینیڈین وزیر اعظم کے بیان کو ’کم علمی پر مبنی‘ اور ’اندرونی معاملات میں مداخلت‘ قرار دیا گیا ہے۔
پرانی تصویر، نیا جھگڑا

سوشل میڈیا پر ایک اور ٹویٹ بھی شیئر کی جا رہی ہے جس میں ایک تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سکھ برادری کے افراد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسانوں کے مظاہرے میں کشمیر کے بارے میں بھی احتجاج ہو رہا ہے۔
یہ ٹویٹ بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی اور اسے تین ہزار سے زیادہ بار ری ٹویٹ کیا گیا اور 11 ہزار سے زیادہ بار لائک کیا گیا۔
اسے ری ٹویٹ کرنے والوں میں حکومتی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی خواتین کے سوشل میڈیا سیل کی سربراہ پریتی گاندھی بھی شامل ہیں۔
اس پوسٹ پر دیے گئے کچھ جوابات میں دعویٰ کیا گیا کہ کسانوں کا مظاہرہ ان عناصر کے ہاتھوں بھی استعمال ہو رہا ہے جن کا ایجنڈا کچھ اور ہے جیسے کشمیر کا تنازع، یا ریاست پنجاب میں سکھوں کی آزادی کا معاملہ۔
لیکن جانچ کرنے پر پتا چلا کہ اس ٹویٹ میں شامل تصویر گذشتہ سال اگست کی ہے اور یہ پنجاب کی ایک سیاسی جماعت شرومانی اکالی دل کے فیس بک گروپ پر پوسٹ کی گئی تھی جب انڈیا نے اپنے زیر انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کی تھی جس کی اس جماعت نے مخالفت کی تھی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس پوسٹ اور تصویر کا موجودہ احتجاج سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
فرق جانیے!
لیکن صرف بی جے پی کی جانب سے ہی گمراہ کُن مواد شائع نہیں ہو رہا ہے۔

انڈین یوتھ کانگریس اور اس کے علاوہ کانگریس جماعت کے سینیئر رہنماؤں نے بھی پرانی تصاویر ڈالی ہیں جس میں نظر آتا ہے کہ پولیس مظاہرین کے خلاف جارحانہ انداز اپنائے ہوئے ہیں اور ان کے سامنے رکاوٹیں لگا رہی ہے اور واٹر کینن کا استعمال کیا جا رہا ہے لیکن وہ تصاویر اکتوبر 2018 کی ہیں۔
واضح رہے کہ موجود احتجاج میں بھی پولیس کی جانب سے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال ہوا ہے لیکن سوشل میڈیا پر بکثرت شیئر ہونے والی تصاویر نہ صرف دو سال پرانی ہیں بلکہ ان میں دکھایا جانے والا مقام بھی دوسرا ہے۔
جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ یہ تصاویر اتر پردیش ریاست کے کسانوں کے احتجاج سے لی گئی تھی جنھوں نے دو سال قبل اپنے احتجاج میں دہلی کا رُخ کیا تھا اور ان کا مطالبہ تھا کہ زرعی قرضوں کو معاف کیا جائے۔
اُن کسانوں کو اتر پردیش اور دہلی کی سرحد پر ہی روک لیا گیا تھا جو کہ شہر کی مشرقی سمت میں ہے اور دوسری جانب موجودہ مظاہرے دہلی کے شمال میں ہو رہے ہیں جو ریاست پنجاب کی جانب لگتا ہے۔












