انڈین سکھ رہنما: سدھو ایک بے مہار نادان یا زیرک سیاست دان

نوجوت سدھو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نوجوت سنگھ سدھو نے سنہ 1996 میں اس وقت ایک طوفان برپا کر دیا تھا جب وہ انگلینڈ کا دورہ کرنے والی انڈیا کی کرکٹ ٹیم کے کپتان اظہر الدین سے جھگڑے کے بعد دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس انڈیا چلے گئے تھے۔

انڈین کرکٹ بورڈ کے سابق اہلکار نے حال ہی میں اپنی یاداشتوں میں لکھا ہے کہ سدھو جو اس وقت انڈین کرکٹ ٹیم کے ایک اہم کھلاڑی تھے بظاہر اظہر الدین کی طرف سے مذاق میں دی گئی ایک گالی پر غصے میں آ گئے تھے۔

دو سال بعد پٹیالہ شہر میں ایک پارکنگ میں کسی جھگڑے کی بنا پر سدھو نے مبینہ طور پر ایک 65 سالہ شخص پر حملہ کر دیا تھا۔

سنہ 2006 میں ایک عدالت نے سدھو کو اقدام قتل کا مجرم قرار دیا تھا۔ سدھو نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی اور سنہ 2018 میں سپریم کورٹ نے انھیں اس شخص کو زخمی کرنے کے جرم میں معمولی سا جرمانہ کر کے اقدام قتل کے الزام سے بری کر دیا تھا۔

سدھو جو ایک بے باک اور جوشیلے انسان ہیں ہمیشہ ہی لوگوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں اور کسی نہ کسی تنازعے میں گھرے رہتے ہیں۔

اس ہفتے کے شروع میں انھوں نے پنجاب میں کانگریس پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے سیاسی ہلچل مچا دی۔ پنجاب انڈیا کی ان تین ریاستوں میں شامل ہے جہاں حزب اختلاف کی بڑی جماعت کانگریس کی حکومت قائم ہے۔

نوجوت سدھو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کانگریس پارٹی کے سربراہ منتخب کیے جانے کے صرف تین ماہ بعد اور اپنے سیاسی مدمقابل سابق وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ کے پارٹی چھوڑنے کے صرف تین دن بعد نے انھوں نے اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔

سدھو بظاہر چرن جیت سنگھ چنّی کو وزیر اعلیٰ مقرر کیے جانے پر چڑ گئے ہیں۔ سدھو کا یہ اقدام کانگریس کی قیادت کے لیے باعث شرمندگی بن رہا اور دوسری طرف سوشل میڈیا پر مذاق بن رہا ہے اور ’میمز‘ بنائے جا رہے ہیں۔

انھوں نے اپنا استعفیٰ پیش کرنے کے بعد کہا 'میں اصولوں پر ہر چیز قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ میں کسی عہدے کا بھوکا نہیں ہوں۔'

سدھو کے ناقدین ان سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اپنی 17 سالہ سیاسی زندگی میں وہ پہلے ہندو انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی بی جے پی اور اب کانگریس کا حصہ ہیں لیکن وہ خود غرض اور غیر مستقل مزاج سیاست دان ہیں۔

ماہر سیاسیات اشوتوش کمار کا کہنا ہے 'وہ ایک عام سیاست دان نہیں ہیں۔ وہ منجھے ہوئے نہیں ہیں، بے وقت بولتے ہیں اور مل کر چلنے والے نہیں ہیں، تول کر نہیں بولتے اور بہت غصے والے انسان ہیں۔'

سدھو کے دوست انھیں ایک ایسا قابل شخص سمجھتے ہیں جو مختلف میدانوں میں کامیاب رہے ہیں۔

وہ بین الاقوامی سطح کے کرکٹر، کامیاب ٹی وی تبصرہ نگار، ٹی وی پر ایک مزاحیہ پروگرام کے مستقل میزبان اور جج رہ چکے ہیں۔

وہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو اپنا دوست سمجھتے ہیں۔ انھوں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ 'میرے دوست عمران خان نے میری زندگی کو کامیاب بنایا۔ انھوں نے سیاست اور مذہب کو علیحدہ کیا۔'

ماہرین کا کہنا ہے کہ سدھو کی کرکٹ ان شخصیت کے مختلف پہلوؤں کی آئینہ دار ہے۔ وہ بیک وقت ایک دھواں دار شاٹس کھیلتے اور ایک سخت بلے باز تھے۔

انھوں نے انڈیا کی طرف سے سنہ 1983 اور 1999 تک اکاون ٹیسٹ میچ کھیلے اور 42 اعشاریہ 13 کی اوسط سے رنز سکور کیے۔

نوجوت سدھو

،تصویر کا ذریعہADRIAN MURRELL/ALLSPORT

ایک نیوز میگزین نے ان کی ایسی خصوصیات کو کبھی اجاگر نہیں کی گئیں ان کے بارے میں لکھتے ہوئے کہا کہ 'اپنی کارکردگی بہتر کرنے کے لیے وہ پارٹیوں میں شرکت نہیں کرتے تھے، فلمیں دیکھنے نہیں جاتے تھے اور کسی بھی نامناسب عادتوں کا شکار نہیں ہوئے۔' سدھو ایک مذہبی شخص ہیں اور گوشت خور نہیں ہیں صرف سبزیاں کھاتے ہیں۔

مصنف امت شرما کا کہنا ہے کہ تبصرہ نگار کی حیثیت سے جوشیلے انداز رکھنے والے سدھو نے لوک مزاحیہ طرز اپناتے ہوئے خوب پذیرائی حاصل کی۔ امت شرما نے سدھو کے فقرے بازی کی چند مثال دیں کہ ’ایک فارغ شخص کا دماغ ایسی جگہ ہے جہاں شیطانی خیالات انڈے دیتے ہیں۔‘

اس کے بعد ان کا کامیڈی شو کرنے کا دور شروع ہوتا ہے جہاں وہ بھڑکیلے رنگوں کی پگڑیاں اور ان کے ساتھ بہترین قسم کے سوٹ زیب تن کر کے آتے ہیں۔

سنہ 2019 میں ان کو کچھ ایسے کلمات ادا کرنے پر شو سے ہٹا دیا جب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایک خود کش حملے میں 40 سے زیادہ انڈین فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

سدھو نے کہا تھا کہ کچھ افراد کی غلطیوں کا ذمہ دار پاکستان کو قراد دینا درست نہیں ہے۔ اُن کے ان کلمات پر بہت تنقید ہوئی اور انھیں حب الوطنی کے خلاف قرار دیا گیا۔

کرکٹ تبصرہ نگار ایاز میمن کا کہنا ہے کہ سدھو بحیثیت کرکٹر اور کمنٹیٹر اپنی مقبولیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاست میں آئے تاکہ اس کی بدولت ووٹ حاصل کیے جائیں۔

سنہ 2004 میں انھوں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی اور امرتسر کی نشست سے کامیابی حاصل کی تھی۔ سنہ 2016 میں انھوں نے ٹکٹ نہ دیے جانے پر پارٹی چھوڑ دی۔ اس کے بعد الیکشن سے پہلے انھوں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی۔

نوجوت سدھو

،تصویر کا ذریعہEPA

دہلی میں قائم سینٹر آف پالیسی ریسرچ سے وابستہ راہول ورما نے کہا کہ وہ بہت کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور لگتا یہ ہے کہ ان کا استعفیٰ دینے کا فیصلہ درست نہیں ہے۔

عام انتخابات سے صرف پانچ ماہ قبل سدھو نے اپنے آپ کو ایک اصول پسند سیاست دان کر کے پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو پنجاب کو بچانا چاہتے ہیں۔

انڈیا کی یہ شمالی ریاست اس وقت افراتفری کا شکار ہے۔ کسان زراعت کے شعبے میں اصلاحات کے نام پر کی جانے والی قانون سازی پر احتجاج کر رہے ہیں۔

مقامی لوگوں میں سنہ 2015 میں سکھوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کے واقع سے اب تک بے چینی پائی جاتی ہے۔ منشیات کا استعمال ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ کرپشن اس قدر بڑھ گئی ہے کہ سدھو بھی ان الزامات سے صاف نہیں رہے ہیں۔

سدھو نے کہا ہے کہ اگر انھوں نے ’گند صاف کرنا ہے تو انھیں گند میں اترنا پڑا ہے۔`

اشوتوش کمار کا کہنا ہے کہ 'لیکن انڈین سیاست کے اس بے مہار نادان کا تازہ ترین فیصلہ مسائل میں گھری ان کی جماعت کے لیے مزید شرمندگی کا باعث بن رہی ہے اور ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ نہ بنائے جانے پر ناخوش ہیں اور سدھو بہت جلدی میں ہیں۔ اشوتوش نے مزید کہا کہ انھیں صبر کرنا سیکھنا چاہیے اور استحقاق کم رکھنا چاہیے۔‘