جہانگیر: جب مغل شہنشاہ کو اپنے دورِ اقتدار میں ہی اغوا اور قید کا سامنا کرنا پڑا

- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی
مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کے ہاں 27 سال کی عمر تک سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ ان کے کوئی اولاد نہیں تھی۔ سنہ 1564 میں ان کے ہاں ضرور دو جڑواں بیٹے حسن اور حسین پیدا ہوئے لیکن وہ صرف ایک ماہ ہی زندہ رہ سکے۔
اکبر نے اپنے سب سے زیادہ عقیدت رکھنے والے بزرگ خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ پر منت مانی کہ اگر ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو وہ آگرہ سے اجمیر تک پیدل چل کر ان کی درگاہ پر حاضری دینے پہنچیں گے۔
بالآخر خدا نے ان کی بات سن لی اور ان کے درباریوں نے انھیں آگاہ کیا کہ آگرے کے قریب ایک پہاڑی پر معین الدین چشتی کے شاگرد اور پیر سلیم چشتی رہتے ہیں، جو تمہاری خواہشات کو پورا کر سکتے ہیں۔
پاروتی شرما نے جہانگیر پر ایک کتاب 'این انٹیمیٹ پورٹریٹ آف اے گریٹ مغل جہانگیر' لکھی ہے۔ وہ کہتی ہیں: 'دنیا میں ایسی کوئی چیز نہیں تھی جو اکبر کے پاس نہیں تھی۔ صرف اولاد نہیں تھی۔ وہ اس امید پر سلیم چشتی کے پاس حاضر ہونے لگے۔ ایک دن اکبر نے ان سے براہ راست پوچھا ، میرے کتنے بیٹے ہوں گے؟ انھوں نے جواب دیا، خدا تمہیں تین بیٹے دے گا۔ اور ایسا ہی ہوا۔ لیکن چشتی کی دعا سے پیدا ہونے والے سلیم بعد میں ان کی موت کی وجہ بھی بنے۔'
وہ لکھتی ہیں: 'ایک بار اکبر نے ان سے پوچھ لیا کہ آپ اس دنیا میں کب تک رہیں گے؟ سلیم چشتی نے جواب دیا کہ جب شہزادہ سلیم پہلی بار کچھ یاد کرکے، اسے دہرائیں گے، اسی دن میں اس دنیا سے چلا جاؤں گا۔ بہت دنوں تک اکبر سلیم کو کچھ پڑھنے نہیں دیا لیکن ایک دن سلیم نے کسی کی کہی ہوئی دو سطریں دہرائیں۔ اسی دن کے بعد سے شیخ سلیم چشتی کی طبیعت بگڑنے لگی اور کچھ دن بعد ان کی موت ہو گئی۔

بابر کے بعد سوانح لکھنے والے پہلے مغل بادشاہ
جہانگیر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ عظیم مغلوں حکمرانوں میں سب سے کم ان پر ہی بات ہوتی ہے۔ وہ شراب پیتے تھے اور ان کی توجہ فوجی مہمات کی بجائے فنون لطیفہ اور زندگی کی لذتوں اور آسائشوں سے لطف اندوز ہونے پر زیادہ تھی۔ لیکن کیا جہانگیر کا یہ جائزہ درست ہے؟
دہلی یونیورسٹی کے بھارتی کالج میں تاریخ پڑھانے والی استاد انوبھوتی موریہ کہتی ہیں: 'بابر کے بعد جہانگیر پہلا مغل بادشاہ تھا جس نے اپنی زندگی کے بارے میں تفصیل سے لکھا۔ ہم تاریخ پڑھتے وقت عظمت کی تلاش کرتے ہیں۔ اگر جہانگیر نے کوئی بڑی فوجی مہم نہیں کی تو وہ اکثر ہماری نظروں سے چھوٹ جاتے ہیں۔ میری نظر میں جہانگیر ایک بے مثل آدمی تھا کیونکہ ان کی جو فکر تھی وہ ہیں ان کی سوانح عمری میں بہت تفصیل سے ملتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے زمانے کی پیداوار تھے۔'
وہ کہتی ہیں: 'ایک طرح سے وہ اپنے وقت کا ایک دریچہ تھے جس کے ذریعے ہم دیکھ سکتے تھے کہ سترہویں صدی کا آدمی کیا سوچ رہا تھا۔ جہانگیر ہمیشہ اپنی عقل اور دلائل کی بنیاد پر اپنے آس پاس کی دنیا کو جانچتے پرکھتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دن میں بیس پیالے جام کے
جہانگیر کے بارے میں مشہور تھا کہ انھیں عورتوں اور شراب کا شوق تھا۔ وہ اپنی سوانح عمری 'تزک جہانگیری' میں لکھتے ہیں کہ ایک وقت میں وہ ایک دن میں 20 پیالے یعنی دن میں 14 پیالے اور رات میں چھ پیالے شراب کے نوش کرتے تھے۔ بعد میں اس میں کمی لائے اور ایک دن میں چھ پیالے تک لے آئے۔
پاروتی شرما کہتی ہیں: 'وہ خود کہتے ہیں کہ جب وہ 18 سال کے تھے تو ایک بار شکار پر گئے تھے۔ انھیں تھکاوٹ محسوس ہوئی۔ کسی نے کہا کہ آپ تھوڑی شراب پیجیے آپ کی تھکاوٹ دور ہو جائے گی۔ انھون نے پی اور انھیں بہت پسند آئی۔ پھر انھوں نے روزانہ شراب پینا شروع کردیا۔ جہانگیر کے بھائیوں کو بھی شراب کی لت پڑ گئی اور ان کی موت شراب کی وجہ سے ہی ہوئی۔
وہ کہتی ہیں: 'بابر بھی شراب پیتے تھے۔ اکبر بھی کبھی کبھی شراب چکھ لیتے تھے۔ لیکن شاہجہاں نے کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا۔ بلکہ کہ جہانگیر کو اس بات کا افسوس تھا کہ ان کا بیٹا 24 سال کا ہوگیا ہے اور اس نے اب تک شراب کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟'

جہانگیر نے ابوالفضل کو قتل کرایا
اکبر اور جہانگیر کے درمیان تعلقات کبھی ہموار نہیں تھے۔ ان میں مزید تلخی اس وقت پیدا ہوئی جب جہانگیر نے اکبر کے انتہائی اہم وزیر اور ان کے سوانح نگار ابوالفضل کو اورچھہ کے راجہ بیر سنگھ دیو کے ہاتھوں قتل کر دیا جب وہ دکن سے آگرہ کے سفر پر تھے۔ اس قتل کو انتہائی وضاحت اور تفصیل کے ساتھ اسد بیگ نے اپنی یادگار 'وقائع اسد بیگ' میں رقم کیا ہے۔
اسد بیگ لکھتے ہیں: 'بیر سنگھ کے ہر سپاہی نے بکتربند پہن رکھا تھا۔ ان کی تلواریں اور نیزے ہوا میں بجلی کی طرح چمک رہے تھے۔ ایک تیز گھوڑے پر سوار ایک راجپوت نے ابوالفضل کو نیزے سے اتنی تیزی سے مارا کہ اس کا سرا ان کے جسم کے پار ہوگیا۔ ابوالفضل نیچے گر گئے اور ان کے جسم سے خون بہنے لگا۔ ان کا اپنا گھوڑا انھیں روندتا ہوا نکل گیا۔عجیب بات یہ ہے کہ گھوڑے کے وزن سے ان کی موت نہیں ہوئی۔ ابوالفضل ابھی زندہ تھے کہ بیر سنگھ وہاں پہنچے۔ ان کے پاس بیٹھے اور اپنی جیب سے ایک سفید کپڑا نکالا اور ابوالفضل کے جسم سے نکلنے والے خون کو پونچھنے لگے۔ اسی وقت فضل نے اپنی ساری طاقت اکٹھی کرکے انھیں بندیلا سردار سے غداری پر لعنت بھیجی۔بیر سنگھ نے اپنی تلوار نکال لی اور ایک ہی جھٹکے میں دھڑ سے ابوالفضل کا سر الگ کر دیا۔'

ابوالفضل جہانگیر کو بادشاہ بنانے کے حق میں نہیں تھے
یہ ایک حقیقت ہے کہ ابوالفضل کی نظر میں جہانگیر کی بہت وقعت نہیں تھی۔ لیکن کیا ابوالفضل کو قتل کروانے کی محض یہی وجہ تھی؟
انوبھوتی موریہ کہتی ہیں: 'اس وفت ایک سیاسی کھیل چل رہا تھا کہ تخت پر کون بیٹھے گا۔ اکبر کی طاقت کم ہو رہی تھی۔ وہ اب تھک رہے تھے اور جہانگیر کو تخت کے لیے اب اگلی نسل کے ساتھ لڑنا تھا۔'
یہ بھی پڑھیے
انوبھوتی بتاتی ہیں کہ 'جب اکبر بادشاہ کو ابوالفضل کی موت کی خبر ملی تو وہ بیہوش ہو گئے۔ جہانگیر اس کے بارے میں اپنی سوانح عمری میں بغیر کسی احساس جرم کے ساتھ لکھتے ہیں کہ میں نے یہ کیا۔ اور آخر میں جہانگیر جب ابوالفضل کے بیٹے سے ملتے ہیں تو بھی ان کے دل میں کو احساس جرم نہیں تھا۔ وہ صاف لکھتے ہیں کہ میرا مقصد بادشاہ بننا تھا۔ اگر ابوالفضل دربار میں پہنچ جاتے تو میں بادشاہ نہ بن پاتا۔'
وہ کہتی ہیں کہ 'دلچسپ بات یہ ہے کہ ابوالفضل کا بیٹا بعد میں جہانگیر کا انتہائی قابل اعتماد وزیر بن کر ابھرتا ہے۔'

جہانگیر کا ظلم
اکبر کی وفات کے بعد 17 اکتوبر سنہ 1605 کو جہانگیر مغل تخت پر جلوہ افروز ہوئے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت 'موڈی' بادشاہ تھے۔ کبھی بہت مہربان اور کبھی بہت ظالم۔
جہانگیر کے ظلم کو ایلیسن بینکس فڈلی نے اپنی کتاب 'نور جہاں: ایمپریس آف مغل انڈیا' میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔
وہ لکھتے ہیں: 'جہانگیر نے اپنے ایک نوکر کا انگوٹھا صرف اس وجہ سے کٹوا دیا کہ اس نے دریا کے کنارے چمپا کے کچھ درخت کاٹے تھے۔ انھوں نے نور جہاں کی ایک کنیز کو گڑھے میں آدھا دفن کر دیا تھا۔ اس کا قصور ایک خواجہ سرا کا بوسہ لینا تھا۔ ایک آدمی کو اپنے باپ کو مارنے کی سزا دیتے ہوئے جہانگیر نے اسے ہاتھی کی پچھلی ٹانگ سے باندھ کر کئی میل تک گھسیٹوایا تھا۔
'جہانگیر نے اپنے ہی بیٹے خسرو کو بغاوت کے جرم میں موت کی سزا دینے کے بجائے اس کی آنکھیں نکلوا دیں۔'
وہ مزید لکھتے ہیں: 'ایک بار سزا سنانے کے بعد جہانگیر نے شاید ہی اسے تبدیل کیاہو۔ ہاں اپنے بیٹے خسرو کو اندھا کیے جانے کے بعد جہانگیر نے اس کی آنکھوں کا علاج ضرور کرایا تھا لیکن اس کی بینائی کبھی واپس نہیں آئی۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نور جہاں اور کبوتر
جہانگیر نے تخت سنبھالنے کے 6 سال بعد 42 سال کی عمر میں نور جہاں سے شادی کی۔ اس وقت نور جہاں کا پہلا شوہر شیر افگن مر چکا تھا اور اس کی عمر 34 سال تھی۔
جہانگیر اور نور جہاں کی محبت کے آغاز کی ایک دلچسپ بیان روبی لال اپنی کتاب 'ایمپریس: دی ایشٹانیشنگ رین آف نور جہاں' میں لکھتی ہیں: 'جب شہنشاہ جہانگیر باغ میں آئے تو ان کے دونوں ہاتھوں میں کبوتروں کا جوڑا تھا۔ اسی وفت انھین ایک بہت خوبصورت پھول نظر آیا۔ وہ اسے توڑنا چاہتے تھے، لیکن ان کے دونوں ہاتھ آزاد نہیں تھے۔ اسی دوران ایک خوبصورت خاتون وہاں سے گزری۔
'جہانگیر نے کبوتر خاتون کے دونوں ہاتھوں میں تھما دیا اور پھول توڑنے کے لیے مڑ گئے۔ جب وہ واپس آئے تو انھوں نے دیکھا کہ خاتون کے ہاتھ میں صرف ایک کبوتر تھا۔ انھوں نے دوسرے کبوتر کے بارے میں پوچھا۔ خاتون نے جواب دیا 'اڑ گیا'، بادشاہ نے پوچھا کہ کیسے اڑ گیا، اس خاتون نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور دوسرے کبوتر اڑاتے ہو کہا، 'ایسے'۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جہانگیر اور نور جہاں کی بیل گاڑی پر سواری
جہانگیر اور نور جہاں کی ایک اور دلچسپ کہانی کا سر تھامس رو نے اپنے خطوط میں ذکر کیا ہے جو کہ جہانگیر کے دربار میں قاصد تھے۔
اس بابت پاروتی شرما کہتی ہیں: 'ایک رات سر تھامس رو جہانگیر سے ملنے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ سارا دن ان کا انتظار کرتے رہے کیونکہ جہانگیر شکار پر گئے تھے۔ اندھیرا ہوا تو مشعلیں جلائی گئيں۔ لیکن پھر حکم آیا کہ فوری طور پر مشعلیں بجھا دی جائیں، کیونکہ راستے میں جہانگیر نے بیل گاڑی دیکھی اور ان کا دل چاہاکہ وہ بیل گاڑی چلائیں۔ وہ بیل گاڑی میں بیٹھ گئے اور انھوں نے نور جہاں کو بھی اپنے ساتھ بٹھا لیا اور شہنشاہ اور بیگم دونوں خیمے میں آئے۔ بیل کی گاڑی پر سوار ہونا۔ مجھے یہ تصور بہت اچھا لگا کہ مغل سلطنت کا شہنشاہ جہانگیر بیل گاڑی چلا رہا ہے اور ان کی بیوی نور جہاں بھی اس کے پاس بیٹھی ہوئی ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہPENGUIN
جہانگیر آدھی رات کو عشائیہ کھاتے
جہانگیر نے شیر شاہ سوری کی پرانی روایت کو برقرار رکھا جہاں شہنشاہ اپنی اہم ملاقاتیں اپنے غسل خانے یعنی باتھ روم میں کرتا تھا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ شیر شاہ کے بال بہت گھنگھرالے تھے جنھیں خشک ہونے میں کافی وقت لگتا تھا۔ جہانگیر تو اپنے بال بھی غسل خانے میں کٹواتا تھا۔
پاروتی شرما کہتی ہیں: 'جہانگیر صبح طلوع آفتاب سے پہلے اٹھتے اور اپنے عوام کو درشن دیتے۔ پھر وہ اندر جا کر ناشتہ وغیرہ کرتے۔ پھر وہ آرام کرتے۔ دوپہر کو عوامی عدالت ہوتی تھی۔ اپنے غسل خانے میں عدالت کے معززین کے ساتھ شراب پیتے اور گپ شپ کرتے۔ اس کے بعد وہ دوبارہ سونے کے لیے چلے جاتے اور نصف شب کو اٹھ کر رات کا کھانا کھاتے تھے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سکھ گرو ارجن دیو کو سزائے موت
جہانگیر سکھ گرو ارجن دیو سے اس لیے ناراض تھے کہ وہ ان کے باغی بیٹے خسرو کی حمایت کر رہے تھے۔
مشہور مورخ منی لال جہانگیر کی سوانح میں لکھتے ہیں: 'غصے سے لال جہانگیر نے گرو ارجن دیو سے کہا: 'آپ ایک سنت اور ایک مقدس انسان ہیں۔ امیر اور غریب سب آپ کے سامنے برابر ہیں۔ پھر آپ نے میرے دشمن خسرو کو کیوں پیسے دیے؟' گرو نے کہا، 'میں نے اس کو اس لیے پیسے دیے کہ وہ سفر پر جارہا تھا، نہ کہ اس لیے کہ وہ آپ کی مخالفت کررہا تھا۔ اگر میں ایسا نہ کرتا تو لگ مجھے طعنہ دیتے کہ ایسا میں نے آپ کے ڈر سے کیا ہے اور میں پوری دنیا میں گرو نانک کے شاگرد کہلانے کے لائق نہیں رہ جاتا۔'
وہ لکھتے ہیں: 'گرو نانک کے ذکر پر جہانگیر ناراض ہو گئے۔ انھوں نے گرو ارجن دیو پر 2 لاکھ روپے جرمانہ کیا اور ان سے کہا کہ وہ گرو گرنتھ صاحب سے ان حصوں کو ہٹا دیں جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔'
اس پر گرو ارجن دیو نے جواب دیا: 'میرے پاس جو بھی پیسے ہیں وہ غریبوں کے لیے ہیں۔ اگر آپ مجھ سے پیسے مانگیں تو میں آپ کو دے سکتا ہوں۔ لیکن میں آپ کو ایک پیسہ بھی بطور جرمانہ نہیں دوں گا۔ کیونکہ جرمانہ منافقین اور دنیا داروں پر مسلط کیا جاتا ہے کہ سادھو اور سنتوں پر۔'
'جہانگیر نے اس کا جواب نہیں دیا۔ وہ عدالت سے اٹھے اور چلا گئے۔ دو دن بعد ارجن دیو کو گرفتار کر کے قیدخانے میں ڈال دیا گیا۔ تین دن بعد انھیں راوی کے کنارے لے جا کر قتل کر دیا گیا۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بادشاہ ہوتے ہوئے اغوا اور قید
جہانگیر کی حکمرانی کا ایک اور دلچسپ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ان کے ایک جرنیل مہابت خان نے انھیں اغوا کر لیا۔
انوبھوتی موریہ نے بتاتی ہیں: 'مہابت خان نے نہ صرف شہنشاہ کو قید کیا، بلکہ انھیں 'جسمانی طور پر' ان کے تخت سے اٹھا کر اپنے پاس رکھا۔ انھوں نے ان کو ہاتھی پر بٹھایا اور ان کے عزت و وقار کی تمام علامات کو برقرار رکھا۔ نور جہاں بچانے آئی تو مہابت خان فرار ہو گئے۔
وہ بتاتی ہیں کہ اس دوران 'ایکشن' جہانگیر کے ساتھ نہیں تھے۔ جو حکم دے رہا تھا جہانگیر نہیں تھے۔ اس دوران ہر کوئی ان کے ساتھ احترام سے پیش آتے۔ لیکن یہ واضح تھا کہ وہ تخت نشین نہیں رہے۔ ان کے سامنے مہابت خان آتے تو جہانگیر ان سے بھی بہت پیار سے بات کرتے۔ مہابت خان کسی جگہ یہ نہیں کہہ رہے تھے کہ میں بادشاہ ہوں میں۔ وہ صرف یہ کہہ رہے تھے آپ بری صحبت میں ہیں اور میں آپ کو اس بری صحبت سے بچا رہا ہوں۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آنتوں کو دفن کیا گیا
بہرحال نورجہاں کی مدد سے جہانگیر کسی نہ کسی طرح اس قید سے نکل آتے ہیں۔ لیکن اس وقت تک ان کی صحت بگڑنے لگی تھی۔
28 اکتوبر سنہ 1627 کو راجوری اور بھمبر کے درمیان 58 سال کی عمر میں جہانگیر نے اس دنیا کو الوداع کہہ دیا۔
جب نورجہاں اس دن انھیں جگانے کے لیے گئیں تو جہانگیر نے آنکھ نہیں کھولی۔ نور جہاں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور مولانا حسام الدین نے بادشاہ کی روح کی تسکین کے لیے دعا کی۔
انبھوتی موریہ مزید کہتی ہیں: 'جو تذکرے دستیاب ہین ان سے ایسا لگتا ہے کہ وہ دمے کا شکار تھے۔ وہ شمالی ہندوستان کی دھول اور گرمی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ اس سے بچنے کے لیے وہ اکثر اپنی زندگی کے آخری سالوں میں کشمیر کا رخ کرتے۔ جب وہ سفر پر نکلے تو انھوں نے نے اصرار کیا کہ وہ تمام لوگ جو ان کی موت کا انتظار کر رہے تھے وہ بھی ان کے ہمراہ ہوں۔
'نور جہاں تو ان کے ساتھ تھیں ہی۔ ان کے داماد شہریار اور آصف خان کو بھی ان کے ساتھ جانا پڑا۔ جب وہ راجوڑی کے راستے واپس آ رہے تھے تو ان کا کھانا پینا بھی چھوٹ چکا تھا۔'
انوبھوتی موریہ کہتی ہیں: 'چنگیز گھٹی نامی ایک جگہ پر جہانگیر اس دنیا کو الوداع کہا۔ جب ان کی موت ہوئی تو ان کے جسم پر ایک مرہم لگایا گیا۔ ان کی آنتوں کو ان کے جسم سے نکال کر وہاں دفن کیا گیا۔ پھر جہانگیر کی لاش کو بیٹھی ہوئی شکل میں پالکی پر بٹھا کر لاہور لایا گیا، جہاں شاہی اعزاز کے ساتھ ان کی تدفین کی گئی۔'












