چیتا: دنیا کی تیز ترین ’بلی‘ کئی دہائیوں بعد انڈیا لوٹ رہی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، انڈیا
اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا تو آٹھ چیتے جن میں پانچ نر اور تین مادہ شامل ہیں، رواں برس نومبر میں جنوبی افریقہ سے 8405 کلومیٹر (5222 میل) کا سفر طے کر کے انڈیا کے ایک وسیع و عریض نیشنل پارک میں اپنے نئے گھر پہنچیں گے۔
دنیا کا یہ تیز ترین زمینی جانور انڈیا میں ناپید ہونے کے تقریباً 60 سال بعد دوبارہ یہاں واپس لوٹ رہا ہے۔
وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے ڈین یادوندردیوہ جھالا کا کہنا ہے کہ ’آخر کار ہمارے پاس اس بلی کو دوبارہ رکھنے کے لیے وسائل اور رہائش موجود ہے‘۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا میں یہ پہلا موقع ہے جب ایک بڑے گوشت خور جانور کو تحفظ کے لیے ایک سے دوسرے براعظم میں منتقل کیا جائے گا۔
چیتا ایک ایسا جانور ہے جو گھاس والے میدانوں میں شکار پر قبضہ کرنے کے لیے 70 میل (112 کلومیٹر) فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتا ہے۔
دنیا میں ان کی لگ بھگ 7000 کی آبادی میں سے اکثریت اب جنوبی افریقہ، نامیبیا اور بوتسوانا میں پائی جاتی ہے۔ بلی کے خاندان سے تعلق رکھنے والے معدومیت کا شکار اس جانور کو مبینہ طور پر آخری بار 1967-68 میں انڈیا میں دیکھا گیا تھا، لیکن 1900 تک ویسے ہی ان کی تعداد بہت کم ہوچکی تھی۔
ڈاکٹر جھالا نے بتایا کہ مدھیہ پردیش اور راجستھان کی ریاستوں میں ایک قومی پارک اور دو جنگلی حیات کے محفوظ ٹھکانوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
پہلے آٹھ چیتوں کو مدھیہ پردیش کے کونو نینشل پارک میں رکھا جائے گا جہاں ہرن اور جنگلی سؤر کی صورت میں انھیں اپنا شکار مل جائے گا۔ وائلڈ لائف کے ماہرین راجستھان کی مکندرا پہاڑیوں میں بھی ایک رہائش گاہ کے لیے پُرامید ہیں۔


،تصویر کا ذریعہUniversalImagesGroup/Getty Images
آزادی کے بعد ناپید ہونے والا واحد جانور
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دنیا میں سب سے پہلے قید میں کسی چیتے کی افزائش 16 ویں صدی میں مغل بادشاہ جہانگیر کے دور حکومت میں کی گئی تھی۔ ان کے والد اکبر کے دور میں ریکارڈ کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ان کے دور میں 10 ہزار چیتے موجود تھے جن میں سے ہزار ان کے دربار میں تھے۔
20 ویں صدی میں جانوروں کو کھیل کے لیے بیرونِ ملک بھیجا گیا تھا۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جنگلوں میں 1799 سے 1968 کے درمیان کم از کم 230 چیتے موجود تھے۔ آزادی کے بعد سے ناپید ہونے والا یہ واحد جانور ہے۔
رہائش گاہوں کی کمی اور شکار (کالے ہرن، گزیل اور خرگوش) کی عدم دستیابی ہی انڈیا میں چیتوں کے معدوم ہونے کا سبب بنی۔ برطانوی دورِ حکومت کے دوران انعامات کے ذریعے چیتوں کو ختم کیا گیا تھا کیونکہ یہ چیتے دیہات میں داخل ہو کر مویشیوں کو مار رہے تھے۔
انڈیا 1950 کی دہائی سے اس جانور کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ 1970 کی دہائی میں ایران سے تقریباً 300 چیتے لانے کی کوشش شاہ ایران کے معزول ہونے کے بعد ناکام ہو گئی اور مذاکرات رک گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
ان جانوروں کو دوبارہ سے ماحول کا حصہ بنانا آسان عمل نہیں۔ لیکن ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا: 2017 میں ملاوی میں چار چیتے دوبارہ لائے گئے جہاں 1980 کی دہائی کے آخر میں یہ ناپید ہوگئے تھے۔ ان کی تعداد اب بڑھ کر 24 ہوگئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اچھی خبر یہ ہے کہ چیتا آسانی سے ماحول کا حصہ بن جانے والا جانور ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی افریقہ میں جہاں چیتوں کا 60 فیصد رہتا ہے، وہاں یہ ریگستانوں، ٹیلوں، گھاس کے میدانوں، جنگلات اور پہاڑوں میں رہتے ہیں۔
وہ ناردرن کیپ میں بھی پائے جاتے ہیں جہاں درجہ حرارت 15 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے اور مالاوی میں بھی جہاں 45 سینٹی گریڈ تک بڑھ جاتا ہے۔
جنوبی افریقہ میں چیتے کے تحفظ سے منسلک ونسنٹ وین ڈیر مرے نے بتایا ’جب تک کہ کافی شکار موجود ہو، رہائش بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ اور وہ شکار والے ماحول میں شیروں، چیتے اور جنگلی کتوں کے ساتھ مل کر رہتے ہیں۔‘
لیکن دیگر خدشات بھی ہیں۔ چیتا اکثر جانوروں کے شکار کے لیے کھیتوں میں داخل ہوتا ہے جس سے انسانوں اور جانوروں کے تنازعات جنم لیتے ہیں۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان جانوروں کو مقابلہ کرنے والے شکاریوں نے نشانہ بنایا ہے۔
ڈاکٹر جھالا کہتے ہیں ’یہ نازک اور تیز رفتار جانور ہیں اور تنازعات سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
جنوبی افریقہ میں شیر اور لگڑ بگھا جنگلی چیتوں کی ہلاکتوں کی نصف تعداد کے لیے ذمہ دار ہیں۔ حتیٰ کہ کتوں کے گروہ بھی ان پر حملہ کرتے ہیں۔
جنگلی حیات کے مورخ مہیش رنگاراجن کہتے ہیں ’چیتے کسی بھی بڑی بلی (جیسے شیر) سے آگے نکل سکتے ہیں لیکن اکثر ان کے لیے اپنے شکار کا دفاع کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جسے چھین لیا جاتا ہے۔ ان کے بچوں کو اکثر شیر لے جاتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہCharl Senekal
اسی وجہ سے ماہرین کا کہنا ہے کہ چیتے باڑ لگا کر محفوظ بنائے گئِے ٹھکانوں میں آسانی سے پروان چڑھتے ہیں۔ وین ڈیر مروے کہتے ہیں ’ایسی رہائش گاہیں جہاں باڑ نہیں لگی ہوتی وہاں انتقامی کارروائیوں کی وجہ سے چیتے کی آبادی زوال پذیر ہے۔‘
’انڈیا میں محفوظ بنائے گئے علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر باڑ نہیں لگائی گئی ہے جس وجہ سے انسانوں اور جنگلی حیات کے بیچ تنازعات جنم لیتے ہیں۔‘
جب وین ڈیر مروے نے چیتوں کو انڈیا واپس لانے اور ممکنہ رہائش گاہوں کا جائزہ لینے کے لئے اپریل میں ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا تو انھوں نے کونو نیشنل پارک کو مناسب رہائش گاہ پایا۔
ان کا کہنا ہے کہ 730 مربع کلومیٹر (282 مربع میل) پارک گھاس اور درختوں کا مجموعہ ہے جو اس سے ملتا جلتا ہے جہاں چیتے جنوبی افریقہ میں رہتے ہیں۔ پارک میں کوئی شیر نہیں ہے حالانکہ تیندوے پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں۔
وین ڈیر میروے کا خیال ہے کہ انڈیا میں چیتوں کے لیے ایک بہتر گھر مکندرا کی پہاڑیوں میں باڑ لگا کر محفوظ کیا گیا مقام ہو گا جہاں ایسے جانور بہت کم ہیں جو چیتوں پر حملہ کرسکتے ہیں۔ ’مجھے لگتا ہے کہ یہ بہترین ہے۔ اسے چیتوں کی افزائش کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور باقی جانورں کو دوسرے محفوظ علاقوں میں آباد کر سکتے ہیں۔‘
لیکن انڈیا میں جانوروں کے تحفظ سے منسلک سرکردہ افراد اس خیال پر شکوک کا شکار ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ چیتوں کو بڑے رقبے کی ضرورت ہوتی ہے اور مثالی رہائش گاہیں 5000 اور 10000 مربع کلومیٹر کے درمیان ہونی چاہییں۔

،تصویر کا ذریعہRosie Miles
انڈیا کے ایک اعلیٰ ماہر ڈاکٹر کے الہاس کارنتھ کے مطابق یہ مسکن ایسے ہونے چاہییں جہاں چیتوں کے لیے شکار موجود ہو لیکن وہاں جہاں انسان، کتے یا شیر نہ ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈیا میں چیتوں کی سابق ٹھکانے سکڑ رہے ہیں۔
’چیتوں کو دوبارہ انڈیا واپس لانے کا مقصد اس کی آبادی میں اضافہ کرنا ہے۔ لہذا صرف کچھ جانوروں کو پارک میں لا کر رکھ دینے سے فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ ایک ناکام منصوبہ ہے۔‘
لیکن ڈاکٹر جھالا جیسے جنگلی حیات کے ماہرین انڈیا کے سرسبز علاقوں میں جنگلی جانوروں کی واپسی کے بارے میں خوش ہیں۔
وہ کہتے ہیں ’کسی بھی قسم کی دوبارہ افزائش کے لیے آپ کو کم از کم 20 جانوروں کی ضرورت ہوگی۔ ہم اگلے پانچ برسوں میں 40 چیتوں کو انڈیا لانے پر غور کر رہے ہیں۔‘









