قندھار: افغان طالبان کا غزنی اور ہرات کے بعد افغانستان کے دوسرے بڑے شہر پر قبضے کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی میں تیزی آتی جا رہی ہے اور جمعے کو ان کی جانب سے ملک کے دوسرے بڑے شہر قندھار کے علاوہ لشکر گاہ پر بھی قبضے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔
سرکاری طور پر تاحال قندھار یا لشکر گاہ کے سقوط کے بارے میں کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے تاہم طالبان کی جانب سے جاری کی جانے والی ویڈیوز میں انھیں شہر کے اندر موجود دیکھا جا سکتا ہے۔
اگر قندھار کے طالبان کے قبضے میں جانے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ گذشتہ دس دن کے دوران طالبان کے قبضے میں جانے والا 12واں صوبائی دارالحکومت ہو گا۔
قندھار کے بعد اب افغان حکومت کا کنٹرول کابل سمیت چار اہم شہروں تک ہی محدود رہ گیا ہے جن میں سے دو اس وقت طالبان کے محاصرے میں ہیں۔
قندھار اس لیے بھی اہم ہے کہ طالبان تحریک نے یہیں سے جنم لیا تھا اور ماضی میں یہ ان کا گڑھ ہوا کرتا تھا۔ یہ ملک کا معروف تجارتی مرکز بھی ہے۔ سرکاری سطح پر فی الحال طالبان کے قندھار پر قبضے کے دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔
جمعرات کو بھی متعدد صوبائی دارالحکومتوں پر طالبان کے قبضے کی تصدیق ہوئی تھی جن میں غزنی، قلعہ نو اور ہرات شامل ہیں۔
جمعہ کی صبح طالبان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں قندھار اور لشکر گاہ پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ ان شہروں سے طالبان کے میڈیا ونگ نے تصاویر اور ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر شئیر کی ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان ’پورے قندھار‘ اور لشکر گاہ پر قبضہ کر لیا ہے۔
اس سے پہلے طالبان نے قندھار شہر کے مرکزی جیل پر بھی کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ سوشل میڈیا پر کئی ایسی ویڈیوز بھی شئیر کی جا چکی ہیں جن میں قیدیوں کو جیل سے فرار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTwitter/Zabehulah_M33
تین ہزار امریکی فوجی کابل بھیجنے کا اعلان
ادھر امریکہ نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنے سفارتی عملے کو واپس لانے کے لیے قریب تین ہزار فوجی بھیجیں گے۔ جبکہ برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ عارضی طور پر افغانستان میں 600 فوجی تعینات کریں گے جو شہریوں کی وطن واپسی میں معاونت کریں گے۔ کابل میں برطانوی سفارتخانے میں محدود عملہ کام کرے گا۔
برطانوی دفترِ خارجہ نے افغانستان میں موجود تمام شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ملک چھوڑ دیں۔ اندازاً چار ہزار برطانوی شہری اب بھی افغانستان میں مقیم ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سفارت خانہ کھلا رہے گا تاہم 'ہم کابل میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے باعث وہاں موجود سویلینز کی تعداد میں کمی کر رہے ہیں۔'
امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں 3000 امریکی فوجی کابل بھیجے جائیں گے، تاہم پینٹاگون نے زور دیا کہ یہ فوجی طالبان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں کیے جائیں گے تاہم حملے کی صورت میں انھیں دفاع کا حق ہو گا۔
ملک میں غیر ملکی افواج کے 20 سالہ آپریشن اور انخلا کے بعد اب طالبان نے تیزی سے ملک کے ایک تہائی صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے جس پر عالمی سطح پر کافی تشویش پائی جاتی ہے۔
اسی دوران یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ طالبان کی پیش قدمی اب ملکی دارالحکومت کابل کی طرف ہوگی جس کے باعث ہزاروں شہریوں نے سڑکوں پر لڑائی سے بچنے کے لیے اپنے گھر چھوڑ دیے ہیں۔
بی بی سی میں جنوبی ایشیا کے ایڈیٹر انبراسن ایتھیراجن نے کہا ہے کہ 'طالبان کی پیش قدمی کی رفتار نے بڑے فوجی تجزیہ کاروں کو بھی حیران کر دیا ہے۔
ایک دن میں تین صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جمعرات کو افغانستان میں طالبان نے غزنی، ہرات اور قلعہ نو کے شہروں پر قبضہ کیا تھا۔
ہرات میں کئی دن سے افعان فوج اور ان کی حمایتی مقامی ملیشیا کی طالبان کے خلاف جھڑپیں جاری تھیں اور جمعرات کو مقامی کونسل کے ایک رکن نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ شہر طالبان کے قبضے میں چلا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طالبان ایک مرکزی شاہراہ سے فائرنگ کرتے ہوئے گزر رہے ہیں اور پولیس ہیڈکوارٹر پر طالبان کا جھنڈا لہرا رہا ہے۔ طالبان نے گورنر کے آفس پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔
جمعرات کو ہی سرکاری ذرائع نے تصدیق کی تھی کہ طالبان جنگجوؤں نے صوبہ غزنی کے صدر مقام پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغانستان کی وزارت داخلہ نے غزنی کے طالبان کے قبضے میں جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’دشمنوں نے (شہر کا) کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔‘
صوبائی کونسل کے سربراہ ناصر احمد فقیری نے اے ایف کو بتایا ہے کہ کابل سے قندھار جانے والی سڑک پر واقع غزنی کے گورنر ہاؤس، پولیس ہیڈ کوارٹرز اور جیل پر اس وقت طالبان کا قبضہ ہے۔
غزنی سے موصول ہونے والی تصاویر میں طالبان کو اہم سرکاری عمارتوں کے سامنے کھڑے اور انتظام و انصرام سنبھالتے دیکھا جا سکتا ہے۔
غزنی اور قلعہ نو کا کنٹرول کھونے کے بعد افغان فوج کی دارالحکومت کابل سے شورش زدہ جنوبی علاقوں تک تازہ دستے بھیجنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ طالبان اب ملک کے تقریباً تمام مغربی صوبوں پر قابض ہیں اور جنوب میں صرف زابل اور ارزگان ہی حکومتی کنٹرول میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
غزنی پر طالبان کے قبضے کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ ملک کے شمالی حصے اب تقریباً افغان حکومت کے ہاتھوں سے نکل گئے ہیں۔ واضح رہے کہ 1990 کی دہائی میں جب طالبان کی افغانستان میں حکومت تھی، اس وقت بھی وہ شمالی افغانستان پر پوری طرح قابض نہیں تھے۔
تاہم حکام کے مطابق افغان افواج مقامی ملیشیا کے ساتھ مل کر طالبان کی جارحانہ پیش رفت کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
حکومت مقامی 'رضاکار مزاحمت کاروں' کو مسلح کر رہی ہے
اس سے پہلے افغانستان کے وزیر داخلہ جنرل عبد الستار مرزاکوال نے طالبان کو پیچھے دھکیلنے کے حکومتی منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت ملک کے بڑے حصوں کو طالبان کے قبضے سے چھڑوانے کے لیے تین مراحل پر مشتمل حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے جس کے تحت مقامی 'رضاکار مزاحمت کاروں' کو مسلح کیا جا رہا ہے۔
وزیر داخلہ جنرل عبد الستار نے کہا تھا کہ افغانستان کی افواج بڑی شاہراہوں، شہروں اور سرحدی گزرگاہوں کو طالبان کے قبضے سے آزاد کرانے پر توجہ دے رہی ہیں۔

افغانستان کے صوبے واردک میں الجزیرہ چینل کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں وزیر داخلہ جنرل عبد الستار نے کہا کہ افغانستان کی افواج بڑی شاہراہوں، شہروں اور سرحدی گزرگاہوں کو طالبان کے قبضے سے آزاد کرانے پر توجہ دے رہی ہیں۔
جنرل عبدالستار نے صرف پانچ ہفتے قبل ہی ملک کی ایک لاکھ 30 ہزار افراد پر مشتمل پولیس فورسز کی کمانڈ سنبھالی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم پہلے مرحلے میں حکومتی افواج کی شکست کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دوسرے مرحلے میں تمام سیکورٹی فورسز کو دوبارہ اکٹھا کر کے شہروں کے قریب حفاظتی حصار بنا رہے ہیں اور تیسرے مرحلے میں آپریشنز کر کے علاقوں کو طالبان کے قبضے سے چھڑانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت وہ اپنی حکمت عملی کے دوسرے مرحلے میں ہیں۔
جنرل عبدالستار مرزاکوال نے کہا کہ ’ہم ان تمام فوجیوں کو جو اپنے پوسٹیں چھوڑ گئے ہیں انھیں واپس لا رہے ہیں‘۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومتی افواج کی بہت سی ناکامیوں کی وجہ شاہراہوں کا کنٹرول کھو دینے کی وجہ سے ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ان (امریکی افواج) کے انخلا کے ساتھ ہی ملک کے چار سو علاقوں میں لڑائی شروع ہو گئی۔ ’ہمیں بہت محدود فضائی مدد حاصل ہے، ہیلی کاپٹرز سپلائی مہیا کرنے اور زخمی اور مرنے والے فوجیوں کو وہاں سے نکالنے میں مصروف ہیں۔‘
وزیر داخلہ نے کہا کہ افغانستان کی حکومت مقامی رہنماؤں کو طالبان سے مقابلے کے لیے مقامی لوگوں کو بھرتی کرنے کا اختیار تقویض کر رہی ہے۔
’ان لوگوں نے صدر اشرف غنی کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے، یہ حکومت افواج کے ساتھ ملکر کر طالبان سے لڑیں گے۔‘
وزیر داخلہ نے کہا کہ عالمی برادری کو مقامی مزاحمتی گروہوں کے بارے میں تحفظات ہیں لیکن ہم ان کے ممبران کو بعد میں افغان نیشنل سیکورٹی فورسز میں ضم کر لیں گے۔
وزیر داخلہ نے کہا ’میں طالبان سے کہتا ہوں کہ یہ بربریت بند کرو۔ قتل کرنا بند کرو۔ پیار سے بیٹھو اور ہمیں حل نکال لینا چاہیے۔‘
وزیر داخلہ نے کہا ’آؤ مل کر بیٹھیں اور ایک ایسی مخلوط حکومت قائم کریں جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔ ہم یہ جتنا جلد کر لیں گے وہ اچھا ہو گا‘۔
’طالبان 30 دن میں کابل میں ہوں گے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
طالبان کی پیش قدمی کی رفتار کو دیکھتے ہوئے امریکی انٹیلیجنس کا ماننا ہے کہ اگر ان کے جنگجو اسی رفتار سے آگے بڑھتے رہے تو وہ 30 دن تک کابل کا محاصرہ کر لیں گے اور شاید 90 دن میں اسے فتح کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک امریکی دفاعی اہلکار نے کہا کہ اگرچہ یہ صورتحال ناگزیر نہیں اور افغانستان کی فوج طالبان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں تو ایسا ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔
اس وقت کابل میں چاروں طرف سے پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ سب لوگ ایسے علاقوں سے نقل مکانی کر کے آئے ہیں جہاں یا تو شدید لڑائی جاری ہے یا پھر وہ علاقہ طالبان کے قبضے میں آ چکے ہیں۔
امریکی ذرائع کا کہنا تھا کہ اس ہجوم میں خودکش بمباروں کی موجودگی کے خدشات ہیں اور ڈر ہے کہ اگر کوئی بمبار سفارتی کوارٹر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ملک میں بچی کھچی بین الاقوامی کمیونٹی بھی کابل چھوڑنے پر مجبور ہو جائے گی۔
’طالبان غنی حکومت سے مذاکرات پر آمادہ نہیں‘
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ طالبان افغان صدر اشرف غنی سے مذاکرات کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات رُک گئے ہیں تاہم امریکہ اب پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے انھیں امن معاہدے پر آمادہ کرے۔
بدھ کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جب طالبان قیادت کا وفد اسلام آباد آیا تھا تو پاکستان نے ان پر افغان حکومت کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے زور دیا تھا۔
تاہم وزیراعظم کے بقول طالبان نے کہا کہ جب تک صدر غنی اقتدار میں ہیں وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یاد رہے کہ قطر میں طالبان کے نمائندے محمد عباس ستانکزئی نے بھی جنوری کے آخر میں کہا تھا کہ اگر اشرف غنی اقتدار چھوڑتے ہیں تو وہ نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
صدر اشرف غنی نے خود اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اقتدار نہیں چھوڑیں گے تاہم ان کے مطابق وہ قبل از وقت انتخابات کے لیے تیار ہیں۔
عمران خان کا یہ تبصرہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ، روس، چین اور پاکستان کے نمائندے دوحہ میں افغانستان کے بحران کے خاتمے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
افغان حکومت اور طالبان کے وفود بھی اجلاس میں شرکت کر رہا ہے۔













