قندھار سے کابل تک، طالبان کے زیر اثر علاقوں میں سفر: ’خواتین کی تصویریں کھینچنے سے فحاشی و عریانی پھیلتی ہے‘

افغانستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, خدائے نور ناصر
    • عہدہ, بی بی سی، اسلام آباد

افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار کے صدر مقام قندھار شہر سے افغان دارالحکومت کابل تک جانے والی سڑک کے ارد گرد کے علاقوں میں سے اکثریت اب طالبان کے قبضے میں ہیں اور اس راستے پر آنے والے بڑے شہروں میں سے صرف تین یا چار ہی ایسے ہیں جہاں پر افغان حکومت کا کنٹرول ہے۔

قندھار کے ایک رہائشی داؤد (فرضی نام) نے گذشتہ دنوں قندھار سے کابل تک بذریعہ سڑک سفر کیا اور اپنے سفر کا آنکھوں دیکھا حال بی بی سی اردو کو سنایا۔

Presentational grey line

قندھار شہر سے نکلتے ہی طالبان کے سفید پرچم نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ سڑک کے دونوں جانب جگہ جگہ طالبان کھڑے نظر آتے ہیں۔

کئی جگہوں پر افغان آرمی سے جنگ کے بعد قبضہ کی گئی گاڑیاں بھی نظر آتی ہیں جن پر تین رنگوں والے افغان پرچم کی جگہ سفید پرچم لہراتا ہوا نظر آتا ہے۔

قندھار شہر سے لے کر صوبہ زابل کے صدر مقام قلات شہر تک سڑک کے آس پاس تمام تر علاقے طالبان کے کنٹرول میں نظر آئے اور قندھار شہر سے نکلنے کے بعد پہلی مرتبہ افغان فورسز کے جوانوں کو قلات شہر کے اندر دیکھا گیا۔

قلات کے بعد کابل تک پورے راستے میں بھی صرف شہروں میں ہی افغان حکومت کی رٹ تھی، جبکہ شہروں کے مضافات سے لے کر دور دراز گاؤں تک تمام علاقوں پر طالبان کا غلبہ نظر آیا۔

افغانستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

راستے میں طالبان جنگجوؤں نے اُن تمام چیک پوسٹوں پر اپنا پرچم لہرایا تھا جہاں اس سے پہلے افغان آرمی کے چیک پوسٹس اور قلعے ہوتے تھے۔

راستے میں طالبان ہر گاڑی کو نہیں روکتے اور نہ ہی ہرگاڑی کی تلاشی لیتے ہیں لیکن جن کے بارے میں طالبان کے جاسوس نیٹ ورک نے انھیں پیشگی اطلاع دی ہو اس گاڑی کو روک کے کر اس میں موجود اشخاص سے پوچھ گچھ کی جا رہی تھی۔

طالبان کا جاسوس نیٹ ورک

داؤد سمیت اس راستے پر سفر کرنے والے دو اور لوگوں کے مطابق طالبان کے جاسوس قندھار اور کابل کے اڈوں سمیت راستے میں تمام بس سٹاپس اور اہم جگہوں میں پائے جاتے ہیں جو اس راستے پر ہر آنے جانے والے پر نگاہ رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔

کسی بھی جگہ پر انھیں کوئی بھی ایسا شخص دکھائی دیتا جس پر انھیں کسی قسم کا شک ہوتا تو وہ اُس کا پیچھا کرتے ہیں اور وہ شخص جس گاڑی میں سفر کرنے کے لیے استعمال کرے، جاسوس اُس گاڑی کا نمبر اور مشکوک شخص کا حلیہ راستے میں موجود اپنے ساتھیوں کو فون پر فراہم کرتے ہیں۔

افغانستان

،تصویر کا ذریعہMarcus Yam

داؤد نے بی بی سی کو بتایا کہ دوران سفر کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ دوران سفر طالبان جن افراد کو سوال جواب کے لیے اتارتے ان میں اکثریت سرکاری ملازمین، افغان آرمی یا پولیس سے تعلق رکھنے والے یا وہ جن پر طالبان مخالف ہونے کا شک ہو۔

سمارٹ فون کے بغیر سفر

قندھار سے کابل یا کابل سے قندھار تک سفر کے لیے اس راستے پر جانے والے اکثر لوگ اپنے ساتھ کوئی سمارٹ فون نہیں لے جاتے ہیں۔

داؤد نے بھی اپنا سمارٹ فون گاڑی میں اپنے سامان میں چھپا کر رکھا اور ایک عام فون سیٹ کے ساتھ یہ سفر شروع کیا۔

افغانستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

داؤد بتاتے ہیں کہ لوگ اس راستے پر اپنے ساتھ سمارٹ فون اس لیے نہیں لے کر جاتے ہیں کیونکہ اگر طالبان نے پکڑ لیا تو فون کا سارا ڈیٹا چیک کرتے ہیں اور فون میں موجود تصویروں پر بھی پوچھ گچھ کرتے ہیں۔

داؤد اپنے ایک اور دوست کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اُن کے ایک دوست کے موبائل میں طالبان نے ایک خاتون کی تصویریں دیکھیں تو اس سے سوال کیا کہ یہ عورت کون ہے؟

جواب میں اس شخص نے جواب دیا کہ یہ اس کی اہلیہ ہے تو طالبان نے نہ صرف اس شخص کو تھپڑ مارا بلکہ اس کا موبائل بھی یہ کہہ کر توڑ دیا کہ 'خواتین کی تصویریں کھینچنے سے فحاشی و عریانی پھیلتی ہے۔'

داؤد بتاتے ہیں کہ اگر کسی سواری کے فون میں افغان آرمی یا افغان پولیس کے کسی اہلکار کی تصویر ملتی ہے تو اُنھیں اُتارا جاتا ہے اور اُس تصویر کے بارے میں اُس سے مکمل معلومات لیتے ہیں۔

طالبان ایسے لوگوں پر شک کرتے ہیں کہ کہیں وہ افغان آرمی یا پولیس کے اہلکار نہ ہو اور اگر ایسا ہوا تو اُنھیں وہیں سے اغوا کر لیتے ہیں۔

داؤد نے بی بی سی کو طالبان کی تفتیش کرنے کے انداز اور انوکھے طریقوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

اپنے ایک جاننے والے کے بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ اُن کے موبائل فون میں کچھ افغان اہلکاروں کی تصاویر ملی تھیں جس کے بعد طالبان نے اُنھیں گاڑی سے اُتار کر قریب ہی ایک چیک پوسٹ پر لے گئے تھے۔

بی بی سی کے ساتھ شئیر کیے گئے اس واقعے میں انھوں نے بتایا کہ طالبان نے اُس شخص کے موبائل میں ڈائل لسٹ میں سے ایک نمبر پر ملائی اور جواب ملنے پر طالبان نے اپنا تعارف بطور افغان پولیس اہلکار کرایا اور کہا کہ وہ جس شخص کے نمبر سے کال کر رہے ہیں اس کی گاڑی کا حادثہ ہو گیا ہے اس لیے اس کی معلومات فراہم کریں تاکہ امداد دی جا سکے۔

افغانستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جواب میں فون کال ریسیو کرنے والے نے جو معلومات دیں اس سے یہ ثابت ہوا کہ طالبان نے جس شخص کو پکڑا تھا، اس کا تعلق نہ پولیس سے تھا اور نہ ہی فوج سے۔

تاہم طالبان نے رہا کرنے سے قبل اس شخص کے فون کو مکمل طور توڑ دیا۔

مخصوص سم کارڈ برآمد ہونے پر چبا کر کھانا پڑے گا

داؤد نے بی بی سی کو بتایا کہ کابل اور قندھار کے درمیان اس راستے پر سفر کرتے وقت کئی لوگ سمارٹ فون نہ لے جانے کے ساتھ ساتھ ایک افغان ٹیلی کام کمپنی کا سم کارڈ بھی ساتھ نہیں لے کر جاتے ہیں کیونکہ کسی بھی شخص کے ساتھ یہ مخصوص سم کارڈ برآمد ہونے پر طالبان اُس سے زبردستی چبوا کر کھلانے پر مجبور کرتے ہیں۔

افغانستان کی سرکاری ٹیلی کام کمپنی 'سلام' ایک عرصے سے طالبان کی ہٹ لسٹ پر ہے۔

ماضی میں طالبان نے ملک کے کئی صوبوں کام کرنے والی موبائل کمپنیوں کو رات کے وقت سگنل بند کرنے لیے دھمکیاں دیں جس کے بعد ان میں سے کئی کمپنیوں نے یہ مطالبہ منظور کر لیا لیکن سلام ٹیلی کام چونکہ سرکاری کمپنی تھی، اس لیے اُنھوں نے کبھی بھی طالبان کی بات نہیں مانی اور کہا جاتا ہے کہ اس وجہ سے آج تک طالبان اس موبائل کمپنی کے خلاف ہیں۔

کئی علاقوں میں طالبان اس لیے رات کے وقت موبائل سگنل بند کرنے لئے دباؤ ڈالتے تھے کیونکہ اُن کے مطابق رات کے وقت موبائل فون کے ذریعے ہی اُن کے جنگجوؤں کی جاسوسی ہوتی ہے جس کے بعد افغان فورسز اُن کے ٹھکانوں پر فضائی یا زمینی حملے کرتے ہیں۔