بنگلہ دیش کے روہنگیا کیمپ میں آتشزدگی کے عینی شاہد کی کہانی: ’میں نے اپنی آنکھوں سے لوگوں کو راکھ بنتے دیکھا‘

،تصویر کا ذریعہTeam Saiful Arakani
- مصنف, سوامی ناتهن ناتاراجن اور خدیجہ عارف
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں واقع روہنگیا پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ پر اب قابو پا لیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں 45 ہزار افراد بے گھر، کم از کم 15 اموات ہوئی ہیں اور 400 افراد لاپتہ ہیں۔
جس وقت آگ نے ہزاروں عارضی پناہ گاہوں کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا اس وقت 25 سالہ پناہ گزین سیف الارکانی سیدھے اس زہریلے دھوئیں میں داخل ہو گئے تاکہ لوگوں کو باہر زندہ نکال سکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 'لوگ میری آنکھوں کے سامنے راکھ بن رہے تھے۔ بہت لوگ اس میں ہلاک ہوگئے ہیں۔‘
کئی دیگر رضاکاروں کی طرح سیف نے اپنی جیکٹ اور کمبل استعمال کیا تاکہ آگ میں جلنے والوں کو بچایا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہTeam Saiful Arakani
وہ پیشے کے اعتبار سے فوٹوگرافر ہیں لیکن اس وقت ان کے پاس صرف اپنا موبائل فون تھا۔ انھوں نے ہنگامی صورتحال میں کچھ تصاویر بھی محفوظ کیں۔ ’میں تصاویر کھینچ رہا تھا لیکن اس دوران اپنے آنسو نہیں روک پا رہا تھا۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کی تصاویر میں سے سب سے خوفناک ایک چھوٹے بچے کی تھی۔ یہ آگ میں بری طرح جھلس چکا تھا۔ اس کا ننھا سا جسم اس کھلونے کے ساتھ لپٹا ہوا تھا۔ سیف کہتے ہیں کہ یہ چھوٹا بچہ زندگی کی بازی ہار چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTeam Saiful Arakani
آگ کے سامنے بے بس تھا
بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع کاکس بازار تقریباً 10 لاکھ روہنگیا پناہ گزینوں کا گھر ہے۔ یہاں اکثریت اس مسلم برادری کی ہے جو یہاں 2017 میں میانمار سے ظالمانہ کریک ڈاؤن کے دوران نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئی تھی۔
اس پہاڑی علاقے میں ہزاروں عارضی پناہ گاہیں ایک دوسرے کے ساتھ تعمیر کی گئی ہیں۔ جب آگ ایک کیمپ میں لگی تو اس نے کئی دوسرے کیمپوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور تباہی بڑھتی ہی چلی گئی۔

،تصویر کا ذریعہTeam Saiful Arakani
امدادی سرگرمیاں
سیف کے لیے یہ دوپہر تین بجے کا وقت تھا جب ان کی والدہ نے سامنے کے دروازے سے نکلتے ہوئے دو کلو میٹر سے زیادہ فاصلے پر دھوئیں اور آگ کے شعلے اٹھتے دیکھے۔
سیف کہتے ہیں کہ ’یہ شعلے ہوا میں 100 فٹ اونچائی تک پھیل چکے تھے۔ میں فوراً ٹیکسی میں بیٹھا اور آتشزدگی کا نشانہ بننے والے مقام کی طرف بھاگا۔‘
جب سیف وہاں پہنچے تو ایک ہجوم جمع ہو چکا تھا۔ کئی افراد پریشانی سے اس بات کا تعین کر رہے تھے کہ آگ کس راستے کیمپ میں مزید پھیلے گی۔ ’میں نے لوگوں کو چیختے سنا میری ماں کو بچاؤ، میری بہن کو بچاؤ۔ یہ تباہی کا منظر تھا۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اب کیا کرنا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTeam Saiful Arakani
امدادی ٹیمیں ابھی جائے وقوعہ سے کچھ فاصلے پر تھیں جب مقامی رہائشیوں کے ساتھ ایک گروہ کی شکل میں سیف اس زہریلے دھوئیں میں داخل ہوئے اور بچنے والوں کا سراغ لگانے لگے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ وہاں انھوں نے دیکھا وہ یہ کبھی نہیں بھولیں گے۔
’میں نے لوگوں کو راکھ بنتے دیکھا۔ میں ان کی مدد کرنا چاہتا تھا، چاہے ایسا کرنے پر میں بھی جان کی بازی ہار جاتا۔ میں نے بچوں، خواتین اور مردوں کو اپنے بازوؤں اور کندھوں پر اٹھایا۔ ان میں کئی افراد بری طرح زخمی ہو چکے تھے۔‘
اس ہنگامے کے دوران سیف نے ایک آدمی کو مدد کے لیے پکارتے سنا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’اس کا نام سلیم ہے اور اس کی عمر 40 برس کے قریب ہے۔ وہ رو رہا تھا کہ میری بیٹی اور بیوی کو بچاؤ۔ میں زندہ ہوں مگر مہربانی کر کے میری بیٹی کو بچا لو۔‘
تباہ حال کیمپوں سے گزرتے ہوئے رضاکاروں نے اس شخص کے کنبے کو بچایا۔
سیف اس کیمپ میں چار برس سے زیادہ عرصے سے رہ رہے ہیں۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ لاوارث ہو جانا کیسا ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسی لیے انھوں نے اس برادری کے لوگوں کو جہاں تک ممکن ہو سکا بچانے کی کوشش کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہTeam Saiful Arakani
امدادی کارروائی کے لیے یہ جگہ بہت گنجان آباد تھی اور یہاں ہر مربع میٹر پر تقریباً 60 ہزار افراد رہتے ہیں اور آگ کی وجہ سے رضاکاروں کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا انتہائی مشکل ہو چکا تھا۔
وہاں پائپوں کی مدد سے کیمپ میں پانی کی ترسیل کا کوئی نظام نہیں تھا۔ سیف کہتے ہیں کہ ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک رضاکاروں کی یہ فوج بالٹیوں کی مدد سے پانی اندر تک پہنچانے کی کوشش کرتی رہی اور آخر کار چار بج کر 40 منٹ پر آگ بجھانے والا عملہ وہاں پہنچا۔
کئی ایمبولینسیں آچکی تھیں تو سیف نے خود سے بچائے گئے ان لوگوں کو ان گاڑیوں میں منتقل کرنا شروع کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک شخص کی موت ہسپتال میں واقع ہوئی۔ وہ اپنے زخموں کی تاب نہ لاسکا تھا۔
’میرے سامنے 10 افراد ہلاک ہوئے۔ چار بچے تھے جن کی عمریں ایک سے چھ سال کے درمیان تھیں۔‘
حادثے کے بعد کی صورتحال
شام تک اس آگ پر قابو پا لیا گیا تھا۔ امدادی تنظیموں کے مطابق متاثرین نے اس آگ میں اپنی تمام قیمتی اشیا ہمیشہ کے لیے کھو دی ہیں۔ اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی تنظیم کے مطابق تقریباً 560 افراد زخمی ہوئے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق 45 ہزار افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ اس دوران 10 ہزار کے قریب کیمپ تباہ ہو گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTeam Saiful Arakani
ایکشن ایڈ بنگلہ دیش کی ڈائریکٹر فراح کبیر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھوں نے ابھی سے بے گھر افراد کے لیے عارضی پناہ گاہیں فراہم کرنا شروع کر دی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے بچنے والے 200 افراد اور کئی بچوں کو دو کمیونٹی سینٹرز میں رہائش دی ہے۔ ہم نے خشک خوراک فراہم کی ہے۔ کیمپ اِن چارج کے ساتھ تعاون کے ساتھ ہم نے پینے کے لیے 12 ہزار لیٹر پانی تقسیم کیا ہے۔‘
سیف کہتے ہیں کہ وہ اپنی برادری کے لیے افسردہ ہیں لیکن انھیں اس بات سے کچھ سکون ملا ہے کہ انھوں نے سینکڑوں افراد کی حفاظت کو یقینی بنایا۔
’میں شاید آج رات سو نہ سکوں۔ ان نوجوان بچوں اور بے یار و مددگار خواتین کی چیخیں میرے ذہن میں اب بھی گونج رہی ہیں۔ کاش میں اور لوگوں کو بچا پاتا!‘










