بنگلہ دیش آتشزدگی، ایک سو سولہ ہلاکتیں

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں آتشزدگی کے ایک واقعے میں ایک سو سولہ افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔
حکام نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
آتشزدگی کا یہ واقعہ ڈھاکہ کے انتہائی گنجان آباد علاقے نمتولی میں پیش آیا۔
فائربریگیڈ کے عملے کے مطابق آگ بجلی کا ٹرانسفارمر پھٹنے سے لگی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ایک پانچ منزلہ رہائشی عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس عمارت کی کھڑکیوں پر آہنی گرل لگی ہوئی تھی اور اس میں ہنگامی حالت میں نکلنے کا کوئی راستہ بھی نہ تھا۔
بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ نے متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے کے بعد سنیچر کو قومی یومِ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

ڈھاکہ میڈیکل ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹر عمران الحسن نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے خود پینتالیس لاشیں سڑک پر پڑی دیکھی ہیں۔ ڈاکٹر عمران نے کہا کہ ’مرنے والے معمولی جلے لیکن ان کی موت دھویں سے ہوئی ہے‘۔
ڈاکٹر عمران نے کہا کہ ہسپتال میں زخمیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
آگ بجھانے کے شعبے کے سربراہ ابو نعیم کے مطابق نے بتایا کہ نمتولی میں لگنے والی آگ پر اب پر قابو پا لیا گیا ہے اور آگ نے سات عمارتوں کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ پہلی منزل پر کیمیکل فروخت کرنے والوں کی دکانیں تھیں جنہوں نے آگ پکڑ لی اور پھر یہ تیزی سے پھیلتی چلی گئی۔ کیمیکلز کی وجہ سے درجۂ حرارت اور کیمیائی بخارات ناقابلِ برداشت ہوگئے تھے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ابو نعیم نے کہا کہ قدیم رہائشی عمارتوں کے تنگ زینوں کی وجہ سے انہیں عمارتوں میں داخل ہونے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
آتشزدگی کے ایک عینی شاہد کے مطابق جس وقت آگ لگی تو ایک عمارت کی چھت پر شادی کی تقریب ہو رہی تھی۔ عینی شاہد کا کہنا ہے کہ دلہن آتشزدگی سے متاثر نہیں ہوئی کیونکہ وہ تیار ہونے کے لیے بیوٹی پارلر گئی ہوئی تھی۔
ایک متاثرہ عمارت کی رہائشی رحیمہ بیگم نے بتایا کہ وہ رات کا کھانا کھا رہی تھی جب عمارت میں آگ لگ گئی۔’ میں نے بڑے دھماکے کی آواز سنی اور پھر دو عمارتوں سے شعلے اٹھنے لگے۔‘
مبصرین کے مطابق ڈھاکہ میں آتشزدگی کے واقعات عام ہیں لیکن یہ حالیہ برسوں میں بدترین واقعہ ہے۔
ڈھاکہ میں بی بی سی کے نامہ نگار مارک ڈومیٹ کہ کہنا ہے کہ ڈھاکہ کا شمار دنیا کے گنجان ترین شہروں میں ہوتا ہے اور نمتولی ڈھاکہ کا سب سے گنجان علاقہ ہے۔ اُن کے مطابق لوگوں کی اکثریت ایسی عمارتوں میں رہائش پذیر ہے جہاں آگ لگنے کی صورت میں بچنے کا امکان کم ہے اور حفاظتی اقدامات انتہائی کم ہیں۔







