جے کشور پردھان: بیٹیوں کی ضد پر 64 برس کی عمر میں میڈیکل کی تعلیم شروع کرنے والا شخص

وجے پردھان

،تصویر کا ذریعہDEEPAK SHARMA

    • مصنف, سندیپ ساہو
    • عہدہ, صحافی، بھونیشور

انڈیا کی مشرقی ریاست اڑیسہ میں ایک ریٹائرڈ آفیسر نے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ملکی سطح پر منعقد ہونے والے این ای ای ٹی یعنی نیٹ امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے۔

ریٹائرڈ بینک آفیسر جے کشور پردھان نے 64 سال کی عمر میں یہ کارنامہ انجام دیا۔

وہ اپنی بیٹیوں کے خواب کو پورا کرنے کے لیے میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پردھان نے نہ صرف عمر کی رکاوٹ کو عبور کیا ہے بلکہ ایک حادثے کے بعد وہ معذور ہو گئے تھے اور انھوں نے اس پر بھی فتح حاصل کی ہے۔ سنہ 2003 میں ایک کار حادثے کے بعد ان کے پاؤں بے کار ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

پیروں پر ڈلی سپرنگ کی مدد سے وہ چل تو سکتے ہیں لیکن آسانی سے نہیں۔ جے کشور نے بی بی سی کو بتایا کہ بچپن سے ہی ان کی خواہش ڈاکٹر بننے کی تھی۔ سنہ 1974-75 میں بارہویں کلاس پاس کرنے کے بعد انھوں نے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مقابلہ جاتی امتحان تو دیے لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔

خیال رہے کہ ملک میں میڈیکل میں داخلے کے امتحانات بہت سخت اور مقابلہ جاتی ہوتے ہیں اور لاکھوں طلبہ اس میں شرکت کرتے ہیں۔

میڈیکل میں ناکامی کے بعد انھوں نے اگلے سال پھر سے کوشش کرنے اور ایک ایک سال گنوانے کے بجائے بی ایس سی میں داخلہ لے کر اپنی آگے کی تعلیم کو جاری رکھنا مناسب سمجھا۔ انھوں نے فزکس آنرز کے ساتھ گریجویشن کیا اور پھر سٹیٹ بینک میں ملازمت حاصل کی۔

سنہ 1982 میں جب پردھان کے والد بیمار ہوئے تو انھوں نے اپنے والد کو علاج کے لیے گورنمنٹ میڈیکل کالج برلا میں داخل کرایا جہاں ان کے دو آپریشن ہوئے۔ لیکن اس کے باوجود جب وہ صحتیاب نہ ہوئے تو وہ اپنے والد کو ویلور کے کرسچن میڈیکل کالج لے گئے جہاں سے وہ صحت یاب ہونے کے بعد واپس گھر آ گئے۔

ومسار (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہWWW.VIMSAR.AC.IN

طب کی تعلیم

اپنے والد کے علاج کے لیے ہسپتال میں رہنے کے دوران پردھان کی ڈاکٹر بننے کی خواہش ایک بار پھر جاگ اٹھی۔ لیکن اس وقت تک وہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کی عمر کی حد کو عبور کر چکے تھے۔ اس لیے اس وقت وہ ہاتھ مل کر رہ گئے۔

پردھان اگرچہ خود ڈاکٹر نہیں بن پائے لیکن 30 ستمبر سنہ 2016 کو ریٹائر ہونے کے بعد انھوں نے اپنی جڑواں بیٹیوں کے ذریعے اپنے خواب کو پورا کرنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے اپنی بیٹیوں کو میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی اور ان کی تیاری میں بھی مدد کی۔ آخر کار ان کی محنت لگن اور حوصلہ افزائی رنگ لائی اور ان کی دونوں بیٹیوں نے بی ڈی ایس (ڈینٹل سائنس) کا امتحان پاس کیا۔

لیکن جب انڈیا کی عدالت عظمیٰ یعنی سپریم کورٹ نے نیٹ کے امتحان میں عمر کی حد کو چیلنج کرنے والی سنہ 2019 میں دائر درخواست پر کیس کے حتمی فیصلے تک عمر کی حد کو ختم کردیا تو پردھان کو ایک بار پھر موقع مل گیا اور اسی سال انھوں نے نیٹ کے امتحان میں شرکت کی لیکن انھیں کامیابی نہیں ملی۔

وہ کہتے ہیں: 'سچ پوچھیں تو پچھلے سال میں نے 'نیٹ' کے لیے علیحدہ سے کوئی تیاری نہیں کی تھی لیکن بیٹیوں کی ضد کی وجہ سے میں امتحان میں بیٹھا تھا۔ اس بار مجھے کامیابی نہیں ملی، لیکن ایک فائدہ ہوا کہ مجھے علم ہو گیا کہ نیٹ کا امتحان کیسا ہوتا اس میں سوالات کیسے پوچھے جاتے ہیں۔ اور اس بار میں بہتر تیاری کے ساتھ امتحان میں شامل ہوا اور کامیاب ہوا۔'

ومسار (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہWWW.VIMSAR.AC.IN

بیٹی کی موت

پردھان نے ستمبر میں امتحان دیا جس کا نتیجہ دسمبر میں آیا لیکن اس دوران ایک ایسا حادثہ پیش آیا جس نے انھیں ہلا کر رکھ دیا۔ ان کی جڑواں بیٹیوں میں سے بڑی بیٹی کی نومبر میں ایک حادثے میں موت ہوگئی۔

'اس نے مجھے سب سے زیادہ ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی تھی۔ اگر وہ آج زندہ ہوتی تو سب سے زیادہ خوش ہوتی۔ لیکن میری بدقسمتی ہے کہ وہ نتائج آنے سے پہلے ہی چل بسی۔'

یہ کہتے ہوئے پردھان جذباتی ہو جاتے ہیں اور ان کی آواز میں درد صاف جھلکتا ہے۔ گذشتہ جمعرات کو پردھان نے برلا شہر میں واقع گورنمنٹ میڈیکل کالج 'ویر سریندر سائی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اینڈ ریسرچ' یعنی 'ومسار' میں داخلہ لیا۔

لیکن ابھی کلاسز شروع نہیں ہوئی ہیں۔ اتفاق سے یہ کالج ان کی رہائش گاہ اتا بیرا سے صرف 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ پردھان نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ گھر سے تعلیم حاصل کریں گے یا ہاسٹل میں رہیں گے۔

جب میں نے ان سے پوچھا کہ اگر انھیں 'ومسار' کے بجائے کسی اور ریاست کے میڈیکل کالج میں داخلہ ملتا تو کیا اس صورت میں بھی وہ ایم بی بی ایس کی تعلیم پوری کرتے؟ انھوں نے فورا کہا: 'میں ضرور کرتا کیونکہ یہ صرف میرا اپنا نہیں بلکہ میری کھوئی ہوئی بیٹی کا بھی خواب تھا۔'

امتحان

،تصویر کا ذریعہSTR/GETTY IMAGES

ڈاکٹروں کی طرح پریکٹس کریں گے

کیا آپ کو اپنے عمر سے چھوٹے بچوں کے ساتھ تعلیم حاصل کرنا اور اپنے سے کم عمر لوگوں کو استاد سمجھنا کچھ عجیب نہیں لگتا؟ اس سوال کے جواب میں پردھان نے کہا: 'میں اپنی طرف سے کوشش کروں گا کہ میرے ساتھ پڑھنے والے طلبہ و طالبات مجھے اپنا ہم جماعت سمجھیں اور مجھ سے ایک جیسا سلوک کریں۔ جہاں تک اساتذہ کا تعلق ہے تو وہ میرے سرپرست ہوں گے چاہے وہ مجھ سے چھوٹے ہی کیوں نہ ہوں۔'

کیا وہ میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دوسرے ڈاکٹروں کی طرح پریکٹس کریں گے؟ اس کے جواب میں پردھان نے کہا: 'میں اس کو پیشہ بنانے کے ارادے سے امتحان میں نہیں بیٹھا تھا۔ میری پیشہ ورانہ زندگی بینک کی نوکری کے ساتھ ختم ہوگئی ہے۔ میرا ڈاکٹری سے روزی کمانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ مجھے جو پنشن ملتی ہے اسی سے میرا کام چل جاتا ہے۔ میں ڈاکٹر بننا صرف اس لیے چاہتا ہوں کہ میں اپنے علاقے کے ان غریب لوگوں کی مدد کر سکوں جن کے پاس علاج کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ اگر میں یہ کرسکتا ہوں تو میں خود کو خوش قسمت سمجھوں گا۔'

پردھان نے ممکنہ طور پر کوئی ریکارڈ بنانے کے لیے ڈاکٹر بننا نہیں چاہا تھا۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ اس عمر میں اپنی انوکھی کامیابی کی وجہ سے انھیں کسی ریکارڈ بک میں جگہ مل جائے۔ پردھان نے یقینی طور پر ثابت کیا کہ اگر کوئی ہدف حاصل کرنے کا عزم رکھتا ہے اور اس کے لیے پوری تندہی سے کام کرتا ہے تو عمر اس میں رکاوٹ نہیں بنتی۔