کھیتوں میں کام کرنے والی روپا کی میڈیکل کالج جانے کے لیے تیاری

،تصویر کا ذریعہSHANKAR YADAV
- مصنف, ویدت مہرا
- عہدہ, بی بی سی ہندی،، دہلی
روپا یادو جب آٹھ برس کی تھیں تبھی ان کی شادی ہو گئی تھی۔ لیکن اپنی سسرال والوں اور شوہر کی مدد سے انھوں نے 'نیشنل ایلیجبلٹي کم انٹرنس ٹیسٹ' میں 720 میں سے 603 پوائنٹس حاصل کیے ہیں اور ملکی سطح پر ان کا 2283 نمبر ہے۔
میڈیل کی تعلیم کے لیے انڈيا میں یہ ٹیسٹ ملک گیر سطح پر کروایا جاتا ہے جس میں کامیابی کے بعد طلبا ایم بی بی ایس کرتے ہیں۔
روپا انڈيا کی ریاست راجستھان کی تحصیل چومو کی نوا گاؤں کی رہائشی ہیں جن کی شادی بچپن میں ہی کر دی گئی تھی۔ اسی خاندان میں ان کی بڑی بہن کی بھی شادی ہوئی تھی۔
سسرال میں روپا کا پورا خاندان کاشتکاری کرکے اپنا گزر بسر کرتا ہے۔ روپا کے خوابوں کو پورا کرنے میں ان کے شوہر شنکر یادو کا بہت بڑا تعاون رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSHANKAR YADAV
تین بہنوں میں سب سے چھوٹی روپا بچپن سے ہی پڑھنے میں دلچسپی رکھتی تھیں۔ دسویں کلاس تک وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ ہی رہیں اس کے بعد چھٹیوں میں انہیں اپنی سسرال جانا پڑا۔
روپا کہتی ہیں: 'میں چھٹیوں میں اپنے سسرال میں کھیتوں میں کام کرتی تھی اور کام کر کے بہت تھک جاتی تھی۔ جب چھٹیاں ختم ہوئیں اور میں نے بچوں کو سکول جاتے ہوئے دیکھا تو میں نے اپنی ساس سے کہا کہ مجھے بھی پڑھنا ہے تو میری ساس نے مجھے منع نہیں کیا اور سکول میں داخلہ کروا دیا۔'
روپا کو ان کے شوہر شنکر کے سکول میں ہی داخلہ ملا جہاں سے انھوں نے 12 ویں کلاس میں 84 فیصد نمبر حاصل کیے۔
ایک دن روپا نے بس یوں ہی چشمہ پہن لیا تو گھر کے لوگ انھیں ڈاکٹر کہہ کر پکارنے لگے۔ روپا نے اپنی ساس سے اس کا مطلب پوچھا اور ان کی ساس نے ڈاکٹر کا مطلب سمجھایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہSHANKAR YADAV
تو پھر روپا نے آخر ڈاکٹر بننے کے بارے میں ہی کیوں سوچا؟
روپا کہتی ہیں: 'میرے انکل کی دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی تھی اور تبھی میں نے سوچ لیا تھا کہ میں ڈاکٹر ہی بنوں گی۔'
سکول کے بعد انھوں نے بی ایس سی میں داخلہ لیا اور ساتھ ہی میڈیکل انٹرنس کے لیے فارم بھی پر کیا۔ پہلی بار بغیر کوچنگ کے ٹیسٹ میں ان کے 423 پوائنٹس آئے۔

،تصویر کا ذریعہSHANKAR YADAV
روپا کا کہنا ہے: 'سب بہت خوش تھے کہ بغیر کوچنگ کے میرے اتنے اچھے نمبر آئے۔ پھر ہمارے پڑوسی نے کہا کہ مجھے میڈیکل کے لیے کوچنگ کرنی چاہیے جس پر گھر کے لوگ راضی ہو گئے اور پھر میں کوٹہ جاکر کوچنگ کرنے لگی۔'
وہ کہتی ہیں: '2016 میں میرے 506 نمبر آئے اور مجھے مہاراشٹر کا ایک کالج مل رہا تھا تو میں وہاں نہیں جا پائی۔ گھر والوں کو بھی میرے نمبر دیکھ کر خوشی ہوئی اور انھوں نے پھر ٹھان لی کہ اب تو مجھے ڈاکٹر بناکر ہی دم لیں گے۔'
راجستھان کے بعض علاقوں میں بچپن میں شادی کی روایت عام ہے۔ اس بارے میں روپا کا کہنا ہے کہ اب یہ سب بند ہونا چاہیے اور ماں باپ کو بچوں کی تعلیم پر توجہ دینی چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہSHANKAR YADAV
اس سال روپا کے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ میں 720 میں سے 603 پوائنٹس آئے ہیں اور ان کا پورا خاندان اس سے بہت خوش ہے۔
روپا کے شوہر شنکر کہتے ہیں: 'میں نے جو خواب دیکھا تھا وہ سچ ہو گیا۔ ہم نے روپا کے لیے کافی محنت کی تھی اور اس نے ہمارا نام روشن کر دیا۔ اچھا رینک آنے کی وجہ سے ہمیں امید ہے کہ روپا کو جے پور میں ہی کسی میڈیکل کالج میں داخلہ مل جائے گا۔'
لیکن میڈیکل کالج کی فیس کا مسئلہ کیسے حل ہوگآ؟
شنکر کہتے ہیں کہ اس کے لیے وہ اور محنت کریں گے اور پیسے جمع کریں گے، لوگوں سے قرضہ بھی لے لیں گے لیکن روپا کو ڈاکٹر بنا کر رہیں گے۔








