متھن لام: خواتین کے حقوق اور خاص کر شعبہ وکالت میں سینکڑوں خواتین کے لیے راہ ہموار کرنے والی خاتون وکیل

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, پری ناز مدان، دینار پٹیل
- عہدہ, ممبئی
دنیا میں پھیلے وبائی مرض کے بیج یہ بھولنا آسان ہے کہ سال 2020 خواتین کے حقوق کے لیے جاری جدوجہد کی ایک اہم سالگرہ کا موقع بھی ہے۔
امریکہ میں خواتین کو پہلی بار اپنا حق رائے دہی استعمال کیے ہوئے 100 برس بیت چکے ہیں۔ ایک صدی پہلے ہی برطانیہ میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے والی پہلی طالبات کو اِنز آف کورٹ میں داخلہ ملا تھا۔
لندن میں لِنکنز اِن میں داخلہ لینے والی ان خواتین میں متھن لام بھی شامل تھیں جو انڈین شہری تھیں۔ سنہ 1924 میں انھیں بمبئی ہائی کورٹ میں وکالت کی اجازت ملی جس نے ملک میں پیشہ ور خواتین کے لیے راہیں کھولیں۔
لیکن لام کا اثرورسوخ صرف عدالت تک ہی محدود نہیں تھا، انھوں نے انڈیا میں خواتین کے حقوق اور صنفی برابری کی تحریکوں میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لام سنہ 1898 میں ایک دولت مند اور ترقی پسند پارسی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ سنہ 1911 میں اپنی والدہ ہیرا بائی ٹاٹا کے ساتھ کشمیر میں چھٹیاں مناتے ہوئے انھیں برطانیہ میں حقوق نسواں کی سرگرم کارکن صوفیا دلیپ سنگھ سے ملاقات کا موقع ملا۔
صوفیا دلیپ سنگھ نے ایک بیج پہن رکھا تھا جس پر ’خواتین کے لیے ووٹ‘ کا نعرہ درج تھا، اس رنگین بیج نے لام اور ہیرا بائی ٹاٹا کی توجہ جلد ہی انڈین خواتین کے حق رائے دہی کے معاملے کی جانب مبذول کرائی۔
نوآبادیاتی انڈیا میں قوم پرستوں کے مابین یہ ایک متنازعہ موضوع تھا: ’کیا خواتین کی آزادی کو انڈیا کی آزادی پر ترجیح دی جانی چاہیے؟‘
سنہ 1918 میں ہیرا بائی ٹاٹا نے ایک قوم پرست نعرہ لگایا جو بہت مشہور ہوا: ’آدمی کہتے ہیں کہ گھر کا راج ہمارا پیدائشی حق ہے۔ ہم کہتے ہیں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنا ہمارا پیدائشی حق ہے، اور ہم یہ چاہتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 1919 کے موسم خزاں میں جب برطانوی پارلیمنٹ انڈیا کے لیے سیاسی اصلاحات کے ایک پیکیج میں خواتین کے حق رائے دہی کے معاملے پر غور کر رہی تھی تو بمبئی میں خواتین کے گروپوں نے اپنے نمائندوں کو لندن بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔
21 برس کی لام اور ان کی والدہ کی سماجی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے انھیں اس کے لیے منتخب کیا گیا۔ چونکہ انھیں انگلینڈ جانے سے صرف چار دن پہلے اس کا نوٹس دیا گیا تھا لہذا انھوں نے دوران سفر بحری جہاز پر ہی پارلیمان میں پیش کرنے کے لیے دستاویزای شواہد مرتب کیے۔
لام اور ان کی والدہ کے شواہد نے اس بات کو اجاگر کیا کہ اگر نصف انڈیا کو صنفی بنیادوں پر نظر انداز کر دیا گیا تو بامقصد سیاسی اصلاحات ممکن نہیں ہوں گی۔
انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’خواتین کے تعاون کے بغیر اصلاحات کی کوشش دراصل ریت کی بنیادوں پر کاغذ کھڑا کرنے کے مترادف ہوگا‘۔
اگرچہ ان کا فوری مقصد ناکام رہا لیکن ان کے شواہد نے برطانوی پارلیمنٹ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ خواتین کے حق رائے دہی کے بارے میں فیصلہ ہندوستانی صوبوں کی صوابدید پر چھوڑ دیں۔ سنہ 1921 میں بمبئی اور مدراس کے صدور نے خواتین کے محدود حق رائے دہی کی منظوری دی۔
ماں اور بیٹی نے انڈین خواتین کے معاملات کی حمایت سے مستقبل کے برطانوی وزیراعظم رامسے میکڈونلڈ اور حقوق نسواں کی اہم شخصیت میلیسینٹ فاسیٹ سمیت لاکھوں برطانوی شہریوں کے دل جیت لیے۔

لام کی خواتین کے حقوق کے لیے سرگرمیاں انھیں قانون کی دنیا میں لے گئیں۔ انھوں نے لندن سکول آف اکنامکس سے قانون کی تعلیم اور اکنامکس میں ڈگری حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔
1923 میں وہ لنکنز اِن سے بیریسٹر بننے والی پہلی خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ برطانوی بار میں شامل ہونے والی پہلی ہندوستانی خاتون ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔
سنہ 1923 میں لام واپس انڈیا آ گئیں۔ یہ واپسی کے لیے بہت مناسب وقت تھا کیونکہ اسی سال انڈین حکومت نے خواتین کے وکالت کرنے پر پابندی کو ختم کیا تھا۔
مردانہ گڑھ سمجھی جانے والی بمبئی ہائی کورٹ میں واحد خاتون وکیل کی حیثیت سے لام نے خود کو ایک مشکل صورتحال میں پایا۔ وہ یاد کرتی ہیں ’مجھے اپنا آپ چڑیا گھر میں آنے والے اس نئے جانور کی طرح محسوس ہوا، وہاں دروازوں سے لوگ جھانک رہے ہوتے تھے۔
’جیسے ہی میرا سایہ لائبریری سے کامن روم کی جانب جاتا تو وہاں ایک بے چین کرنے والی خاموشی ہو جاتی، جس سے مجھے مزید فکر ہونے لگتی۔‘
ستم ظریفی یہ کہ معاشرے میں عورت سے نفرت نے شاید عدالت میں ان کی پہلی پیشی میں اہم کردار ادا کیا۔

،تصویر کا ذریعہKEYSTONE
سپریم کورٹ کے ایک سابق جج کے مطابق لام سے ایک وکیل نے رابطہ کیا، جس کے موکل کا کیس انتہائی مضبوط تھا۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ ’اس کا کیس اتنا مضبوط ہے کہ وہ ہار نہیں سکتا لیکن وہ مخالفین کی کسی عورت کے ہاتھوں شکست کھانے پر تذلیل کرنا چاہتا ہے۔‘
تاہم صرف چند برسوں میں ہی لام نے ایک مستحکم قانونی ساکھ قائم کی اور عدالت میں مختلف نوعیت کے مقدمے لڑے۔
کمرہ عدالت سے باہر انھوں نے شادی اور وراثت کے معاملات میں خواتین سے متعلق حساس قانون سازی میں مدد کی اور خواتین اور بچوں کے حقوق کی ایک زبردست وکیل بن گئیں۔
لیکن انھوں نے اپنی قانونی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سماجی کام بھی جاری رکھا۔ لام نے کچی آبادی کے رہائشیوں کے لیے بنیادی ڈھانچے اور صحت کی سہولیات میں بہتری لانے، پناہ گزینوں کو دوبارہ آباد کرنے میں مدد دی اور آل انڈیا ویمن کانفرنس کی سماجی بہبود کی متعدد سرگرمیوں کی قیادت بھی کی۔
1947 میں آزادی کے سال، لام نے اپنی ساکھ میں مزید اضافہ کیا اور انھیں بمبئی کی شیرف کے طور پر مقرر کیا گیا جس سے انھیں انڈیا کی پہلی خاتون شیرف کا اعزاز بھی حاصل ہو گیا۔
برسوں بعد جب انھوں نے انڈین خواتین کی نمائندے کی حیثیت سے دنیا کا سفر کیا تو اس سے کچھ پریشانی پیدا ہو گئی۔ سان فرانسکو کے شیرف انھیں شہر کی جیلوں کے دورے پر لے گئے اور انھیں پولیس کی لاٹھی دی، یہ نہ جانتے ہوئے کہ انڈیا میں شیرف بڑی حد تک رسمی عہدہ تھا۔
وہ یاد کرتی ہیں ’وہ یہ جان کر حیران ہوئے کہ ایک عورت بھی شیرف ہو سکتی ہے کیونکہ امریکہ میں شیرف اصلی پولیس افسر ہوتے ہیں جنھیں بندوق کے ساتھ پھرتی دکھانی ہوتی ہے۔‘
1981 میں جب ان کی موت ہوئی تب تک وہ اپنی کوششوں سے حقوق نسواں کی جدوجہد کے لیے کئی نسلوں کو راستہ دکھا چکی تھیں۔ انھیں امید تھی کہ وکالت کے شعبے میں خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد سے انڈیا میں سیاسی اور معاشرتی اصلاحات آئیں گی۔
لام کے ساتھ ساتھ سینکڑوں نامعلوم پیشہ ور خواتین کے کام نے آج قانون کے شعبے میں خواتین کے لیے راہیں ہموار کی ہیں اور یہ خواتین کے لیے بطور کیریئر ایک مقبول انتخاب بن گیا ہے۔
لیکن ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جہاں انڈیا کی بعض بڑی قانون ساز کمپنیوں میں صنفی مساوات نمایاں ہے، اس کے باوجود انڈیا میں اس پیشے سے بہت بڑی تعداد میں اب بھی مرد ہی وابستہ ہیں۔
ٹھیک ایک صدی قبل لام نے صنف کی بنیاد پر تفریق کے خلاف ایک ریلی میں ایک سوال اٹھایا تھا: ’کوئی بھی موقع دیے بغیر خواتین کو کیسے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے؟‘ جس کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔
پری ناز مدن شعبہ وکالت سے وابستہ ہیں جبکہ دیینار پٹیل مؤرخ ہیں۔











