پاکستان سے انڈیا لائی جانے والی گیتا کی اپنی والدین کو ڈھونڈنے کی جستجو آج بھی جاری

،تصویر کا ذریعہSAJJAD HUSSAIN/AFP VIA GETTY IMAGES
- مصنف, اننت پرکاش
- عہدہ, نمائندہ بی بی سی ہندی
ایک دریا، اس کے کنارے دیوی کا ایک بڑا سا مندر اور ریلنگ والا پل ۔۔۔ یہ گیتا کی بچپن کی یادوں کا حصہ ہیں۔ اب انھی کے سہارے وہ 20 سال قبل گم ہو جانے والے اپنے اہل خانہ کو تلاش کرنے کے لیے نکلی ہیں۔
بچپن سے ہی سماعت اور گویائی سے محروم گیتا سنہ 2000 کے قریب غلطی سے سمجھوتہ ایکسپریس میں بیٹھ کر پاکستان پہنچ گئیں۔
سنہ 2015 میں انڈیا کیا سابق وزیر خارجہ سشما سوراج انھیں واپس انڈیا لائیں۔ تب سے گیتا اپنے والدین کی تلاش میں ہیں۔
لیکن گذشتہ پانچ برسوں میں اب تک وہ یہ بھی نہیں جان سکیں کہ وہ کس گاؤں، کون سے ضلع یا انڈیا کی کس ریاست کی رہائشی ہیں۔
آج کل گیتا کیا کر رہی ہیں؟
پچھلے پانچ سالوں تک گیتا انتظار کر رہی تھیں کہ جلد ہی کوئی ان کے اہل خانہ کی خبر لائے گا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابق وزیر خارجہ سشما سوراج سمیت عظیم شخصیات نے ان کے گھر کے افراد کو تلاش کرنے کی پوری کوشش کی۔
سشما سوراج وزیر خارجہ کی حیثیت سے اور ذاتی سطح پر بھی ٹوئٹر پر ان کے کنبے کے افراد کو تلاش کرنے کے لیے تاحیات کوششیں کرتی رہیں۔

،تصویر کا ذریعہGYANENDRA PUROHIT
لیکن اس کے بعد بھی گیتا کے خاندان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ ادھر سشما سوراج کی موت نے گیتا کو بہت صدمہ پہنچایا۔
کووڈ 19 کی وبا کی وجہ سے الگ تھلگ پڑ جانے کی وجہ سے گیتا کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور پچھلے کچھ مہینوں سے گیتا نے اپنی جغرافیائی یادداشت کی بنیاد پر اپنے گھر کی تلاش شروع کردی ہے۔
ان کی اس تلاش میں اندور کے رہائشی گیانیندر اور مونیکا پروہت گیتا کی مدد کررہے ہیں۔
گیانیندر اور ان کی ٹیم گیتا کے بچپن کی یادوں کی بنیاد پر مہاراشٹرا سے چھتیس گڑھ اور تیلنگانہ کے ان علاقوں کے سفر پر ہیں جہاں گیتا کے گاؤں کی توقع کی جا سکتی ہے۔
وہ سڑک کے راستے ان کے گاؤں کو تلاش کر رہے ہیں۔
گیانیندر نے بی بی سی کو بتایا کہ جب گیتا دریا کے کنارے پہنچ جاتی ہیں تو کیا ہوتا ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’جب گیتا کسی بھی دریا کے کنارے پہنچتی ہیں تو وہ بہت خوش ہو جاتی ہیں۔ ان کی آنکھوں میں چمک آ جاتی ہے اور دل میں ایک امید پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ اسے لگتا ہے کہ اس کا گھر کہیں دریا کے کنارے پر ہی ہو گا۔‘
گیتا کا کہنا ہے کہ اس کی والدہ انھیں بھاپ کے انجن کے بارے میں بتاتی تھیں۔ ایسی حالت میں جب ہم اورنگ آباد کے قریب لاتور ریلوے سٹیشن پہنچے تو گیتا بہت خوش ہو گئی۔ یہاں بجلی کے بجائے ٹرین ڈیزل انجن سے چلتی ہے۔
یہاں آنے کے بعد گیتا کے ذہن میں امید اس لیے بیدار ہوئی کیونکہ گیتا کے بچپن کی یادوں میں بجلی کا انجن نہیں تھا۔ گیتا کا کہنا ہے کہ اس کی والدہ اسے بھاپ انجن کے بارے میں بتاتی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGYANENDRA PUROHIT
دھندلی یادیں اور بدلتا ہوا انڈیا
گیانیندر کی تنظیم آدرش سیوا سوسائٹی نے ایک لمبے وقت تک گیتا کی حرکات و سکنات، کھانے پینے کے انداز اور اس کے بچپن کی یادوں کا مطالعہ کیا ہے۔
گیتا نے جو کچھ بتایا اس کی بنیاد پر گیانیندر اور ان کی ٹیم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ گیتا کا تعلق مہاراشٹرا سے ملحقہ علاقوں سے ہو گا۔
لیکن اس طویل سفر کے بعد گیتا کی یادیں دھندلی ہوتی جا رہی ہیں۔ کبھی ان کے ذہن میں گاؤں کی جو واضح تصویر تھی اب اس یاد کے کچھ ٹکڑے ہی رہ گئے ہیں۔
اشارے کی زبان کو سمجھنے والے گیانیندر کا کہنا ہے کہ دریا کو دیکھ کر اس کے منہ سے یہ بات نکلتی ہے کہ جیسے یہ ’ندی میرے گاؤں میں ہے۔‘ اور دریا کے قریب ایک ریلوے سٹیشن ہے۔ ایک پل ہے جس پر ریلنگ لگی ہوئی ہے۔ قریب ہی ایک دو منزلہ ڈسپنسری ہے۔ زچگی گھر ہے جہاں بہت بھیڑ ہوتی ہے۔‘
گیانیندر کا کہنا ہے کہ ’گیتا کہتی ہیں کہ ان کے کھیتوں میں گنے، چاول، اور مونگ پھلی تینوں ہوتے ہیں۔۔۔ اگر چلتے پھرتے کہیں ایسے کھیت نظر آ جائيں تو فوراً گاڑی رکوا کر اس امید کے ساتھ کھیت میں اتر جاتی کہ کاش کھیت میں کام کرتے ہوئے ان کی ماں مل جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتے ہیں: ’گیتا کو بہت کچھ یاد ہے۔ اسے ریلوے اسٹیشن، اپنا گاؤں، ایک ندی جیسی جغرافیائی چیزیں یاد ہیں۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ پچھلے 20 سالوں میں انڈیا کتنا تبدیل ہوا ہے۔ آج اگر آپ کسی ایسی جگہ پر جاتے ہیں جہاں آپ بچپن میں گئے تھے تو شاید آپ اس جگہ کو نہیں پہچان سکتے ہیں۔
’ایسی صورتحال میں یہ ممکن ہے کہ گیتا جس مندر کی تلاش کر رہی ہے اس مندر کے علاوہ دیگر عمارتیں بھی از سر نو تعمیر ہوئی ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ ان کا کنبہ اس جگہ سے کہیں اور چلا گیا ہو وغیرہ۔‘
مونیکا کا خیال ہے کہ گھر سے علیحدہ ہونے کے المیے اور وہاں دوبارہ پہنچنے کی نہ ختم ہونے والی جستجو نے گیتا کو ذہنی طور پر صدمہ پہنچایا ہے۔
وہ کہتی ہیں: ’جب ہم کہتے ہیں کہ گیتا اپنی زندگی میں آگے بڑھے، شادی کرے تو وہ فوراً منع کر دیتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’وہ ابھی بہت چھوٹی ہے، اسے اپنی ماں کو ڈھونڈنا ہو گا۔ اگر اس کی شادی ہو جاتی ہے تو اس کا کنبہ بہت ناراض ہو گا۔ 'کیوںکہ گیتا کو لگتا ہے کہ وہ محض 16 سے 17 سال کی لڑکی ہے۔ جبکہ اس کی عمر کم از کم 25 سے 28 سال ہو گی۔ گیتا ایک بہت ہی پیاری بچی ہے لیکن کبھی کبھی اس کی دیکھ بھال کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ بات بات پر رونے لگتی ہے۔‘
جب یہ خبر لکھی گئی اس وقت گیتا گیانیندر اور اس کی ٹیم کے ساتھ کار کی بائیں جانب والی سیٹ پر بیٹھی تھیں اور کھڑکی سے کھیتوں کو دیکھ رہی تھیں۔
تاکہ کہیں کھیت سے نکلتی ہوئی ان کی والدہ نظر آجائیں، یا اپنے گاؤں کا دریا، مندر یا پل کی ریلنگ نظر آجائے جو انھوں نے اپنے بچپن میں آخری بار دیکھا تھا۔
’ہندوستان کی بیٹی‘
گیتا دس گیارہ سال کی تھیں جب وہ غلطی سے سمجھوتہ ایکسپریس میں بیٹھ کر پاکستان پہنچ گئی تھیں جہاں انھوں نے دس سال سے زیادہ پاکستان میں گزارے۔
کراچی میں ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ایدھی فاؤنڈیشن نے سنبھال رکھی تھی۔
سنہ 2015 میں گیتا کی انڈیا واپسی کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سشما سوارج نے انھیں 'ہندوستان کی بیٹی' کہا تھا اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا تھا کہ ان کے والدین کو ڈھونڈنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جائے گی۔
اس کے بعد انھیں تعلیم و تربیت کے لیے مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں گونگے بہرے بچوں کے ایک ادارے کے سپرد کر دیا گیا تھا۔









