’پتہ نہیں چلتا شادی بڑی بہن سے ہو رہی ہے یا چھوٹی سے‘

شادی کارڈ
    • مصنف, اظہار اللہ
    • عہدہ, بی بی سی پشتو، پشاور

خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کے رہائشی رؤف خان پشاور میں ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں، ان کی شادی کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔

انھوں نے شادی کی دعوت کے لیے پانچ سو کارڈز چھپوائے تھے تاکہ اپنے دوست احباب کو بلا سکیں، لیکن شادی کے کارڈ میں صرف دلہے کا نام لکھا گیا تھا جبکہ دلہن کا نام غائب تھا۔

ان کے کارڈ پر لکھا گیا تھا کہ ’شادی کی تقریب میں ہم آپ کو تہہ دل سے مدعو کرتے ہیں۔ مسرت و شادمانی کے ان لمحات میں آپ کی شرکت ہمارے لیے باعث عزت ہوگی۔‘

کارڈ کے ابتدا میں لڑکے کا نام لکھا گیا تھا اور اس کے ساتھ دختر اور ساتھ میں ان کے والد کا نام لکھا گیا تھا جبکہ کارڈ میں دلہن اور دلہن کی والدہ کا کوئی ذکر موجود نہیں تھا۔

رؤف خان کی بیوی کی ایک بہن اور بھی ہے لیکن اس دعوت نامے میں یہ ذکر کہیں پر بھی موجود نہیں تھا جس سے کسی کو پتہ چلے کہ شادی چھوٹی یا بڑی بہن سے ہو رہی ہے۔

اسی سوال پر کہ لوگوں کو کس طرح پتہ چلے گا کہ شادی کونسی بہن سے ہو رہی ہے وہ مسکرا کر بولے: ’ہمارے معاشرے میں یہ ضروری ہی نہیں سمجھا جاتا کہ دوست یا کوئی اجنبی اس حوالے سے سوچے کہ لڑکی کیسی ہے، کیا کرتی ہے، چھوٹی بہن ہے یا بڑی اور یہی وجہ ہے کارڈ پر لڑکی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں لکھی جاتی۔‘

رؤف خان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کارڈ پر ان کی بیوی کا نام کیوں درج نہیں تھا تو پہلے تو وہ ایک دو منٹ کے لیے سوچ میں پڑ گئے اور پھر بتایا کہ ہمارے کلچر میں ایسا ہی ہے۔

شادی کارڈ

’کوئی اس معاشرے میں نہیں چاہتا کہ ان کی بیوی کا نام کسی کو پتہ چلے اور نہ اس کی کوئی ضرورت ہے کہ کسی کی بیوی کا نام کارڈ پر چھاپا جائے۔‘

رؤف خان کی بیوی دوہری شہریت رکھتی ہیں اور آج کل وہ ملک سے باہر رہ رہی ہیں لیکن رؤف خان پاکستان میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ بھی ملک سے باہر چلے جائیں۔

اس حوالے سے انھوں نے بتایا کہ ’مجھے تو پہلے کوئی اندازہ نہیں تھا لیکن اب اندازہ ہو گیا ہے کہ مجھے بیوی کا نام کارڈ پر لکھنا چاہیے تھا کیونکہ نکاح نامہ کے ساتھ کارڈ کو بطور ثبوت جمع کر کے ویزہ جلد پراسس ہو سکتا تھا۔‘

رؤف خان اکیلے نہیں جنھوں نے شادی کے دعوت نامے پر بیوی کا نام نہیں لکھا تھا۔ پشاور کے جنگی محلہ میں کام کرنے والے ایک پرنٹنگ پریس کے مالک جاوید خان کہتے ہیں کہ ان کو 80 فیصد کارڈ چھپائی کے لیے ایسے موصول ہوتے ہیں جس پر دلہن کا نام درج نہیں ہوتا۔

شادی کارڈ

جاوید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ باقی 20 فیصد کارڈ زیادہ تر انگریزی میں ہوتے ہیں جس پر دلہن کا نام بھی درج ہوتا ہے۔

ان کے مطابق زیادہ تر لوگ جو دلہن کا نام لکھتے ہیں وہ بظاہر ’ماڈرن‘ گھرانوں کے لگتے ہیں اور ساتھ میں تعلیم یافتہ بھی ہوتے ہیں۔

لیکن رؤف خان کے مطابق ان کا تعلیم کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں کیونکہ ان کے پاس خود ماسٹرز کی ڈگری ہے لیکن انھوں نے دعوت نامے پر بیوی کا نام نہیں لکھا تھا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ معاشرے میں لوگ ان پر تنقید کریں گے۔

اسی طرح پشاور کی رہائشی زینت بی بی جو ایک ٹی وی چینل میں کام کرتی ہے نے بتایا کہ ان کی شادی کو دو سال ہوگئے ہیں اور انھوں نے دعوت نامے پر اپنا اور شوہر دونوں کا نام لکھا تھا۔

لیکن وہ اس سارے مسئلے کو ایک اور نظر سے دیکھتی ہیں۔ زینت کے مطابق چونکہ پاکستان میں عورت کو والد یا شوہر کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے جیسا کہ قومی شناختی کارڈ کو لے لیں۔

’شناختی کارڈ میں عورت ہو یا مرد، ان کے نام کے ساتھ والد یا شوہر کا نام لکھا جاتا ہے جبکہ بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں شناختی کارڈ میں والدہ کا نام لکھا جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ چونکہ ہمارا معاشرہ پدرانہ ہے اور یہاں پر اختیارات کا سارا نظام مردوں کے ہاتھوں میں ہے اور یہی وجہ ہے کہ عورت کی بھی مرد ہی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

پشاور میں عورتوں کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیم ’خویندو کور‘ (بہنوں کا گھر) کی ایک کارکن لیلیٰ شاہ نواز کہتی ہیں کہ ’ہمارے معاشرے میں چونکہ عورت کو 'گھر کی عزت اور غیرت' سے پہچانا جاتا ہے تو اسی سوچ کی وجہ سے لوگ نہیں چاہتے کہ دوسروں کو ان کی عورتوں کا نام پتہ چلے، کیونکہ ان کے مطابق ان کی عزت میں کمی آجائی گی۔‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ اس سوچ کو بدلنے میں کیا کیا جائے، تو انھوں نے بتایا کہ عام لوگوں میں آگاہی اور شعور کی ضرورت ہے کہ جتنا مرد اس معاشرے کا حصہ ہیں اتنی ہی عورتیں بھی ہیں۔