لوّ جہاد کے قانون کے تحت شوہر سے علیحدہ کی جانے والی پہلی خاتون کا الزام: ’خواتین سنٹر میں مجھ پر تشدد کیا گیا، حمل بھی ضائع ہو گیا‘

،تصویر کا ذریعہGAJANFAR ALI
- مصنف, دل نواز پاشا
- عہدہ, بی بی سی ہندی
انڈین ریاست اتر پردیش میں شادی کے لیے مذہب کی تبدیلی کو جرم قرار دینے والے قانون کے تحت مراد آباد میں ہونے والی ایک کارروائی زیر بحث ہے اور اسے اس قانون کے غلط استعمال کی ایک مثال کے طور پر بھی پیش کیا جا رہا ہے۔
پنکی نام کی ایک نوجوان خاتون کو اتر پردیش کی پولیس نے ان کے شوہر سے علیحدہ کر کے خواتین کے لیے ایک سینٹر میں بھیج دیا تھا۔
پنکی پہلی خاتون ہیں جنھیں اتر پردیش میں بین المذہب شادی کو روکنے کے لیے متعارف کرائے گئے قانون کے تحت اپنے شوہر سے الگ کیا گیا ہے۔
پنکی کا الزام ہے کہ خواتین کے مرکز میں انھیں اذیتیں دی گئیں اور ایک انجیکشن دیا گیا جس کی وجہ سے ان کا حمل ضائع ہو گیا تاہم مراد آباد پولیس نے اب تک حمل ضائع ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔
مراد آباد کے ایس ایس پی پربھاکر چودھری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ خاتون نے عدالت میں دیے گئے اپنے بیان میں اپنی مرضی سے شادی کرنے اور سسرال جانے کی بات کہی ہے۔ جس کے بعد انھیں سسرال والوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پربھاکر چودھری کے مطابق ’خاتون نے خواتین کے مرکز میں پیٹ درد کی شکایت کی تھی جس کے بعد ان کا علاج کرایا گیا تھا۔‘
حمل ضائع ہونے کے سوال پر مراد آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کل ہسپتال میں ڈاکٹروں نے پولیس کو بتایا تھا کہ حمل محفوظ ہے اور اس بارے میں ابھی کوئی نئی معلومات پولیس کو نہیں ملی ہیں۔
پنکی کے شوہر کو نئے قانون کے تحت جیل بھیج دیا گیا ہے اور ان کی رہائی اب عدالت کے حکم پر ہی ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہGAJANFAR ALI
22 برس کی پنکی کا کہنا ہے کہ ان کا حمل سات ہفتے کا تھا۔ پنکی کے مطابق پانچ دسمبر کو رات ڈھائی بجے انھیں خواتین کے سینٹر بھیجا گیا اور وہاں پر انھیں ٹارچر کیا گیا۔
پنکی کہتی ہیں ’تین دن پہلے خواتین کے مرکز میں اچانک میرے پیٹ میں درد ہوا۔ طبیعت زیادہ خراب ہونے پر مجھے ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے مجھے انجیکشن لگائے۔ میرا بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا۔ اگلے روز مجھے عدالت میں بیان دینا تھا۔ میری طبیعت پھر خراب ہوئی تو ہسپتال میں مجھے پھر انجیکشن لگائے گئے۔ میرا حمل بھی ضائع ہو چکا ہے۔‘
اس بات کی تصدیق نہیں ہو پائی ہے کہ پنکی کو آخر کون سے انجیکشن دیے گئے تھے اور وہ انجیکشن حمل ضائع ہونے کا سبب ہو سکتے ہیں یا نہیں۔
لیکن پنکی کہتی ہیں کہ ’پہلے الٹرا ساونڈ میں میرا حمل صحیح تھا لیکن انجیکشن لگانے کے بعد میرا حمل ضائع ہو گیا۔‘
مقامی عدالت کے حکم کے بعد اتر پردیش پولیس نے پنکی کو ان کے سسرال واپس بھیجا ہے۔
مرادآباد کے ایس پی پربھاکر چودھری کے مطابق ’بجنور کی بالا دیوی نے پانچ دسمبر کو کانٹھ تھانہ علاقے میں نئے قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ انھوں نے دو لوگوں پر اپنی بیٹی کا شادی کے لیے مذہب تبدیل کرانے کا الزام لگایا تھا۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد دونوں کو عدالتی حراست میں لیا گیا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہGAJANFAR ALI
پربھاکر چودھری کے مطابق ’خاتون کی حفاظت کو مد نظر رکھتے ہوئے انھیں خواتین کے مرکز بھیجا گیا تھا۔ خاتون نے عدالت کے سامنے بیان میں بتایا کہ انھوں نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا اور شادی کی اور اپنے سسرال جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ عدالت کے حکم کے بعد انھیں سسرال بھیج دیا گیا ہے۔‘
پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ خاتون کی عمر بائیس سال ہے اور وہ بالغ ہیں۔ خاتون نے پولیس کے سامنے بھی اپنے سسرال جانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
پولیس کے مطابق سی آر پی سی 164 کے تحت خاتون کے بیانات کی تفتیش کی جائے گی، جس کے بعد ثبوتوں کی بنا پر فیصلہ کیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق پنکی نے جولائی میں راشد نام کے نوجوان سے شادی کی تھی۔ نئے قانون کے تحت دونوں کو الگ کرنے کے بارے میں پولیس پر تنقید بھی ہوئی ہے۔
کچھ دن پہلے خاتون کی ساس نسیم جہاں نے بھی ان کا حمل ضائع ہونے کی بات کی تھی۔ تب حکام نے ان کے الزامات کو خارج کر دیا تھا۔ حکام نے کہا تھا کہ خاتون کو دو بار ہسپتال لے جایا گیا لیکن ان کا حمل محفوظ ہے۔
پیر کو مراد آباد کے ضلع ہسپتال کی ڈاکٹر وملا پاٹھک نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ صبح جب پہلی بار پنکی کو لایا گیا تھا تب وہ بالکل ٹھیک تھیں تو انھیں واپس بھیج دیا گیا تھا۔ دوسری بار جب انھیں لایا گیا تو خون کے دھبے ملے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGAJANFAR AL
جب ان سے حمل کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: ’بچہ کس حال میں ہے ابھی ہم نہیں کہہ سکتے ہیں، ہسپتال میں ان کا خون نہیں بہا لیکن انھوں نے بتایا تھا کہ خواتین کے مرکز میں ان کا خون بہا ہے۔ ہم معائنہ کریں گے لیکن ابھی ہمارے پاس پوری رپورٹ نہیں ہے۔‘
انہوں نے کہا: ’الٹرا ساونڈ میں حمل نظر آرہا تھا لیکن وہ اب بھی محفوظ ہے یا نہیں، ابھی نہیں کہا جا سکتا۔‘
شادی کب ہوئی اور تھانے میں کیا ہوا؟
پنکی کے مطابق انھوں نے 24 جولائی کو دہرادون میں راشد سے شادی کی تھی۔ وہ پانچ دسمبر کو مراد آباد میں اپنی شادی کا اندراج کرانے کے لیے آئے تھے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں سخت گیر ہندو گروہ کے ارکان پنکی پر حملہ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہندو گروہ کے ارکان عدالت پہنچے تھے اور اس جوڑے کو پکڑ کر تھانے لے گئے تھے۔
بعد میں پولیس نے پنکی کی ماں کی شکایت پر راشد اور ان کے گھر والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
واضح رہے کہ اترپردیش حکومت نے 29 نومبر کو مذہب کی غیر قانونی تبدیلی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ایک قانون پاس کیا تھا، جس کے تحت بین المذہب شادی کرنے والے جوڑوں کے لیے شادی سے دو ماہ پہلے ضلعی حکام سے اجازت لینا لازمی کر دیا گیا ہے۔
اس قانون کے تحت غیر قانونی تبدیلی مذہب پر دس سال تک کی سزا ہو سکتی ہے اور اسے ایک غیر ضمانتی جرم بنا دیا گیا ہے۔











