مہاتما گاندھی کی جیب میں رکھنے والی گھڑی 12 ہزار پاؤنڈ میں نیلام

،تصویر کا ذریعہEast Bristol Auctions
برطانیہ کے شہر برسٹل کی ایک نیلامی ایجنسی نے انڈیا کے بانی موہن داس کرم چند گاندھی کی ’استعمال شدہ اور ٹوی ہوئی‘ پاکٹ واچ یعنی جیب میں رکھنے والی گھڑی کو 12 ہزار پاؤنڈ یعنی تقریبا 16 ہزار امریکی ڈالر میں نیلام کردیا ہے۔
چاندی کے پالش والی یہ سویز گھڑی 1944 میں گاندھی نے اس شخص کے دادا کو تحفے میں دی تھی جس نے یہ گھڑی نیلام کی ہے۔ مہاتما گاندھی نے یہ گھڑی ’ان کی وفاداری کے عوض‘ دی تھی۔
نیلامی ایجنسی برسٹل آکشن کو یہ توقع تھی کہ یہ گھڑی 10 ہزار پاؤنڈ تک نیلام ہوجائے گی لیکن جمعے کو ہونے والی نیلامی میں اس گھڑی کی قیمت توقع سے زیادہ ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیے
گھڑی کی نیلامی کرنے والے ایسٹ برسٹل آکشن کے اینڈریو سٹو نے کہا کہ امریکہ میں رہنے والے ایک کلکٹر یعنی نوادرات جمع کرنے کے شوقین شخص نے یہ گھڑی خریدی ہے۔
اس سے قبل اگست کے مہینے میں اسی نیلام گھر نے مہاتما گاندھی کی عینک کو دو لاکھ 60 ہزار پاؤنڈ یعنی ڈھائی کروڑ انڈین روپے سے زیادہ میں نیلام کیا تھا۔
اس عینک کو امریکہ کے ایک کلکٹر یعنی نوادرات جمع کرنے کے شوقین نے نیلامی شروع ہونے کے چھ منٹ کے اندر ہی خرید لیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کہا جاتا ہے کہ گاندھی کو یہ عینک ان کے چچا نے اس وقت دی تھی جب وہ جنوبی افریقہ میں کام کر رہے تھے۔ یہ دور سنہ 1910 اور 1920 کے درمیان کا ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEast Bristol Auctions
مسٹر سٹو کا کہنا ’گذشتہ چند ماہ بہت ہی مصروف ترین تھے‘ اور گھڑی کی نیلامی ایک اور ’خوش آئند بات ثابت ہوئی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگست میں گاندھی کے عینک کی شاندار نیلامی کے بعد ہمارے پاس ان کی استعمال شدہ یا ان سے متعلق سازو سامان کو نیلام کرنے کی زبردست ڈیمانڈ آئی ہے۔‘
’ان میں بیشتر سکے، فوٹوگراف اور تصاویر تھی لیکن پھر ہمارے پاس یہ گھڑی آئی اور ہم نے سوچا ارے واہ بہت خوب۔‘
تاریخ کا ایک شاہکار
یہ گھڑی کبھی پیشے سے ایک بڑھئی اور گاندھی کے پیروکار موہن لال شرما کی ملکیت تھی۔
موہن لال شرما 1936 میں گاندھی سے ملنے گئے تھے اور ان کی سماجی تحریک میں شامل ہوگئے۔
موہن لال شرما کی وفاداری کے شکریہ کے طور پر گاندھی نے 1944 میں انہیں اپنی یہ گھڑی دی تھی۔ اس کے بعد 1975 میں موہن لال کے پوتے کو یہ گھڑی وراثت میں ملی تھی۔
مسٹر سٹو کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک ناقابل یقین تاریخی شاہکار ہے۔ یہ گھڑی اتنی زیادہ استعمال ہوئی ہے اور ٹوٹی ہوئی ہے جس سے اس کی کشش اور اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ‘
’یہ حیران کن بات ہے کہ یہ گھڑی اتنے برسوں تک گاندھی نے استعمال کی اور اس کے بعد اپنے ایک وفادار دوست کو دی جس نے اس کو بے حد سنبھال کررکھا۔‘










