برطانیہ کی نیلامی ایجنسی کو ڈاک میں ملنے والی گاندھی کی عینک دو لاکھ 60 ہزار پاؤنڈ میں نیلام

عینک

برطانیہ کے شہر برسٹل کی ایک نیلامی ایجنسی نے انڈیا کے بانی موہنداس کرم چند گاندھی کی عینک کو دو لاکھ 60 ہزار پاؤنڈ یعنی ڈھائی کروڑ انڈین روپے سے زیادہ میں نیلام کیا ہے۔

اس عینک کو امریکہ کے ایک کلکٹر یعنی نوادرات جمع کرنے کے شوقین نے نیلامی شروع ہونے کے چھ منٹ کے اندر ہی خرید لیا۔

نیلامی ایجنسی ایسٹ برسٹل کا کہنا ہے کہ انھیں تین اگست کو یہ عینک ایک سادہ لفافے میں ان کے لیٹر باکس میں ملی تھی جہاں کسی شخص نے اسے چھوڑ دیا تھا۔

اس وقت ایجنسی کی جانب سے اشیا نیلام کرنے والے اینڈریو سٹو نے یہ توقع ظاہر کی تھی کہ اس عینک کی قیمت تقریباً 15 لاکھ روپے ہو گی اور یہ کمپنی کی تاریخ کی سب سے اہم نیلامی ہو گی۔

اس عینک کے مالک ایک معمر شخص ہیں اور مینگاٹس فیلڈ کے رہائشی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم اپنی بیٹی کے ساتھ شیئر کریں گے۔

کہا جاتا ہے کہ گاندھی کو یہ عینک ان کے چچا نے اس وقت دی تھی جب وہ جنوبی افریقہ میں کام کر رہے تھے۔ یہ دور سنہ 1910 اور 1920 کے درمیان کا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بی بی سی کے نامہ نگار گگن سبھروال کے مطابق عینک کی نیلامی کرنے والے ایسٹ برسٹل آکشن کے اینڈریو سٹو نے کہا: ’تقریباً 50 سالوں سے یہ عینک کسی الماری میں بند پڑی رہی ہے۔ نیلام کرنے والے شخص نے ایک بار مجھے بتایا تھا کہ وہ اسے پھینک دینا چاہتے ہیں کیونکہ انھیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا۔ اب انھیں اس کے لیے اتنی بڑی رقم مل گئی ہے جس سے ان کی زندگی بدل جائے گی۔‘

’یہ نیلامی عینک کے معمر مالک کے لیے اچھی چیز ہے۔ شاید اس لیے کہ وہ مشکل وقت سے گزر رہے ہیں اور اس رقم سے ان کی بہت مدد ہو گی۔‘

مسٹر سٹو نے مزید کہا: ’ہمیں خوشی ہے کہ گاندھی کی عینک کو ایک نئی جگہ ملی ہے اور ہم اس کام میں مددگار ثابت ہوئے۔ یہ نیلامی نہ صرف ہمارے لیے ایک نیا ریکارڈ ہے بلکہ تاریخی اعتبار سے بھی اہم ہے۔‘

گاندھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننیلام گھر کا کہنا ہے کہ گاندھی اپنی چیزیں عطیہ کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں

لیٹر باکس میں کیسے پہنچی عینک؟

نیلامی کمپنی کے سٹو کا کہنا تھا کہ ’کسی نے جمعہ کی رات اسے ہمارے لیٹر باکس میں رکھ دیا تھا اور وہ پیر تک یہ عینک وہیں پڑی رہی۔‘

لفافے میں عینک ملنے کے بعد انھوں نے اس کے مالک سے رابطہ کیا اور اس کی اہمیت بیان کی۔ ان کا کہنا ہے کہ عینک کے مالک کو ’تقریباً دل کا دورہ پڑنے والا‘ تھا۔

سٹو نے کہا: ’ہمارے ایک اہلکار نے یہ ہمیں دی اور کہا کہ اس میں ایک خط بھی موجود ہے جس میں کہا گیا تھا کہ یہ گاندھی کی عینک ہے۔‘

عینک کے مالک کا کہنا ہے کہ سنہ 1920 کی دہائی میں ان کے خاندان کے کسی فرد نے جنوبی افریقہ کے دورے کے دوران گاندھی سے ملاقات کی تھی۔ ان سے یہ عینک نئی نسل کو وراثت میں ملی اور اس طرح وہ ان کے پاس پہنچی۔

اینڈریو سٹو نے وضاحت کی ہے کہ انھوں نے عینک کی تاریخ جاننے کے لیے تحقیق کی تو پتا چلا کہ ’سب ہی تاریخیں، یہاں تک کہ گاندھی کے عینک پہننے کا وقت بھی مل رہا تھا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ یہ وہ پہلی عینک ہو جو گاندھی کے استعمال میں آئی ہو۔