انڈیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کو زندہ رکھنے کی جدوجہد

انڈیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکورونا وائرس متاثرین کے حوالے سے انڈیا دنیا کا تیسرہ متاثرہ ترین ملک ہے
    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

اپریل میں مغربی انڈیا کے ایک گاؤں میں ایک وسیع و عریض ہسپتال کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ فوری طور پر کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے 200 بستروں کا ایک اضافی وارڈ قائم کرے۔

ریاست مہاراشٹرا میں انفیکشن بڑھ رہے تھے، اس ریاست میں ناگپور شہر سے تقریباً 50 میل جنوب میں سیوگرام گاؤں میں 934 بستروں والا کستوربا ہسپتال واقع ہے۔ منافع کے لیے نہ کام کرنے والا یہ ہسپتال پہلے ہی ہر سال دس لاکھ مریضوں سے نمٹ رہا تھا۔

کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے ان میں بیشتر بستروں پر (بشمول انتہائی نگہداشت والے 30 بستروں کے) پائپ کے ذریعے آکسیجن کی فراہمی کی ضرورت تھی۔ اگلے چند ہفتوں میں ہسپتال میں سلینڈر بینک کے ایک ذخیرے کو تانبے کے پائپوں کا استعمال کرتے ہوئے نئے بستروں سے جوڑنے کے لیے 40 ہزار ڈالر خرچ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ایس پی کلانتری بتاتے ہیں ’یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ پائپ کے ذریعے آکسیجن کی فراہمی والے اضافی بستروں کے لیے آپ کو بہترین منصوبہ بندی اور عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ کورونا وائرس کے مریضوں کی بقا کا انحصار آکسیجن پر ہے۔‘

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کووڈ 19 کے مریضوں میں 15 فیصد کے پھیپھڑے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور انھیں سانس لینے میں مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ مریضوں میں سانس کی تکلیف واضح طور پر ظاہر نہیں ہوتی لیکن ان میں آکسیجن کی سطح خطرناک طور پر کم پائی جاتی ہے۔ یہ حالت خاموش ہائپوکسیا کہلاتی ہے۔ اس بیماری سے شدید بیمار مریضوں کے لیے وینٹیلیٹر کی ضرورت پڑتی ہے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہReuters

ممبئی میں واقع راک کنسرٹ پنڈال سے 600 بستروں پر مشتمل کووڈ سہولت چلانے والے ڈاکٹر موزفل لکڑا والا بتاتے ہیں ’وبائی بیماری کے بعد سے آکسیجن کی طلب میں شدید اضافہ ہوا ہے۔‘

عالمی ادارہ صحت کے اندازوں کے مطابق، ایک ہفتے میں دس لاکھ نئے کورونا مریضوں کے ساتھ، دنیا کو ایک دن میں چھ لاکھ 20 ہزار مکعب میٹر آکسیجن یا 88 ہزار بڑے سلینڈروں کی ضرورت ہوگی۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ تقریباً 80 فیصد مارکیٹ مٹھی بھر کمپنیوں کی ملکیت ہے اور بہت سے ممالک میں طلب، سپلائی سے کہیں زیادہ ہے۔

انڈیا میں آٹھ لاکھ سے زیادہ متاثرین اور ان کی تعداد میں دن بدن اضافے سے، آکسیجن کی طلب میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہسپتال اور نگہداشت کے مراکز وبائی مرض سے پہلے یومیہ 900 ٹن کے مقابلے میں اب 1300 ٹن آکسیجن استعمال کر رہے ہیں۔

گیس کمپنیوں کا ایک گروپ ہے جو ملک بھر میں پھیلی ہوئی 500 فیکٹریوں میں ہوا سے آکسیجن نکال کر اسے صاف کرنے کا کام کرتا ہے۔ عام طور پر مجموعی مقدار کا15 فیصد طبی استعمال کے لیے سپلائی کیا جاتا ہے۔ باقی صنعتی آکسیجن - بنیادی طور پر سٹیل اور آٹوموبائل صنعتوں کو بلاسٹ فرنس اور ویلڈنگ جیسے کاموں کے لیے فراہم کی جاتی ہے۔

یہ کمپنیاں مائع کی شکل میں آکسیجن ٹینکر ہسپتالوں میں بھیجتی ہیں جس کے بعد اسے براہ راست پائپ کے ذریعے بستر سے لگا دیا جاتا ہے۔ آکسیجن، سٹیل اور ایلومینیم سلینڈروں کے ذریعے بھی فراہم کی جاتی ہے۔ پورٹ ایبل مشینیں جنھیں کونسینٹریٹر کہتے ہیں وہ بھی ہوا سے آکسیجن فلٹر کرسکتی ہیں۔ یہ سب کووڈ 19 کے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال ہورہے ہیں۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہReuters

جب انڈیا میں وبائی مرض پھیلنا شروع ہوا۔ پہلا مریض جنوری میں سامنے آیا تھا اور اپریل میں متاثرین کی تعداد بڑھنی شروع ہو گئی۔ اس وقت طبی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی آکسیجن کی فراہمی کے اعداد و شمار بہت کم تعداد میں دستیاب تھے۔

آل انڈیا انڈسٹریل گیس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر ساکیت ٹکّو کہتے ہیں ’ہمیں نہیں معلوم تھا کہ سلینڈروں اور ٹینکوں کے ذریعے کتنی آکسیجن فراہم کی جارہی ہے۔ ہمیں اپنے پاس موجود کئی سلینڈروں کے متعلق بھی معلومات نہیں تھیں۔‘

اپریل کے اوائل میں حکام نے گیس کمپنیوں سے ملاقات کی جس میں انھیں معلوم ہوا کہ ریاست جموں وکشمیر میں ایک بھی مائع آکسیجن فیکٹری نہیں ہے اور انڈمان جزیرے پر کوئی آکسیجن بنانے والا نہیں تھا۔ دور دراز شمال مشرقی ریاستوں میں طبی سامان کی قلت تھی۔

حکومت نے فوراً ہی صنعتی آکسیجن کو طبی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ دونوں کے مابین تھوڑا سا فرق ہے لیکن طبی آکسیجن خالص ہے، سخت قواعد کے تحت فراہم کی جاتی ہے اور اسے مناسب طریقے سے تقسیم کرنا پڑتا ہے۔ گیس بنانے والوں نے ایک کنٹرول روم بھی قائم کرنے کا فیصلہ کیا جہاں انھیں ملک بھر کے ہسپتالوں اور نگہداشت کے مراکز سے کالیں موصول ہوسکیں اور وہ ان تمام جگہوں پر آکسیجن کی بروقت فراہمی یقینی بنا سکیں۔

تاہم مسائل ابھی تک برقرار ہیں۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہReuters

بہت سارے چھوٹے گیس سپلائیرز شکایت کرتے ہیں کہ انھیں بڑی تعداد میں آکسیجن خریدے والے سرکاری ہسپتالوں کی طرف سے ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے۔ ٹکّو کہتے ہیں ’مثال کے طور پر آسام کی شمال مشرقی ریاست میں حکومت نے ایک سال سے زیادہ عرصے سے فراہم کنندگان کو ادائیگی نہیں کی ہے۔‘

طبی مقاصد کے لیے آکسیجن فراہم کرنے والی ایک کمپنی کا بجلی کا کنکشن، بل جمع نہ کروا سکنے کے باعث منقطع ہوگیا تھا۔

اگست سنہ 2017 میں ایک ہولناک رات کی یادیں ابھی بھی تازہ ہیں جب اتر پردیش کی شمالی ریاست میں ایک آکسیجن سپلائر نے بلوں کی عدم ادائیگی کے سبب ایک سرکاری ہسپتال کو آکسیجن سپلائی منقطع کردی تھی جس کے بعد تقریباً 30 بچے دم توڑ گئے۔

ٹکّو کہتے ہیں ’ایک طرف حکومت ہم سے سپلائی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ دوسری طرف وہ وبائی امراض کے دوران بھی سپلائی کرنے والوں کو بروقت ادائیگیاں نہیں کرتے۔‘

اب انڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ کووڈ 19 ہسپتالوں اور نگہداشت کے تین ہزار سے زیادہ یونٹوں میں آکسیجن کی سہولت سے منسلک تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار بستر موجود ہیں۔ حکومت کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں 50 ہزار کے قریب وینٹیلیٹروں کی فراہمی کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ ان میں سے کتنے مقامات پر مائع آکسیجن ٹینکس یا سلینڈر بینک موجود ہیں جن سے پائپ کے ذریعے مریضوں کو آکسیجن فراہم کی جا رہی ہے۔ انڈیا میں بہت سے سرکاری ہسپتالوں میں پائپ سے فراہمی ممکن نہیں ہے اور وہاں بڑے سلینڈروں پر انحصار کیا جاتا ہے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہAFP

جیسے جیسے یہ وبائی مرض ایسے چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں پھیل رہا ہے جہاں صحت کا نظام کمزرو ہے، وہاں ڈاکٹروں کو ڈر ہے کہ آکسیجن کی عدم فراہمی کے باعث ایسی اموات کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے جنھیں بصورتِ دیگر بروقت آکسیجن سپلائی سے بچایا جا سکتا ہے۔

انڈیا کی غریب ترین ریاستوں میں سے ایک بہار میں 20 بستروں پر مشتمل ایک ہسپتال چلانے والے ڈاکٹر اتُل ورما کا کہنا ہے ’ہمیں زیادہ وینٹیلیٹروں کی ضرورت نہیں ہے۔ دیہی علاقوں میں ہمیں زیادہ آکسیجن کی ضرورت ہے۔‘

انڈیا میں طبی استعمال کے لیے آکسیجن کی گنجائش، موجودہ ضرورت سے پانچ گنا زیادہ ہے. لہذا آکسیجن کی فراہمی میں کمی سے متعلق تو ابھی کوئی خدشات نہیں ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسا اس لیے ممکن ہو سکا ہے کیونکہ نجی ہسپتالوں سے آکسیجن کی طلب میں کمی ہوئی ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ: کووڈ 19 سے متاثر ہونے کے خوف سے دوسری بیماریوں میں مبتلا بہت سے مریض ہسپتالوں کا رخ کرکے علاج معالجہ یا سرجریاں نہیں کروا رہے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہReuters

گیس کی ایک معروف کمپنی لنڈے انڈیا میں فروخت کے سربراہ انیربان سین کہتے ہیں ’طبی آکسیجن کی فراہمی میں مجموعی طور پر 20 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ نجی ہسپتالوں میں مریضوں کے داخلے میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔‘

آنے والے ہفتوں میں جب یہ وبائی مرض انڈیا کے کونے کونے میں پھیل جائے گا، اس وقت یہ یقینی بنانا کہ ملک بھر کے ہسپتالوں میں ہائی فلو آکسیجن تک رسائی والے کافی بستر موجود ہیں، ایک بڑا چیلنج ہو گا۔

انیربان سین کہتے ہیں ’چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں آکسیجن کی مسلسل فراہمی ایک چیلنج ہوگا۔ سہولیات ناکافی ہیں۔ ان مقامات پر کافی مقدار میں سلینڈر یا پائپ کے ذریعے آکسیجن تک رسائی نہیں ہے اور مائع آکسیجن بنانے والے بھی موجود نہیں ہیں۔‘