کووڈ 19: انڈیا کی ’کورونا واریر‘ جو کینسر کے باوجود گھر گھر جا کر لوگوں کی مدد کرتی ہے

خاکہ
،تصویر کا کیپشنرما ساہو گھر گھر جا کر لوگوں سے یہ پوچھتی ہیں کہ آیا ان میں سے کسی میں کووڈ 19 کی علامات تو نہیں

رما ساہو کو انڈین حکومت ’کورونا واریر‘ (یعنی صحت کے شعبے میں کام کرنے والا ایسا فرد جو کورونا کی وبا کے خلاف جنگ میں تعاون کر رہا ہے) کہتی ہے۔ بی بی سی ہندی کی سوشیلا سنگھ بتاتی ہیں کہ رما ساہو کینسر کے مرض سے بھی نبرد آزما ہیں۔

46 سالہ رما ساہو مشرقی ریاست اڑیسہ میں گھر گھر جا کر سروے کرنے اور راشن تقسیم کرنے کے لیے روزانہ صبح اپنے گھر سے نکل جاتی ہیں۔

وہ پسینہ نکالنے والی گرمی میں چلتی ہیں اور 201 گھروں کا دورہ کرتی ہیں۔ خیال رہے کہ اڑیسہ میں گرمی کے دنوں میں اوسط درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔

ہر روز ان کا سامنا انھی چہروں سے ہوتا ہے لیکن ان میں سے شاید کسی کو بھی نہیں معلوم کہ انھیں یوٹیرن کینسر کی تشخیص ہوئی ہے۔ ان کی حالت اتنی خراب ہے کہ وہ اپنے دورے کے دوران ڈایپر پہنتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’جب میں کام کرتی ہوں تو میں اپنی تمام پریشانیاں بھول جاتی ہوں۔ ذہن ہمیشہ کام میں مشغول رہتا ہے۔‘

بینر
لائن

وہ گھر گھر جا کر لوگوں سے یہ پوچھتی ہیں کہ آیا ان میں سے کسی میں کووڈ 19 کی علامات تو نہیں ہیں۔ وہ انھیں علیحدہ رہنے اور سماجی دوری قائم رکھنے کا مشورہ دیتی ہیں اور کھانا تقسیم کرتی ہیں۔ وہ صبر کے ساتھ لوگوں کے سوالات کے جوابات دیتی ہیں اور اپنے فارم میں معلومات درج کرتی ہیں۔

اس کے بعد اس فارم کو مقامی حکام کے پاس جمع کرایا جاتا ہے جو ہر روز ضلع بھر کے اعداد و شمار جمع کرتے ہیں۔ اس طرح انڈیا جیسے بڑے آبادی والے ملک میں کووڈ-19 کے نئے کیسز کی نگرانی ہوتی ہے۔

ملک میں اس وقت تقریبا 50 ہزار انفیکشن کے کیسز کی اطلاعات ہیں۔ لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ کیسز کی تعداد کم اس لیے ہے کہ انڈیا میں وسیع پیمانے پر جانچ نہیں ہو رہی ہے۔ لہذا مز ساہو جیسی فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کا کردار جو مسلسل نئے کیسز کی تلاش میں رہتے ہیں اور زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔

انڈیا بھر میں ایسے سینکڑوں ہزاروں کارکنان موجود ہیں۔ اور 25 مارچ سے شروع ہونے والے ایک سخت ملک گیر لاک ڈاؤن میں وہ غریبوں کو راشن بھی تقسیم کر رہے ہیں اور وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے انھیں ضروری مشورے بھی دے رہے ہیں۔

رما ساہو کا کہنا ہے ’اس آزمائش کے وقت میں ہماری ضرورت ہے۔‘

اور اسی وجہ سے ان کا کہنا ہے کہ وہ تکلیف دہ بیماری کے باوجود اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

خاکہ
،تصویر کا کیپشنرما ساہو پسینہ نکالنے والی گرمی میں چلتی ہیں اور 201 گھروں کا دورہ کرتی ہیں

ان کے شوہر رمیش کا کہنا ہے کہ ’وہ اسی صورت میں گھر رہتی ہیں جب انھیں بہت تکلیف ہو۔‘

وہ مزید کہتے ہیں: ’وہ گھر میں بہت روتی ہے لیکن کام کرتے ہوئے سب بھول جاتی ہے لیکن اس کے سپروائزر اسے سمجھتے ہیں اور اسے چھٹی لینے اور آرام کرنے کے لیے کہتے ہیں۔‘

ان کے دو بیٹے ہوئے لیکن دونوں کی موت ہو گئی۔ ایک کی عمر چار سال تھی اور دوسرا صرف چھ ماہ کا تھا۔

مسٹر ساہو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’ہماری تو دنیا ہی لٹ گئی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ دونوں بیمار پڑے اور مر گئے لیکن وہ ان کی بیماری کے بارے میں نہیں جانتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کی اہلیہ ایک بار پھر والدین بننا چاہتے تھے لیکن یہ سنہ 2014 میں اس وقت کی بات ہے جب ان کی اہلیہ میں کینسر کی تشخیص ہوئی۔

مسٹر ساہو ایک کریانہ دکان چلاتے ہیں۔ اس سے قبل وہ دوسری ریاست میں تعمیراتی مقامات پر کام کرتے تھے لیکن اہلیہ کی بیماری کے بعد وہ اپنے گھر واپس چلے آئے۔

وہ کہتے ہیں کہ وہ علاج کے لیے ممبئی شہر گئے اور کیمو تھراپی کرائی۔ انھیں بتایا گیا کہ وہ صحت یاب ہو گئی ہیں لیکن جلد ہی کینسر واپس آ گیا۔

’ڈاکٹر نے ہمیں بتایا کہ اب کچھ بھی ان کے ہاتھ میں نہیں کیونکہ کینسر آخری مرحلے میں ہے۔‘

رما ساہو نے پھر بھی ہمت نہیں ہاری ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کا کام لوگوں کو ماسک کے استعمال اور اپنے ہاتھ دھونے کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔ نہیں تو وہ سب کچھ ’خراب‘ کر دیں گے۔

گاؤں کے سربراہ لکھن گوڈا کہتے ہیں: ’اگرچہ وہ بیمار ہے لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹیں۔ ہم سب ان کے احسان مند ہیں۔‘