کورونا وائرس: کیا جون جولائی میں کووڈ 19 انڈیا میں تباہی مچانے والا ہے؟

کورونا وائرس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگذشتہ تین روز سے انڈیا میں روزانہ 3000 سے زيادہ کورونا کے نئے کیسز سامنے آرہے ہیں
    • مصنف, سروج سنگھ
    • عہدہ, بی بی سی ہندی

انڈیا میں جمعرات کو آل انڈیا میڈیکل ایسوسی ایشن یعنی ایمیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گولیریا کے حوالے سے ایک بیان تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور نیوز چینلز پر چل رہا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’انڈیا میں جون اور جولائی کے مہینے میں کورونا وائرس اپنے عروج پر ہو گا۔‘

لیکن یہ پیک یا عروج کیا ہے، اس کا مطلب کوئی نہیں سمجھا رہا۔ جب کورونا وائرس اپنے عروج پر ہوگا تو تب روزانہ کتنے متاثرین سامنے آئیں گے، اس بارے میں بھی کوئی بات نہیں ہورہی ہے۔

ہر کوئی اس بیان کو اپنے طریقے سے سمجھ رہا ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ لاک ڈاؤن کو مزید جاری رکھا جائے گا، کوئی کہہ رہا ہے کہ اب دوکانیں پھر سے بند کرنی پڑیں گی، وغیرہ وغیرہ۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا بینر
لائن

جمعہ کو کانگریس پارٹی کے لیڈر راہل گاندھی نے ویڈیو لنک کے ذریعے کی گئی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کورونا کے متاثرین کا عروج آنے والا ہے۔

جب ان سے اس ’پیک‘ کے بارے میں مزید سوالات پوچھا گئے تو ان کا کہنا تھا ’میں کوئی طبی ماہر نہیں ہوں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ پیک اور دیر سے آئے گا۔ لیکن یہ پیک کب آئے گا، جون میں، جولائی یا اگست میں؟ اس لیے ہمیں لاک ڈاؤن سے ٹرانزیشن یا اس سے نکلنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘

ڈاکٹر رندیپ گلیریا نے کیا کہا؟

ان تمام سوالات کے ساتھ بی بی سی نے ایمز کے ڈائریکٹررندیپ گلیریا کے پورے بیان کو دوبارہ سنا اور اسے سمجھنے کی کوشش کی تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ سوشل میڈیا پر جو ان کے بیان کے حوالے سے بات کہی جارہی ہے اس کی بنیاد کیا ہے۔

کورونا وائرس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں غریبوں کی ایک بڑی تعداد لاک ڈاؤن کی وجہ سے مشکل کی زندگی گزار رہی ہے

دراصل رندیپ گلیریا سے سوال پوچھا گیا تھا ’کیا ابھی انڈیا میں کورونا وائرس کا پیک آنا باقی ہے؟‘

رندیپ گلیریا کا جواب تھا ’ابھی تو کیسز بڑھ رہے ہیں۔ پیک تو آئے گا ہی۔ پیک کب آئے گا اس کا انحصار ڈیٹا ماڈلنگ پر ہوتا ہے۔ متعدد ماہرین نے اس کی ڈیٹا ماڈلنگ کی ہے۔ اس میں انڈیا کے ماہرین بھی شامل ہیں اور بیرونی بھی۔

’بیشتر ماہرین کا خیال ہے کہ جون اور جولائی کے مہینے میں کورونا کا پیک آسکتا ہے۔ بعض ماہرین تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ جون سے پہلے بھی کورونا کا پیک آسکتا ہے جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ یہ اگست میں بھی آ سکتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ڈیٹا ماڈلنگ کا انحصار متعدد حقائق پر ہوتا ہے۔ سب سے شروع میں ڈیٹا ماڈلنگ میں کہا گیا تھا کہ کورونا سب سے زیادہ مئی کے مہینے میں پھیلے گا۔ اس ڈیٹا ماڈلنگ میں یہ بات شامل نہیں کی گئی تھی کہ لاک ڈاؤن مئی تک بڑھایا جائے گا۔

’جب لاک ڈاؤن کا ڈیٹا شامل کیا گیا تو کورونا کے عروج کا وقت آگے بڑھا دیا گیا۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جو مسلسل بدل رہی ہے۔ ہوسکتا ہے اگلے ہفتے جو صورتحال ہو اس کے حساب سے اس پیشن گوئی میں تبدیلی آ جائے۔‘

ڈاکٹر رندیپ گلریا کا پورا بیان سننے کے بعد یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ انھوں نے جو بیان دیا وہ ڈیٹا ماڈلنگ کے حوالے سے دیا تھا۔

لیکن یہ کون سی ماڈلنگ ڈیٹا ہے اور کہاں کے ماہرین نے کی ہے؟ کیا وہ خود بھی اس میں شامل ہیں؟ اس کے بارے میں نہ تو ان سے سوال پوچھے گئے اور نہ ہی انھوں نے اس کا جواب دیا .

سات مئی تک کورونا وائرس کے معاملے

،تصویر کا ذریعہTwitter/Prof. Shamika Ravi

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے

بی بی سی نے ڈاکٹر رندیپ گلیریا سے ان سوالات کے جواب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

ڈیٹا ماڈلنگ کیسے ہوتی ہے؟

یہ سمجھنے کے لیے بی بی سی نے ماہرِ اقتصادیات پروفیسر شمیکا روی سے رابطہ کیا۔ پروفیسر شمیکا روی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر ریسرچ کرتی ہیں اور ماضی میں وزیر اعظم کی اقتصادی ایڈوائزری کونسل یعنی حکومت کو اقتصادی معاملات پر صلاح مشورہ دینے والی کمیٹی کی رکن تھیں۔

وہ روزانہ کی بنیاد پر کورونا کے کیسز اور رجحان کا موازنہ کرتی ہیں اور اس کے نتائج کو ٹوئٹر پر شیئر کرتی ہیں۔

شمیکا روی نے بی بی سی کو بتایا ’اس طرح کے ڈیٹا ماڈلنگ کا جائزہ دو طرح کے ماہرین لیتے ہیں ایک تو وبائی امراض کے ماہرین۔ یہ ماہرین ایکسپرٹ انفیکشن ڈیٹا ریٹ کی بنیاد پر اپنے اندازے بتاتے ہیں۔

’دوسرے اقتصادی ماہرین ہوتے ہیں جو موجودہ کے ڈیٹا کو دیکھ کر ٹرینڈ سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ حکومت کی پالیسیوں کا جائزہ بھی لیتے ہیں۔‘

شیمکا روی نے واضح طور پر بتایا کہ انھوں نے ڈاکٹر گلیریا کا بیان نہیں سنا ہے۔ اس لیے انھیں معلوم نہیں کہ وہ کس ماڈل کی بات کررہے ہیں۔

ایمز کے ڈائریکٹررندیپ گلیریا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایمز کے ڈائریکٹررندیپ گلیریا کا جواب تھا ابھی تو کیسیز بڑھ رہے ہیں۔ پیک تو آئے گا ہی۔

شیمکا روی کے مطابق ’وبائی ماہرین جس ڈیٹا کا جائزہ لیتے ہیں وہ جائزہ کبھی کبھار دو ماہ پہلے لیا گیا ہوتا ہے اس لیے نتائج تھوڑے مختلف ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر مارچ میں کیے جانے والے جائزے میں مئی میں کورونا وائرس کے پیک آنے کی بات کہی گئی ہے تو ہو سکتا ہے کہ اس جائزے میں نظام الدین میں تبلیغی جماعت کا معاملہ، لاک ڈاؤن میں توسیع اور اب شراب کی دوکانیں کھولنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو شامل ہی نہیں کیا گیا ہو۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’اس ڈیٹا کے جائزے کے کئی پہلو ہیں جن کو دھیان میں رکھنا ضروری ہے۔ اس لیے اگر اس جائزے میں انڈیا کا ڈیٹا شامل نہیں کیا گیا، شہری اور دیہی علاقوں کے ڈیٹا کو نہیں دیکھا گیا، انڈین عوام کی عمر کا پروفائل نہیں دیکھا گیا، جوائنٹ فیملی سسٹم کو نہیں دیکھا گیا تو اس جائزے کے نتائج زیادہ درست نہیں ہوں گے۔

’اس طرح کے زیادہ تر جائزے یورپ میں کیے جارہے ہیں اسی لیے ہر ہفتے یہ ڈیٹا ماڈلنگ نئے نتائج پیش کرتی ہے۔‘

کورونا وائرس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپہلے اور دوسرے لاک ڈاؤن کے دوران خلاف ورزیوں کے ایک دو معاملات کو اگر چھوڑ دیا جائے تو پورے ملک میں لاک ڈاؤن کا سختی سے نفاذ کیا گیا ہے اور عوام نے قانون کی پاسداری کی ہے

تازہ پیک کی تاریخ پر کتنا یقین کیا جائے؟

شمیکا روی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر جب تک اسے جائزے کے پیرامیٹرز کے ساتھ انصاف نہیں کرتے ہیں تب تک انڈیا کے لیے اس جائزے کی اہمیت محدود ہی رہے گی۔

گذشتہ تین روز سے انڈیا میں روزانہ 3000 سے زيادہ کورونا کے نئے کیسز سامنے آرہے ہیں۔ جبکہ دس دن قبل تک روزانہ 1500 سے 2000 نئے کیسز سامنے آرہے تھے۔

پہلے اور دوسرے لاک ڈاؤن کے دوران خلاف ورزیوں کے ایک دو معاملات کو اگر چھوڑ دیا جائے تو پورے ملک میں لاک ڈاؤن کا سختی سے نفاذ کیا گیا ہے اور عوام نے قانون کی پاسداری کی ہے۔

اب جو لاک ڈاؤن ہے اس میں بعض جگہ دوکانیں کھولی گئی ہیں، شراب کی دوکانیں کھلنے کے بعد جو بھیڑ سڑکوں پر آئی ہے وہ سبھی نے دیکھی ہے، اس کے علاوہ لاکھوں غریب مزدور پیدل یا سرکاری ٹرینوں میں ایک مقام سے دوسرے مقام جارہے ہیں اور بیرونی ممالک میں پھنسے انڈین شہریوں کو بھی واپس لایا جارہا ہے تو ایسے میں کورونا کے متاثرین میں اضافے کا خدشہ پیدا ہونا لازمی ہے۔

شمیکا روی مزید کہتی ہیں: ’ایک لاک ڈاؤن کرنے کے بعد دوسرا نہیں کیا جا سکتا۔ کورونا وائرس ایسی بیماری تو ہے نہیں جس کا علاج آپ کے پاس ہے۔ آپ اس کو دور رکھنے کی کوشش ہی کرسکتے ہیں۔

’آپ احتیاط کے ذریعے وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرسکتے ہیں۔ حکومت کو تیاری کرنے کے لیے جتنا وقت چاہیے تھا وہ اس نے لے لیا ہے۔ اب آگے ایسا نہیں چل سکتا، ڈاکٹروں کو بھی یہ بات سمجھنی آ گئی ہے۔‘

कोरोना संक्रमण

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشمیکا روی کہتی ہیں ایک لاک ڈاؤن کرنے کے بعد دوسرا نہیں کیا جاسکتا

ایسے میں ایمز کے ڈائریکٹر کے بیان سے متعدد سوالات پیدا ہوتے ہیں:

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جون اور جولائی پیک کے ڈیٹا ماڈلنگ کی بنیاد کیا ہے؟

یہ ڈیٹا کسی سرکاری ایجنسی کا ہے؟ یہ پھر ایمز کے ڈاکٹروں نے خود تیار کیا ہے؟

اس کے جائزے میں کن حقائق کو شامل کیا گیا ہے؟

اس جائزے میں انڈیا کی صورتحال کو مدِنظر رکھا گیا ہے یا نہیں؟

یہ جائزہ کب کی لیا گیا ہے اور اس کی مدت کیا تھی؟

اور کورونا وائرس کے پیک یا عروج کی تعریف کیا ہے؟

جب تک ان سوالات کے جواب نہیں مل جاتے ہیں تب تک اس طرح کے جائزوں پر یقین کرنا مشکل ہے۔