کورونا وائرس: انڈیا کا غریب طبقہ کیسے گزارا کرے گا؟

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے 3 مئی تک لاک ڈاؤن برقرار رکھنے کے فیصلے سے جہاں کئی لوگوں کو راحت ملی ہے وہیں دوسروں پر اس کے برے اثرات پڑنے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس فیصلے سے شہریوں کو صورتحال کی سنگینی کے بارے میں ایک سخت پیغام ملا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کو ہلکا نہیں لیا جاسکتا۔

کورونا وائرس کے خلاف جاری لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ اور اس معاملے میں شاید ہی کوئی اختلاف رائے موجود ہو کہ یہ پیغامات واضح طور پر دینے کی ضرورت ہے۔

لاک ڈاؤن کے اس دوسرے مرحلے میں لوگ معاشرتی دوری کے قواعد پر عمل کریں گے۔

24 مارچ سے 14 اپریل کے درمیان لاک ڈاؤن کے پہلے مرحلے میں بھی لوگوں نے ان قواعد پر عمل کیا تھا۔

کورونا بینر
لائن

وزیرِ اعظم کی اپیل

لاک ڈاؤن اعلان کے پہلے مرحلے کے وقت وزیر اعظم مودی نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ غریبوں کے ساتھ رحم دلی اور مہربانی کا مظاہرہ کریں۔

انھوں نے کہا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دورانیے میں جو ملازمین اور ڈرائیور ہمارے گھریلو کاموں میں مدد کرتے ہیں ان کی تنخواہوں میں کمی نہیں کی جانی چاہیے۔

شہروں میں رہنے والے متوسط ​​اور متمول طبقے نے اس اپیل کو خاصی توجہ دی۔

لیکن لاک ڈاؤن کے دوسرے مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے جب وزیر اعظم نے یہی اپیل دہرائی تو شہروں میں رہائش پذیر متوسط ​​اور متمول طبقے کے لوگوں کو شاید پہلے جتنا اثر نہیں ہوا ہوگا۔

اگرچہ حکومت کو کورونا وائرس کے خلاف جاری لڑائی میں تیاریوں کے لیے تھوڑا سا زیادہ وقت مل گیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ لاک ڈاؤن کے پہلے مرحلے کے دوران انڈیا کے لوگوں نے اپنے گھریلو ملازمین کے ساتھ ہمدردی دکھائی اور ان کا خیال رکھا لیکن حکومتی مدد کے بغیر آخر یہ لوگ کب تک غریبوں کی مدد کر سکتے ہیں؟

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لاک ڈاؤن کا پہلا مرحلہ

لاک ڈاؤن کے دوسرے مرحلے میں نہ صرف کم آمدنی والے لوگوں کا ذریعہ معاش متاثر ہوگا بلکہ اس سے غریب بھی متاثر ہوں گے۔

ایسا ممکن ہے کہ متوسط ​​اور متمول طبقے کے بہت سے لوگ اپنے گھریلو ملازمین کو ایک دن کی حاضری کے بغیر تنخواہ دینے پر رضامند نہ ہوں۔

ایک طرف جہاں وزیر اعظم کی پہلی اپیل نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا وہیں لاک ڈاؤن کے دوسرے مرحلے میں خدشہ ہے کہ شاید اس کا اثر پہلےجیسا نہ ہو۔

جب 24 مارچ کو لاک ڈاؤن کے پہلے مرحلے کا اعلان کیا گیا تو مہینہ تقریباً ختم ہو نے کو تھا۔

اور شہروں میں رہنے والے متوسط ​​اور متمول طبقے کے گھروں میں جو گھریلو ملازمین تھے، انھیں مارچ کے مہینے کی پوری تنخواہ خوشی خوشی ادا کر دی گئی تھی۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

متوسط ​​اور متمول طبقہ

لیکن اب شاید ان میں سے بہت سے افراد اپنے گھریلو عملے کو اپریل کی مکمل تنخواہ دینے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔

کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ گھریلو ملازمین اپریل میں ایک دن بھی کام پر نہیں جا سکے۔

اور متوسط اور متمول طبقے کے پاس اس کی معقول وجہ بھی ہے۔

اور وہ وجہ یہ ہے کہ وہ خود نجی اداروں کے ملازمین ہیں اور لاک ڈاؤن سے ان کی خود کی آمدن متاثر ہوئی ہے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نئی حیثیت

اس کی اور بھی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اپریل کی تنخواہ لینے کے لیے گھریلو ملازمین کی پریشانی بڑھ جائے گی۔

کیونکہ عادتیں اتنی جلدی ختم نہیں ہوتیں۔ لوگوں کو ایک دوسرے سے زیادہ ہمدردی ہے، خاص کر معاشرے کے نچلے طبقوں سے، لیکن ایسا صرف تب ہوتا ہے جب بحران کا وقت ہو۔

جب کسی صورتحال کو بحرانی دور کے طور پر دیکھا جاتا ہے تو توقع کی جاتی ہے کہ یہ مرحلہ بہت ہی کم وقت میں ختم ہوجائے گا۔

جب بحران کا دور ختم ہوجاتا ہے تو لوگ اپنی روز مرہ زندگی میں واپس آجاتے ہیں لیکن اگر برا وقت طویل عرصے تک چلتا رہے تو لوگ اس کے عادی ہوجاتے ہیں۔

برا وقت ’نیو نارمل‘ حالت میں بدل جاتا ہے۔

روزمرہ زندگی

میرے خیال میں 21 دن کا یہ لاک ڈاؤن بحران کی تعریف پر پورا اترتا ہے۔۔۔ ایک غیر معمولی صورتحال جسے کسی انڈین نے شاید ہی پہلے کبھی دیکھا ہو ۔

لیکن شہروں میں رہنے والے متوسط ​​طبقے کے لیے 40 دن کا لاک ڈاؤن ایک طرح سے ’نیا معمول‘ ہے۔

اگر یہ تصور ہماری روزمرہ کی زندگی پر لاگو نہیں بھی ہوتا تو، تب بھی ہم لاک ڈاؤن میں زندگی گزاریں گے۔ لیکن شہری متوسط ​​اور متمول طبقے کے ایک بڑے حصے کا طرز زندگی، خاص طور پر ان کی عادات ’نیو نارمل‘ میں تبدیل ہو جائیں گی۔

شہری متوسط ​​اور متمول ​​طبقے کے افراد نے جس طرح سے غریبوں کی مدد کی ہے، پھر چاہے یہ غریب لوگ ان کے گھریلو ملازمین ہیں یا نہیں، اس کی تعریف کی جانی چاہیے۔

یہ غریب لوگ زیادہ تر دوسرے شہروں یا ریاستوں سے ہجرت کرکے آئے ہیں اور ان کے ساتھ معاشرے کے کھاتے پیتے طبقے کا یہ اچھا سلوک کوئی معمول کی بات نہیں۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سخت تعصب

ترقی پذیر معاشروں کے مطالعہ کے مرکز (سی ایس ڈی ایس) اور عظیم پریمجی یونیورسٹی کے مابین مشترکہ تحققیق میں اس بات کے ثبوت ملے ہیں کہ انڈیا میں پائی جانے والی مختلف ذاتوں، برادری، مذہب اور طبقے کے لوگوں میں ایک دوسرے کے لیے سخت تعصب موجود ہے۔

ضروری نہیں ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ ایک دوسرے پر اعتماد کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی رکھیں۔ اس کے برعکس، لوگ ایک دوسرے کے بارے میں شکوک و شبہات کا احساس رکھتے ہیں، ایک دوسرے کو ایسے شخص کی حیثیت سے دیکھتے ہیں جو ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بحران کے وقت لوگ اپنے جذبات کو نظرانداز کرتے ہیں۔ ایسے مواقع پر لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لیے بڑی تعداد میں آگے آتے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس طرح کی خیر خواہی زیادہ دن تک نہیں چلتی۔

رکاوٹیں ڈالنے والا طبقہ

شک اور تعصب کا احساس صرف کسی خاص طبقے تک محدود نہیں ہے۔ معاشرے کے تمام طبقات میں ایک دوسرے کے خلاف یہ احساس پایا جاتا ہے۔

اس مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انڈیا کے 48 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ بااثر افراد دوسروں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ زیادہ تر دلت اور مسلمانوں نے اس رائے سے اتفاق کیا تھا۔

دوسری طرف 21 فیصد کا خیال تھا کہ دوسری ریاستوں اور شہروں سے آنے والے افراد ان کی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ یہ افراد زیادہ تر گھریلو ملازمین کے طور پر کام کرتے ہیں۔

11 فیصد لوگ پسماندہ ذاتوں کو اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہ 11 فیصد افراد تعداد کے لحاظ سے ایک چھوٹی آبادی بھی ہوسکتے ہیں لیکن ان کی اپنی اہمیت ہے۔ اس طرح کی رائے رکھنے والے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی تعداد اونچے اور متوسط طبقے سے تھی۔

شہروں میں رہنے والوں کے ذہن میں یہ احساس گاؤں والوں سے زیادہ تھا۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دلت کیا سوچتے ہیں

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ گھریلو ملازمین کی حیثیت سے کام کرنے والے زیادہ تر افراد کا تعلق پسماندہ ذات سے ہوتا ہے۔

عام انڈین شہری بھی اونچی ذات والوں کے لیے اجنبیت کا احساس رکھتے ہیں۔

اس تحقیق میں حصہ لینے والے 22 فیصد افراد، اونچی ذات کے لوگوں کو اپنی معاشی بہبود کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔

یہ احساس، دلت ذات کے لوگوں میں اونچی ذاتوں کے متعلق زیادہ دیکھا گیا۔ شہروں میں گھریلو ملازمین کے طور پر کام کرنے والے لوگوں کی بڑی تعداد کا تعلق دلت ذات سے ہوتا ہے۔

مشکل وقت میں کورونا

کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ کورونا بحران کے وقت ایک دوسرے کے خلاف عدم اعتماد کا یہ احساس، اگرچہ ختم تو نہیں ہو سکا لیکن کمزور ضرور پڑ گیا ہے۔

لیکن مجھے نہیں لگتا کہ لوگوں کی عادات اتنی آسانی سے ختم ہو جاتی ہیں۔

خاص طور پر معاشرے کا کھاتا پیتا، مراعات یافتہ طبقہ اتنی آسانی سے دوسری ذاتوں کے ساتھ اپنا رویہ نہیں بدلتا۔

بدقسمتی سے کورونا بحران کے اس مشکل وقت میں گھریلو ملازمین کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔