انڈیا میں کورونا وائرس: ماہرین کے مطابق انڈیا کو کورونا وائرس کی سونامی کے لیے تیار رہنا چاہیے

انڈیا میں کورونا وائرس کا خطرہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنعالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کے پھیلاوٴ کو روکنے کے لیے انڈین حکومت کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی ہے

کورونا وائرس کی زد میں دنیا کے 168 ممالک ہیں اور اب تک اس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ دنیا بھر میں اس سے مرنے والوں کی تعداد 14 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا کورونا وائرس کا اگلا بڑا شکار ہو سکتا ہے۔ انڈیا میں اب تک کورونا وائرس کے 376 کیسز سامنے آ چکے ہیں اور سات اموات ہو چکی ہیں۔

انڈیا کے سینٹر فار ڈیزیز ڈائینیمکس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رامانن لکشمی ناراین نے بی بی سی نامہ نگار رجنی ویدیا ناتھن کو بتایا ہے کہ انڈیا کو کورونا وائرس کی سونامی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

ان کا خیال ہے کہ انڈیا میں کورونا وائرس کے معاملے بہت تیزی سے بڑھیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ ایسے کوئی اشارے نہیں ملے جن کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ انڈیا میں اس کا اثر باقی دنیا سے کم ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

تاہم عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کے پھیلاوٴ کو روکنے کے لیے انڈین حکومت کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ہینک بیکیڈم نے کہا ’اس معاملے میں انڈین حکومت اور وزیراعظم کے دفتر کا رد عمل شاندار رہا ہے۔ میں اس سے بہت متاثر ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا دیگر ممالک کے مقابلے میں ابھی بہتر حالت میں ہے۔’

انڈیا میں کورونا وائرس کا خطرہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا کورونا وائرس کا اگلا بڑا شکار ہو سکتا ہے

’مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے‘

ڈاکٹر رامانن نے بتایا ’ہو سکتا ہے باقی ممالک کے مقابلے میں ہم تھوڑا پیچھے چل رہے ہوں لیکن سپین اور چین میں جیسے حالات رہے ہیں، جتنی بڑی تعداد میں وہاں لوگ اس وائرس کی زد میں آئے ہیں، ویسے ہی حالات انڈیا میں بھی پیدا ہوں گے اور چند ہفتوں میں ہمیں کورونا وائرس کی سونامی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔’

سوال یہ بھی اہم ہے کہ جس وقت دنیا بھر کے ممالک میں کورونا وائرس کی بڑی تعداد میں کیسز سامنے آ رہے ہیں، انڈیا میں فی الحال یہ تعداد اتنی کم کیوں ہے؟

ڈاکٹر رامانن نے بتایا کہ اگر انڈیا میں زیادہ لوگوں کے ٹیسٹ کیے جاتے تو ممکنہ طور پر اور زیادہ کیسز سامنے آتے لیکن انڈیا میں کورونا وائرس کے لیے بہت کم ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا ’مجھے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں جب ٹیسٹ بڑھیں گے تو مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گا۔ یہ تعداد اگلے دو تین دنوں میں ہزار سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ ہمیں تیار رہنا چاہیے۔ انڈیا میں ایسے جراثیم کا پھیلنا بہت آسان ہے۔ اس کی وجہ یہاں کی گنجان آبادی ہے۔ ایسا ہی چین کے ساتھ بھی ہوا۔’

ڈاکٹر رامانن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا وائرس کی کمیونٹی ٹرانسمیشن اب تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ہر جانب ایک مریض دو نئے کیسز بڑھا رہا ہے۔

انڈیا میں کورونا وائرس کا خطرہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں اب تک کورونا وائرس کے 376 کیسز سامنے آ چکے ہیں اور سات اموات ہو چکی ہیں

کتنے متاثرین ہو سکتے ہیں؟

کمیونیٹی ٹرانسمیشن کسی مرض کے پھیلنے کا تیسرا اور خطرناک مرحلہ ہوتا ہے۔ کمیونیٹی ٹرانسمیشن تب ہوتا ہے جب کوئی شخص کسی متاثرہ شخص کے رابطے میں آئے بغیر یا کسی متاثرہ ملک کا سفر کیے بغیر ہی اس مرض میں مبتلا ہو جائے۔

انڈیا میں اب تک انھی لوگوں کا ٹیسٹ کروایا گیا ہے جو بیرون ملک سے آئے تھے یا ایسے کسی شخص کے رابطے میں رہے ہوں۔

لیکن اگر کسی کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کے رابطے میں آ رہا ہے اور اس کے ذریعہ کورونا وائرس دوسروں تک بھی پھیل گیا ہے تو صورتحال اور خراب ہو جائے گی۔

ڈاکٹر رامانن نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ میں پچاس سے ساٹھ فیصد افراد اس وائرس سے متاثر ہوں گے۔

ان کا خیال ہے کہ انڈیا میں کم از کم بیس فیصد آبادی کورونا وائرس سے متاثر ہو گی لیکن انڈیا کی آبادی کے اعتبار سے یہ تعداد کم نہیں ہے۔ بیس فیصد آبادی کا مطلب ہے کہ تیس کروڑ افراد۔

ہسپتالوں میں کیا صورتحال ہے؟

ڈاکٹر رامانن نے بتایا کہ ہر پانچ میں سے ایک شخص وائرس سے بری طرح متاثر ہو گا یعنی چالیس سے پچاس فیصد افراد سنجیدہ حالت میں ہوں گےاور انھیں ہسپتال میں داخل کروانے کی ضرورت پڑے گی۔

انڈیا میں کورونا وائرس کا خطرہ

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں اب تک انھی لوگوں کا ٹیسٹ کروایا گیا ہے جو بیرون ملک سے آئے تھے یا ایسے کسی شخص کے رابطے میں رہے ہوں

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انڈیا میں صحت کی سہولیات کیا ایسی ہیں کہ وہ اتنی بڑی تعداد میں مریضوں کا خیال رکھ سکیں؟ خاص طور پر دیہی علاقوں میں ہسپتالوں کی حالت بہت خراب ہے۔

ڈاکٹر رامانن نے بتایا ’پورے ملک میں کل 70 ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان آئی سی یو بیڈز ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے یہ بہت کم ہیں۔ یہ بہت زیادہ فکر کی بات ہے کیوںکہ ہمارے پاس تیاری کے لیے زیادہ وقت نہیں ہے۔ جس طرح چین نے پھرتی دکھائی ہے، ہمیں بھی وہ سب کرنے کی ضرورت ہو گی۔ عارضی ہسپتال بنانے پڑیں گے۔ سٹیڈیمز کو کچھ عرصے کے لیے ہسپتالوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ وینٹی لیٹر تیار رکھنے ہوں گے۔’

حکومت کو کیا اقدامات کرنا ہوں گے؟

ڈاکٹر رامانن نے کہا ’ہمارے پاس حالات پر قابو پانے کے لیے تین ہفتے کا وقت ہے۔ سب کچھ اسی دوران کرنا ہے۔ آپ تصور کیجیے کہ ہم اس مقام پر کھڑے یں جہاں سے سامنے سونامی کو آتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ اگر ہم وقت رہتے خبردار نہیں ہوئے تو سونامی میں ختم ہو جائیں گے۔’

انپوں نے یہ بھی کہا ’لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ کسی طرح کی افراتفری نہ پیدا کریں لیکن وبا سے نمٹنے کے لیے تمام احتیات کریں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہو گا کہ ایسی چیزیں ایک بار سامنے آتی ہیں اور ایک ہی بار میں سب کچھ تباہ کر کے چلی جاتی ہیں۔ حکومتوں کو بھی اس کی آہٹ کا اندازہ نہیں ہوتا۔ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں اس وبا سے خود کو محفوظ رکھنے اور اس سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔’