جنرل قاسم سلیمانی: تہران میں القدس فورس کے کمانڈر کی نمازِ جنازہ کے مناظر

ایران، عراق، جنرل قاسم سلیمانی،

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کی نمازِ جنازہ پڑھا رہے ہیں

بغداد میں امریکہ کے فضائی حملے میں جمعے کو ہلاک ہونے والے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ایران کے مختلف شہروں میں نمازِ جنازہ کا تیاری کی گئی۔

جنرل قاسم سلیمانی اور ملیشیا کمانڈر ابومہدی المہندس کی میتیں سنیچر کی شام ایران کے شہر اہواز پہنچائی گئی تھیں جس کے بعد اتوار کو وہاں شہریوں کی بڑی تعداد نے جنازے میں شرکت کی۔

ایران، عراق، جنرل قاسم سلیمانی،

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایران کے دارالحکومت تہران میں 6 جنوری کو جنرل قاسم سلیمانی اور ملیشیا کمانڈر ابومہدی المہندس کا جنازہ لے جایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر عوام کی بڑی تعداد نے جنازے میں شرکت کی

جنرل سلیمانی کی نمازِ جنارہ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے پڑھائی اور اس میں صدر حسن روحانی، چیف جسٹس ابراہیم رئیسی، پارلیمان کے سپیکر علی لاریجانی، قدس فورس کے نئے کمانڈر اسماعیل قانی سمیت اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔

ایران، عراق، جنرل قاسم سلیمانی،

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتہران میں نمازِ جنازہ کے شرکا نے جنرل قاسم سلیمانی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں

تہران میں ان کے جنازے کے موقع پر بھی شہر کی شاہراہیں اور گلیاں سیاہ پوش لوگوں سے بھری ہوئی تھیں جنھوں نے ایرانی پرچم اٹھا رکھے تھے اور امریکہ مخالف نعرے لگا رہے تھے۔

جنرل سلیمانی کی بیٹی زینب سلیمانی نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔

ایران، عراق، جنرل قاسم سلیمانی،

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجنرل قاسم سلیمانی کی بیٹی زینب سلیمانی اپنے والد کے جنازے میں خطاب کررہی ہیں

سرکاری نیوز ایجنسی کی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ اہواز اور تہران سمیت دیگر شہروں میں بھی امریکہ مخالف مظاہرے ہوئے۔ ویڈیو کے دوران کہا گیا کہ ’اس تعزیتی تقریب میں ایک بڑا ہجوم جمع ہوا ہے۔‘

ایران بھر میں جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے۔

ایران، عراق، جنرل قاسم سلیمانی،

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایران کے شہر اہواز میں القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور ملیشیا کمانڈر ابو مہدی المہندس کے جنازے لے جائے جا رہے ہیں

اہواز میں ان کے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ جلوس میں شرکت کرنے والوں نے امریکہ مخالف نعرے لگائے۔

ایران، عراق، جنرل قاسم سلیمانی،

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناتوار کو علی الصبح ان دونوں کی میتیں عراق سے ایران بذریعہ طیارہ پہنچائی گئیں۔ اس تصویر میں پاسدارانِ انقلاب جنرل سلیمانی کی میت طیارے سے اتار رہے ہیں

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ٹوئٹر پر کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی کا قتل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور ایران کے کسی بھی ثقافتی مقام پر حملہ ایک جنگی جرم ہوگا۔

ایران، عراق، جنرل قاسم سلیمانی،

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلوگ ہلاک ہونے والے کمانڈرز کی میتوں کو عقیدت سے چھو رہے ہیں
ایران، عراق، جنرل قاسم سلیمانی،

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کے جنازے لے جائے جا رہے ہیں

اس سے پہلے سینچر کو عراقی دارالحکومت بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے ایرانی ملٹری کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی نمازہ جنازہ کے جلوس میں لوگوں کی بڑی تعداد شامل ہوئی۔

قاسم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننمازِ جنازہ کے جلوس میں شریک خاتون نے ایک پلے کارڈ اٹھا رکھا ہے جس پر درج ہے ’ہم بدلہ لیں گے‘
قاسم

،تصویر کا ذریعہReuters

جلوس کا آغاز شعیہ اکثریتی علاقے کاظمین سے ہوا اور بعد میں یہ گرین زون پہنچا جہاں ریاستی سطع پر تدفین کے انتظامات کیے گئے تھے۔ اعلیٰ سیاسی و سماجی شخصیات نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔

قاسم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکی ڈرون حملے میں کل 10 افراد (پانچ عراقی اور پانچ ایرانی افراد) ہلاک ہوئے

جلوس میں شامل افراد عراقی اور ملیشیا پرچم لہراتے ہوئے 'امریکہ مردہ باد' کے نعرے لگا رہے تھے۔ ان افراد نے جنرل سلیمانی اور ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

قاسم

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننمازِ جنازہ کے جلوس میں بڑی تعداد میں خواتین نے بھی شرکت کی
قاسم

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجلوس میں شامل حشید الشانی کے ایک حمایتی غم سے نڈھال ہیں

نمازِ جنازہ کے جلوس میں عراقی وزیرِ اعظم عادل عبد المہدی اور سابق وزیرِ اعظم نور المالکی بھی شریک ہوئے۔

قاسم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننمازے جنازہ کے جلوس میں عراقی وزیرِ اعظم عادل عبد المہدی بھی شامل ہیں

عراق میں نمازے جنازہ کی ادائیگی کے بعد جنرل قاسم سلیمانی کی میت سنیچر کی شام کو ایران کے شہر مشہد پہنچائی جائے گی۔ ‏مشہد سے جنرل سلیمانی کی میت تہران لے جائی جائے گی جہاں آیت اللہ علی خامنہ ای خود ان کی نمازِ جنازہ پڑھوائیں گے۔

قاسم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

قاسم

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشننمازِ جنازہ کے جلوس میں شامل کاروں میں سے ایک میں تابوت رکھا دیکھا جا سکتا ہے

جنرل قاسم سلیمانی کی حتمی نمازِ جنازہ منگل کو وسطی ایران میں ان کے آبائی قصبے کرمان میں ادا کی جائے گی۔

سلیمانی مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی حکمتِ عملی اور کارروائیوں کے منصوبہ ساز تھے اور ایران نے ان کی موت کا 'کڑا بدلہ' لینے کا اعلان کیا ہے۔

قاسم

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننمازے جنازہ کے جلوس میں شامل حشید الشانی کے حمایتوں نے ہلاک ہونے والوں کے تصاویری پوسٹر اٹھا رکھے ہیں

ایران میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد اگر کسی شخصیت کو طاقتور سمجھا جاتا تھا تو وہ جنرل قاسم سلیمانی ہی تھے۔ ایران میں جنرل سلیمانی کے لیے تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

قاسم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

قاسم

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنعراقی ملیشیا کے کمانڈر ہادی العمیری نمازے جنازہ میں شامل ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ایران نواز ہادی العمیری، امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے سابق ملیشیا کمانڈر ابو مہدی المہندس کی جگہ لیں گے

امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں عراقی ملیشیا کے کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی شامل ہیں۔ المہندس پاپولر موبلائزیشن یونٹ کے رہنما تھے جو ایران نواز ملیشیاؤں کا اتحاد تھا۔