جنرل قاسم سلیمانی: تہران میں القدس فورس کے کمانڈر کی نمازِ جنازہ کے مناظر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بغداد میں امریکہ کے فضائی حملے میں جمعے کو ہلاک ہونے والے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ایران کے مختلف شہروں میں نمازِ جنازہ کا تیاری کی گئی۔
جنرل قاسم سلیمانی اور ملیشیا کمانڈر ابومہدی المہندس کی میتیں سنیچر کی شام ایران کے شہر اہواز پہنچائی گئی تھیں جس کے بعد اتوار کو وہاں شہریوں کی بڑی تعداد نے جنازے میں شرکت کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنرل سلیمانی کی نمازِ جنارہ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے پڑھائی اور اس میں صدر حسن روحانی، چیف جسٹس ابراہیم رئیسی، پارلیمان کے سپیکر علی لاریجانی، قدس فورس کے نئے کمانڈر اسماعیل قانی سمیت اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تہران میں ان کے جنازے کے موقع پر بھی شہر کی شاہراہیں اور گلیاں سیاہ پوش لوگوں سے بھری ہوئی تھیں جنھوں نے ایرانی پرچم اٹھا رکھے تھے اور امریکہ مخالف نعرے لگا رہے تھے۔
جنرل سلیمانی کی بیٹی زینب سلیمانی نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سرکاری نیوز ایجنسی کی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ اہواز اور تہران سمیت دیگر شہروں میں بھی امریکہ مخالف مظاہرے ہوئے۔ ویڈیو کے دوران کہا گیا کہ ’اس تعزیتی تقریب میں ایک بڑا ہجوم جمع ہوا ہے۔‘
ایران بھر میں جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اہواز میں ان کے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ جلوس میں شرکت کرنے والوں نے امریکہ مخالف نعرے لگائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ٹوئٹر پر کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی کا قتل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور ایران کے کسی بھی ثقافتی مقام پر حملہ ایک جنگی جرم ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سے پہلے سینچر کو عراقی دارالحکومت بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے ایرانی ملٹری کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی نمازہ جنازہ کے جلوس میں لوگوں کی بڑی تعداد شامل ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہReuters
جلوس کا آغاز شعیہ اکثریتی علاقے کاظمین سے ہوا اور بعد میں یہ گرین زون پہنچا جہاں ریاستی سطع پر تدفین کے انتظامات کیے گئے تھے۔ اعلیٰ سیاسی و سماجی شخصیات نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جلوس میں شامل افراد عراقی اور ملیشیا پرچم لہراتے ہوئے 'امریکہ مردہ باد' کے نعرے لگا رہے تھے۔ ان افراد نے جنرل سلیمانی اور ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا ذریعہAFP
نمازِ جنازہ کے جلوس میں عراقی وزیرِ اعظم عادل عبد المہدی اور سابق وزیرِ اعظم نور المالکی بھی شریک ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عراق میں نمازے جنازہ کی ادائیگی کے بعد جنرل قاسم سلیمانی کی میت سنیچر کی شام کو ایران کے شہر مشہد پہنچائی جائے گی۔ مشہد سے جنرل سلیمانی کی میت تہران لے جائی جائے گی جہاں آیت اللہ علی خامنہ ای خود ان کی نمازِ جنازہ پڑھوائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہReuters
جنرل قاسم سلیمانی کی حتمی نمازِ جنازہ منگل کو وسطی ایران میں ان کے آبائی قصبے کرمان میں ادا کی جائے گی۔
سلیمانی مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی حکمتِ عملی اور کارروائیوں کے منصوبہ ساز تھے اور ایران نے ان کی موت کا 'کڑا بدلہ' لینے کا اعلان کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایران میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد اگر کسی شخصیت کو طاقتور سمجھا جاتا تھا تو وہ جنرل قاسم سلیمانی ہی تھے۔ ایران میں جنرل سلیمانی کے لیے تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں عراقی ملیشیا کے کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی شامل ہیں۔ المہندس پاپولر موبلائزیشن یونٹ کے رہنما تھے جو ایران نواز ملیشیاؤں کا اتحاد تھا۔












