قندھار حملہ: ’طالبان اور پاکستان مخالف‘ جنرل عبدالرازق کون تھے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, خدائے نور ناصر
- عہدہ, بی بی سی ، اسلام آباد
افغانستان میں کم از کم ایک درجن قاتلانہ حملوں میں بچ جانے والے قندھار پولیس کے سربراہ جنرل عبدالرازق جمعرات کے روز ہونے والے حملے میں ہلاک ہوگئے۔
افغان طالبان کی جانب سے کیے گئے اس حملے میں ان کے علاوہ افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس کے صوبائی سربراہ بھی مارے گئے جبکہ امریکی فوج کے کمانڈر بال بال بچ گئے تھے۔
اس حملے کا نشانہ بننے والے طالبان اور پاکستان کے خلاف انتہائی سخت موقف رکھنے کی وجہ سے مشہور پولیس سربراہ جنرل عبدالرازق کی تین بیویاں اور 13 بچے تھے۔ اگرچہ اُن پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا بھی الزام تھا لیکن افغان عوام نہ صرف اُنھیں زندگی میں بلکہ موت پر بھی’ہیرو‘ مانتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جنرل رازق کے بہت ساری ایسی ویڈیوز مشہور ہیں جس میں وہ کھلم کھلا طالبان کی مبینہ حمایت پر پاکستان کے خلاف بیانات دیتے ہیں اور اکثر بیانات میں تو وہ طالبان سے زیادہ پاکستان مخالف نظر آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ ’اگر مجھ پر ایک ہزار حملے بھی کیے جائیں، جب تک زندہ ہوں، پنجاب اور پاکستان کا دشمن رہوں گا۔‘ اُن کا الزام تھا کہ پاکستان افغانستان کا سب سے بڑا دشمن ہیں اور طالبان پاکستان کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہیں۔
افغان میڈیا کے مطابق جنرل رازق پاکستان اور افغانستان کے درمیان متنازع ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے کے بھی سخت مخالف تھے۔
چند روز قبل افغان اور پاکستانی فورسز کے درمیان باڑ لگانے پر کشیدگی پیدا ہوئی تھی اور فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا تھا اور اس واقعے کے بعد چمن میں پاکستانی حکام نے باب دوستی کو بند کردیا تھا۔ افغان میڈیا کے مطابق جنرل رازق کے کہنے پر ہی افغان فورسز پاکستانی فورسز کو باڑ لگانے نہیں دے رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
جنرل رازق طالبان کے دور میں اُن کے قید میں بھی رہے، لیکن بعد میں اُن کی قید سے بھاگ گئے تھے۔ اُن کے والد اور چچا بھی طالبان کے حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ وہ سنہ 2001 میں صوبہ قندھار کے سرحدی پولیس کے ایک کمانڈر بننے کے کچھ سال بعد پولیس سربراہ بنے۔
پولیس سربراہ بننے کے بعد اُنھوں نے قندھار پر طالبان کے کئی حملے پسپا کیے اور اُن پر طالبان قیدیوں کے ساتھ انسانی حقوق کی پامالیوں کا بھی الزم تھا۔
جنرل رازق پر الزام تھا کہ اُنھوں نے سنہ 2014 میں اپنے ساتھیوں کو خبردار کیا تھا کہ طالب قیدیوں کو اُن کے سامنے زندہ پیش نہیں کیا جائے۔ جنرل رازق کے اس بیان پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اُنھوں نے کہا تھا کہ ’وہ لوگ جو اُن پر اور اُن کی عوام پر گولیاں برساتے ہیں، اُن کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔‘
افغانستان کے صوبہ قندھار میں سب سے زیادہ طاقتور مانے جانے والے پولیس سربراہ جنرل رازق طالبان اور پاکستان کی مخالفت کے ساتھ ساتھ اُن کے تعلقات حال ہی میں افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ بھی اچھے نہیں تھے۔











