’پاکستان افغانستان کے ساتھ سرحد کی مشترکہ نگرانی پر رضامند‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مل کر سرحد پر مشترکہ نگرانی اور کارروائی کے لیے تیار ہے اور مشترکہ تعاون میں ہی اس مسئلے کا حل موجود ہے۔
اسلام آباد میں غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کہ انھیں امریکہ کی جانب سے کسی اقدامات کی کوئی فہرست نہیں ملی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے ایسی کوئی فہرست نہیں دیکھی ہے۔ پاکستان (امریکہ کو) اپنی مدد جاری رکھے ہوئے ہے اور مزید بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ہمارا اصول یہ ہے کہ ہم اپنے اتحادیوں کو سزا نہیں دیتے ہیں۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ آخر امریکہ پاکستان کے جواب سے مطمئن کیوں نہیں ہوتا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ سوال امریکہ سے پوچھا جانا چاہیے۔
نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق شاہد خاقان عباسی کا اصرار تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات محض افغانستان تک محدود نہیں ہیں۔ اِن کی 70 سال کی تاریخ ہے۔ ’یہ تعلقات کسی ایک مسئلے کے گرد نہیں گھومتے بلکہ کثیر الجہتی ہیں۔ ان میں اقتصادی اور عسکری تعلقات بھی شامل ہیں۔‘
وزارت عظمیٰ کا عہدہ سمنبھالنے کے بعد اسلام آباد میں غیر ملکی میڈیا سے اپنی پہلی بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرحد پر باڑ لگانا جاری رکھے گا اور اگر افغانستان بھی اپنی جانب باڑ لگانا چاہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔
’ہم نے دہشت گردی سے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔ آج بھی اگر آپ دونوں ممالک کے درمیان شدت پسندوں کی سرگرمیوں کا حساب کریں تو افغانستان سے پاکستان میں زیادہ شدت پسند کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین میں گذشتہ دنوں برکس اجلاس کے بعد مشترکہ بیان کے بارے جس میں پاکستان میں شدت پسند تنظیموں کا ذکر ہے کے حوالے سے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ بیان محض پاکستان سے متعلق نہیں تھا اور پانچ ممالک کا مشترکہ تھا۔ انھوں نے حالیہ دنوں میں چین کی جانب سے شدت پسندی کے مسئلے پر تازہ دباؤ سے بھی انکار کیا۔
افغانستان کی جانب سے پاکستان کو ایک دوسرے کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی اور کسی تیسرے ملک کی تصدیق کی تجویز کے بارے میں شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ انھیں اس قسم کی کسی تجویز کا علم نہیں اور کوئی ملک کسی دوسرے ملک کو نگرانی کی اجازت نہیں دے سکتا ہے۔
وزیر اعظم آئندہ چند روز میں اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ روانہ ہونے والے ہیں تاہم اس دورے میں امریکی حکام سے کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔
انڈیا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوئی کوشش ہو رہی ہے یا تعلقات منجمد ہیں اس بارے میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ انھیں تعلقات میں بہتری کی کسی نئی کوشش کا علم نہیں ہے جس کا مطلب ہے کہ انڈیا کے ساتھ تعلقات فل الحال منجمد ہیں۔
تاہم انھوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی بڑھی ہے۔ ’معمول کے سفارتی رابطے جاری ہیں لیکن مجھے کسی غیرمعمولی کوشش دکھائی نہیں دے رہی ہے۔‘








