قندھار: طالبان کے حملے میں اعلیٰ افغان سیکورٹی اہلکار ہلاک

رازق

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجنرل رازق طالبان کے بڑے حریف تھے

افغانستان کے صوبے قندھار میں افغان طالبان کی جانب سے کیے گئے ایک حملے میں صوبے کی پولیس کے سربراہ عبدالرازق اور افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس کے صوبائی سربراہ ہلاک ہو گئے جبکہ امریکی فوج کے کمانڈر بال بال بچ گئے۔

حکام کے مطابق حملہ آور باڈی گارڈ کے روپ میں تھا اور اس نے سیکورٹی افسران کے میٹنگ سے باہر نکلنے کے بعد ان پر فائرنگ کردی۔

نیٹو کے مطابق امریکی فوج کے کمانڈر جنرل سکاٹ ملر واقعے میں بچ گئے لیکن ان کے ساتھ موجود تین اور امریکی شہری شدید زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی حکام سے حاصل ہونے والی غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق جنرل ملر بظاہر حفاظتی جیکٹ کے باعث محفوظ رہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور کو بھی ہلاک کر دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق دو ہینڈ گرنیڈ کے دھماکے بھی ہوئے۔

افغان طالبان نے اس حملے کا ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس حملے کا حدف جنرل ملر اور جنرل رازق تھے۔ طالبان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں جنرل رازق کو ’ظالم پولیس چیف‘ کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

افغانستان میں اتوار کو ہونے والے انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

کابل میں موجود بی بی سی کے نمائندے سکندر کرمانی کے مطابق جنرل رازق طالبان کے بڑے حریف تھے۔

امریکی کمانڈر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکی کمانڈر جنرل ملر

افغان اور بین الاقوامی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ جنرل رازق جب ملاقات کے بعد جانے لگے تو ان پر پیچھے سے فائرنگ کی گئی اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

قندھار کی صوبائی کونسل کے سربراہ جان خاکریزوال کا کہنا تھا کہ 'گورنر سمیت دیگر صوبائی اہلکار، پولیس چیگ اور دیگر حکام غیرملکی مہمانوں کی ہمراہ جہاز کی طرف جارہے تھے جب فائرنگ کی گئی۔'

نیٹو کے ترجمان کرنل نٹ پیٹرز نے کہا کہ امریکی شہری حملہ آور کی فائرنگ کی زد میں آگئے لیکن اب انھیں وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔