افغان فوجی اڈے پر حملہ، 130 سے زائد ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
افغانسان میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی صوبے بلخ میں افغان فوجی اڈے پر ہونے والے ایک حملے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد بڑھ کر 130 سے زائد ہو گئی ہے جبکہ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
افغانستان کی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے فوجی اڈے میں قائم مسجد سے جمعے کی نماز پڑھ کر باہر نکلنے والے افراد کے علاوہ ایک کینٹین کو بھی نشانہ بنایا۔
فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان جنگجو فوجی وردی پہن کر اڈے میں داخل ہوئے اور پھر انھوں نے حملہ کر دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں دس طالبان جنگجو مارے گئے ہیں۔
اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔ ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ان کے خود کش بمباروں نے اس کارروائی میں حصہ لیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مقامی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
امریکی فوج کے ترجمان جان تھامس نے اس حملے کو 'اہم' قرار دیا تاہم انھوں نے 'اس سفاکی کو ختم کرنے' میں افغان کمانڈوز کی بھی تعریف کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک آرمی کمانڈر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جمعے کی شام تک جائے وقوع سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں اور کم از کم ایک حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
افغان فوج کے ایک ترجمان نصرت اللہ جمشیدی کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے اڈے میں واقع مسجد اور کنٹین میں فوجیوں کو نشانہ بنایا۔
مزارِ شریف میں یہ فوجی اڈہ افغان نیشنل آرمی کی 209ویں کارپ کی بیس ہے۔ یہ فوجی دستہ شمالی افغانستان میں سکیورٹی کا ذمہ دار ہے اور اس کے زیرِ نگرانی علاقے میں کندوز صوبہ شامل ہے جہاں حال ہی میں شدید لڑائی دیکھی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وہاں جرمنی سمیت متعدد ممالک کے فوجی مقیم ہیں تاہم اب تک یہ واضح نہیں کہ کیا کسی غیر ملکی فوجی کو بھی کوئی نقصان پہنچا ہے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں افعانستان کی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ ننگرہار میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ٹھکانے پر 9800 کلوگرام وزنی بم کے حملے میں کم از کم 36 جنگجو ہلاک ہوئے تھے۔
جی بی یو 43/بی نامی اس بم کو 'بموں کی ماں' کہا جاتا ہے اور یہ تاریخ کا سب سے بڑا غیر جوہری بم ہے جو امریکہ نے کسی بھی کارروائی میں استعمال کیا۔









