امریکی جنرل کا طالبان اور افغان حکام کے درمیان مذاکرات کا انکشاف

افغانستان طالبانAfghan Army commandos during an exercise in Herat, Afghanistan, 03 February 2018

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنافغانستان کی حالیہ جنگ میں پھر سے افغان فوجیں کی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جارہے ہے۔

امریکی فوج کے مطابق افغان حکام اور طالبان کے درمیان جنگ بندی کے مذاکرات کے لیے خفیہ ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل جان نکلسن نے کہا ہے کہ ان مذاکرات میں دوسرے ملکوں کی حکومتیں اور چند بین الاقوامی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔

رواں برس فروری میں افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کو مذاکرات کی پیش کش کی تھی تاہم طالبان نے اس کے جواب میں اُس وقت کچھ نہیں کہا تھا۔

ماضی میں اکثر اوقات طالبان مذاکرات سے انکار کرتے رہے ہیں جبکہ امریکی حکام مذاکرات پر زور دیتے رہے ہیں۔

گذشتہ چند ماہ سے افغانستان میں تشدد کے واقعات میں تیزی دیکھی گئی ہے جس کے نتیجے میں دونوں جانب ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیے

ابھی بدھ ہی کے روز شدت پسندوں نے کابل میں افغان وزارت داخلہ کے دفتر پر حملہ کیا تھا، جس کے ذریعے انھوں نے دارالحکومت میں اپنی حملہ کرنے کی طاقت اور صلاحیت ثابت کرنے کی کوشش کی۔

شدت پسندوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے اسی دوران افغان صوبے لوگر کے دارالحکومت میں بھی ایک پولیس سٹیشن پر حملہ کیا تھا۔

Afghan President Ashraf Ghani speaks to students at a ceremony at the University of Kandahar, in Afghanistan, on 7 October 2017.

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنافغان صدر اشرف غنی ملک میں جنگ بندی کی کوشش کررہے ہیں۔

اس دوران امریکی ذرائع نے ہلمند میں ہوائی حملوں کی تصدیق کی ہے۔ ان حملوں میں 50 کے قریب افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

افغانستان میں تعینات امریکی جنرل نکلسن نے افغانستان کی صورت حال کا کولمبیا کے حالات سے تقابلی جائزہ کرتے ہوئے کہا تشدد اور مذاکرات بیک وقت جاری رہ سکتے ہیں۔ کولمبیا میں 50 برس سے جاری خانہ جنگی کا خاتمہ امن معاہدے کے بعد ہوا تھا۔

جنرل نکلسن نے طالبان سے مذاکرات میں شریک نمائندوں کے ناموں کا انکشاف نہیں کیا البتہ یہ کہا کہ وہ درمیانے اور اعلیٰ درجے کے طالبان رہنما تھے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

فروری میں جب صدر اشرف غنی نے مذاکرات کی پیش کش کی تھی تو انھوں نے کہا تھا کہ طالبان کی حیثیت کو ایک سیاسی جماعت کے طور پر تسلیم کیا جا سکتا ہے اگر وہ جنگ بندی قبول کر لیں اور ملک کے آئین کو تسلیم کر لیں۔

طالبان نے اُس وقت اس پیش کش کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ طالبان کا موقف ہے کہ اگر وہ مذاکرات کریں گے تو صرف امریکہ سے۔

افغان حکام اور طالبان کے درمیان نئی راہیں تلاش کرنے کے لیے ابتدائی قسم کے مذاکرات کا آغاز سن 2015 میں پاکستان میں ہوا تھا لیکن یہ مذاکرات ملا عمر کی موت کی خبر آنے کے فوراً بعد ہی ختم ہو گئے تھے۔

Afghan municipality workers at the scene of a suicide bomb attack in Kabul, Afghanistan, 27 January 2018.

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنکابل میں حملے کے بعد صفائی کی جارہی ہے۔

بی بی سی کی جنوری میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق طالبان ملک کے ایک بڑے علاقے پر قابض ہیں جو کہ افغانستان سے غیر ملکی افوج کے انخلا کے بعد کے دور میں طالبان کے زیر قبضہ سب سے بڑا علاقہ ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ملک کی تقریباً ڈیڑھ کروڑ آبادی ان علاقوں میں رہتی ہے جو یا تو طالبان کے زیر قبضہ ہیں، یا جہاں طالبان کھلے عام نظر آتے ہیں اور حملے کرتے رہتے ہیں۔

گذشتہ چند ماہ میں طالبان اور دولت اسلامیہ نے کابل اور دوسرے اہم علاقوں پر حملے کیے ہیں جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان حملوں سے وہ دارالحکومت سمیت کہیں بھی حملے کرنے کی صلاحیت اور طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

انتہا پسند نظریات کے حامل طالبان کی تحریک کا عروج 1996 میں اس وقت ہوا تھا جب افغانستان اس سے پہلے ہی کئی برسوں کی خانہ جنگی کا شکار چلا آ رہا تھا جو سوویت۔افغان جنگ کے بعد شروع ہوئی تھی۔ لیکن بعد میں گیارہ ستمبر 2001 میں امریکی حملے سے طالبان کے اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا۔

Former Taliban members surrender their weapons during a reconciliation ceremony in Herat, Afghanistan, 21 February 2018.

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنطالبان کے چند گروہوں نے ہتھیار ڈال کر افغان سیاست میں شمولیت اختیار کرلی ہے مگر طالبان کے حملوں میں پھر سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

طالبان نے اپنے دور اقتدار میں سرعام موت کی سزا، جسمانی اعضا کاٹنے کی سزا اور عورتوں پر پابندیاں جیسے سخت ترین شریعہ قوانین کا نفاذ کیا تھا۔

مردوں کے لیے داڑھیاں رکھنا اور عورتوں کے لیے پورے جسم کو ڈھانپنے والا برقعہ پہننا لازمی قرار دے دیا گیا تھا۔ ٹیلی ویژن، سینیما اور موسیقی پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

طالبان نے اپنے دور اقتدار میں اور پھر اُن کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی القاعدہ تنظیم کے رہنماؤں کو پناہ دے رکھی تھی۔ اقتدار کے خاتمے کے بعد سے وہ مسلسل ایک خونی جنگ لڑ رہے ہیں۔